زکٰوۃ: فضائل و مسائل 7 170

زکٰوۃ: فضائل و مسائل

زکٰوۃ: فضائل و مسائل
رشحات قلم: مفتی حافظ محمد ندیم قادری ( پی ایچ ڈی اسکالر)
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے توحید ورسالت کی شہادت اور نماز کے بعد زکوٰۃ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے۔ یہ خالص مالی عبادت ہے جو تمام انبیائے کرام اور رسل عظام علی نبینا و علیہم الصلوات والسلام کی شریعتوں کالازمی جز و رہی ہے۔
زکوٰۃ ایک اہم فرض عبادت ہے جس کا علم حاصل کرنا ہر صاحب نصاب مسلمان کے لیے فرض ہے ۔ اسلام میں کسی بھی عمل کے شرف قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے :
۱۔ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْريءٍ مَّا نَوٰی۔ ( صحیح البخاری: باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔، الرقم : ۱)
’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ۔‘‘
۲۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایَنْظُرُ اِلٰی أَجْسَادِکُمْ وَلَا اِلٰی صُوَرِکُمْ وَ لٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ۔( الصحیح لمسلم ، الرقم : ۲۵۶۴)
’’ بے شک اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔‘‘
اسی طرح ادئیگی زکوٰۃ کے لیے بھی رضائے الٰہی کا حصول اور اخلاص نیت ضروری ہے ۔
زکوٰۃ ایک ایسی فرض عبادت ہے جس کی جگہ کوئی نفلی صدقہ و خیرات یا ٹیکس دینے سے یہ ساقط نہیں ہوتی بلکہ اس کا ادا کرنا ہر حال میں ہر صاحب نصاب پر فرض عین ہے ۔
اور عربی زبان میں ’’ مال ‘‘ کومال کہتے ہی اس لیے ہیں کہ اس کی طرف قلبِ انسانی بہت جلد مائل ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے قران کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ۔ (التغابن : ۶۴ : ۱۵)
’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد ( تمہارے لیے ) آزمائش ہی ہیں۔‘‘
جس طرح انسان کو جسمانی امراض اور عوارض لاحق ہوتے ہیں ‘ اسی طرح روحانی اور اخلاقی امراض بھی لاحق ہو جاتے ہیں۔ ان میں بہت نمایاں بیماری حب مال اور کثرت مال کی خواہش ہے جس کے نتیجہ میں تکبر، حرص، بخل، ہوس اور خود غرضی جیسی صفات رذیلہ پیدا ہو جاتی ہیں۔ان اخلاقی امراض کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت ِزکوٰۃ فرض کی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ۔(التوبۃ :۹ : ۱۰۳)
’’(اے حبیبﷺ! ) آپ ان ( مومنوں ) کے مالوں میں سے صدقہ (زکوٰۃ)لیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں ستھرا اور پاکیزہ کر دیجیے اور ان کے حق میں دعائے خیر کیجیے، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے سکون ( کا باعث ) ہے ۔‘‘
زکوٰۃ کا معنی و مفہوم:
لغت میں لفظ ’’ زکوٰۃ ‘‘ کے لغوی معنی پاکیزگی،نمو ،اضافہ اور برکت کے ہیں۔
شرعی اصطلاح میںزکوٰۃ کا مطلب ہے: مال کا ایک حصہ جوشریعت نے مقرر کیا ہے ، اللہ تعالی ٰ کی رضاکے لیے مستحق مسلمان کواس کا،اس طرح مالک بنا دینا کہ زکوٰۃ دینے والے کا اس مال سے ہر قسم کا نفع ختم ہو جائے اور مال کلی طور پر حقدار کے قبضے میں چلا جائے۔
عموماً مال ودولت سے انسان میں حرص،بخل،تکبر، اور فسق و فجور کی صفات ِرذیلہ پیدا ہو جا تی ہیں۔ اسی لیے مالی عبادت کے طور پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض کی ہے تاکہ انفاق فی سبیل اللہ سے ان امراض کا ازالہ ہو اور انسان میں قناعت، جود و سخا، انکسار، تقویٰ و حسن عمل کی اعلیٰ صفات پیدا ہوں۔
زکوٰۃ کی اہمیت:
اسلامی تعلیمات میں نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم معلوم ہوتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً بتیس آیات ایسی ہیں جن میںنماز کے ساتھ زکوٰۃ کی بھی تلقین کی گئی ہے۔
۱۔ اسی طرح احادیث میں بھی نماز کے بعد زکوٰۃ کا ذکر ہے۔۵ہجری میں وفد عبدالقیس نے حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کرجب اسلام کی تعلیمات دریافت کیںتو آپ نے اعمال میں سب سے پہلے نماز اور پھر زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔
۲۔ ۹ہجری میں جب رسول اللہ ﷺنے حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا توآپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذٰلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي اليَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذٰلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةَ أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ۔
( سنن الترمذی : کتاب الزکوٰۃ، الرقم: ۶۲۵)
’’ تم اہل کتاب لوگوں کے پاس جارہے ہو، سب سے پہلے تم انہیں توحید کی دعوت دینا،جب وہ توحید کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اورجب وہ اس پر عمل پیرا ہو لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے جوان کے مالداروں سے وصول کرکے ان کے غریبوں میں لوٹا دی جائے گی۔‘‘
۳۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
حَصِّنُوْا أَمْوَالَکُمْ بِالزَّکوٰۃِ، وَدَاوُوْا أَمْرَاضَکُمْ بِالصَّدَقَۃِ، وَاسْتَقْبِلُوْا أَمْوَاجَ الْبَلَائِ بِالدُّعَائِ وَ التَّضُرِّعِ۔ ( المراسیل لأبی داؤد: باب فی الزکوٰۃ، الرقم : ۳۲۷۹)
’’اپنے مال و دولت کو زکوٰۃ کے ذریعے بچاؤ، اور اپنی بیماریوں کا علاج صدقہ کے ذریعہ کرو، اور مصیبت کی لہروں سامنادعا اور گریہ زاری کے ذریعہ کرو ۔‘‘
مال حرام سے صدقہ کرنا :
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آقا کریم ر ء و ف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهٗ فِيهِ أَجْرٌ، وَكَانَ إِصْرُهٗ عَلَيْهِ۔ ( المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب الزکوٰۃ، الرقم : ۱۴۴۰)
’’ جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اور جو شخص حرام مال جمع کرے اور پھر اسے ( ثواب کی نیت سے ) صدقہ کر دے تو اسے اس صدقہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا بلکہ اس کا بوجھ اس پر ہو گا ۔‘‘
زکوٰۃ ادا نہ کرنے کا وبال:
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
۱۔ وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآاٰتٰئھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ (آل عمران : ۳ : ۱۸۰)
’’اور جو لوگ اس مال میںجسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے عطافرمایا ہے بخل کرتے ہیں(اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ ایسا مال ان کے حق میں خیر ہے بلکہ یہ ان کے لیے شر ہے اور عنقریب قیامت کے دن ان کے گلے میں بخل سے جمع کئے ہوئے مال کا طوق پہنایا جائے گا، اور آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے ۔‘‘
۲۔ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُہُمْ وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ۔ (التوبۃ : ۹ : ۳۴، ۳۵)
’’اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدامیں خرچ نہیں کرتے(زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) تو(اے نبیﷺ)انہیں اس دن کے درد ناک عذاب کی وعید سنایئے جب اس( جمع کیے ہوئے مال )کودوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گااور پھر اس سے ان کی پیشانیاں،پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور ان سے کہا جائے گا) یہ ہے اس مال کا انجام ،جسے تم نے (بے پناہ چاہت سے) جمع کیا تھا تو اب اپنے (اس) مال کا مزہ چکھوجو تم ( دنیا میں بخل سے) جمع کیا کرتے تھے۔‘‘
تارک زکوۃ کے لیے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میںوعید :
۱۔ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کے بارے میں حضور نبی کریم رؤف رحیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ارشاد گرامی ہے :
مَا مَنَعَ قَوْمٌ مِّنَ الزَّکٰوۃِ اِلَّا ابْتَلَاھُمُ اللّٰہُ بِالسِّنِیْنَ۔ ( المعجم الاوسط للطبرانی: الرقم: ۴۵۷۷)
’’جب کوئی قو م مجموعی طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر قحط سالی مسلط کر دیتا ہے۔‘‘
۲۔ اسی طرح زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا انجام کار اپنے مال کو ضائع کر بیٹھتا ہے اور اس سے زیادہ دیر مستفید نہیں ہو سکتا۔ حضور نبی اکرم، محبوب دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی قدر ہے:
مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالًا إِلَّا أَهْلَكَتْهُ۔ (شعب الایمان للبیھقی: فصل فی الاستعفاف، الرقم : ۳۲۴۶)
’’صدقہ کامال جس مال میں شامل رہا ‘ اسے ہلاک کر دیا۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہتے ہیں : اس حدیث میں مذکور لفظ صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔ گویا زکوٰۃ ادا نہ کرنا اپنے مال کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔اور کو ئی بھی ذی شعور فرد اپنا مال، جو اس نے بڑی محنت سے کمایا تھا ،ضائع کر نے پر تیا ر نہیں ہو گا۔ لہٰذا اپنے مال کی حفاظت کا واحد انتظام اپنے مال میں سے اللہ کے حکم کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔اور ویسے بھی انسان کی جان ومال بلکہ ہر شئے کا حقیقی مالک تواللہ تعالیٰ ہے اور خصوصاً بندۂ مومن سے اس کے جان و مال کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے‘ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :
اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ۔ (التوبۃ : ۹ : ۱۱۱)
’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے کہ ان کے لیے جنت ہے ۔‘‘
لہٰذا اس معاہدہ بیع کے بعد بندہ مومن کے پاس موجود مال اور اس کی جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ، وہ اس میں من مانی نہیں کر سکتا بلکہ اسے طبیعت کی بجائے شریعت کے مطابق بروئے کار لانے کا پابند ہے۔
انسان سے مال کی باز پرس ہو گی :
انسان کو شریعت کی مقررکردہ حدود کے اندر اپنی جان ومال پر تصرف کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہ شرعی قیود مال کمانے ،جمع کرنے اورخرچ کرنے پر ہر جہت سے عائد ہوتی ہیں۔حلال و حرام اور کسبِ مال وصرف ِمال کے شرعی احکام اسی مقصد کے لیے ہیں اور قیامت کے دن اسی کی باز پرس ہوگی۔انسان بعض اوقات اپنے بیوی،بچوں اور اہل و عیال کی جائز و ناجائز فرمائشوں اور خواہشات کی تکمیل کی خاطر ان شرعی احکام کو نظر انداز کردیتا ہے اور پھر ایک دن داعی اجل کو لبیک کہنا پڑتا ہے،اس وقت سارا جمع شدہ مال دھرے کا دھرارہ جاتا ہے۔مال پر وارث دادِ عیش دیتے ہیںاورحساب بندے کو دینا پڑتا ہے۔
بیداریٔ فکر کے لیے چند ایک ارشاد ات باری تعالیٰ ملاحظہ ہوں :
۱۔ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ (التکاثر : ۱۰۲ : ۱، ۲)
’’ تمہیںبہت مال جمع کرنے کی خواہش نے(آخرت کی جواب دہی سے)غافل کر دیا ہے ،یہاںتک کہ تم قبروں میں جا کر (اس کا انجام ) دیکھ لو گے ۔‘‘
۲۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْنَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
’’اے ایمان والو! اللہ ( کی نافرمانی ) سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ٰہے، اور اللہ سے ڈرو، بے شک تم جو بھی عمل کرتے ہو ‘ اللہ کو اس کی خبر ہے ۔‘‘ (الحشر : ۵۹ : ۱۸)
۳۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْامِمَّارَزَقْنٰکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخُلَّۃٌ وَّ لَاشَفَاعَۃٌ ۔
(البقرۃ : ۲ : ۲۵۴)
’’اے ایمان والو! جو ( مال ) ہم نے تمہیں دیاہے ‘ اس میں سے(اللہ تعالیٰ کی راہ میں) اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو ،جس دن نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ ( کافروں کو کسی کی ) دوستی ( کام آئے گی ) اورنہ ( بغیر اذن الٰہی ) کوئی سفارش چلے گی۔‘‘
اللہ تعالیٰ کتنا رحیم و کریم ہے کہ خود اپنے بندے کو مال ودولت سے نوازتا ہے اور پھر امتحان کے طور پر اس سے فرماتا ہے:
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَأَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَاللّٰہِ ھُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ أَجْرًا۔ (المزمل : ۷۳ : ۲۰)
’’اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو قرض ِحسن دو ( اس کے راستے میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی خرچ کرو ) اور جو بھی نیکی تم(زکوٰۃو صدقات کی صورت میں اپنی عاقبت کے لیے)آگے بھیجوگے تو اسے اللہ کی بارگاہ میں(اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے سے بدرجہا ) بہتر اور ثواب میں بڑا پائو گے۔‘‘
لہٰذا قرآن مجید کی ان آیات مقدسہ کی تعلیم یہ ہے کہ بندہ مومن کو اپنی کمائی میں سے مقررہ حصہ نکال کر اللہ تعالیٰ کی امان وحفاظت میں دینا چاہیے تاکہ آگے چل کر انسان کے کام آسکے۔
حضرت امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ سے کسی نے پوچھا : اگر کوئی چاہے کہ اس کا سارا مال اس کے ساتھ قبر میں جائے تو اس کی خواہش کی تکمیل کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے فرمایا:وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے ،وہ سارے کا سارامال اجر کثیر کی صورت میں اسے قبر و حشر میں مل جائے گا۔
غالباً امام رازی نے یہ مفہوم اس حدیث سے اخذ کیا ہے جس میں ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ سے مروی ہے :
أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلاَّ كَتِفُهَا قَالَ: بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا۔ ( جامع الترمذی: ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، الرقم: ۲۴۷۰)
’’ ایک دفعہ ( کاشانۂ نبوت میں ) انہوں نے ایک بکری ذبح کی، ( حضور اکرمﷺ گھر تشریف لائے ) توآپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کچھ بچا ہے؟ام المؤمنین نے عرض کیا : ایک دستی کا گوشت بچا ہے باقی خرچ ہو گیا ہے، ( یعنی اللہ تعالیٰ کے نام پر صدقہ کر دیا ہے )۔ آپ ﷺ نے فرمایا 🙁 اس طرح نہ کہو بلکہ یوں کہو جو اللہ تعالیٰ کے نام پر دے دیا ہے ) وہ سب بچ گیا ہے(یعنی آخرت کے لیے)سوائے اس دستی کے ( گوشت کے جو گھر والوں کیلئے بچا ہے ‘ وہ حقیقت میں خرچ ہو گیا ہے)۔ ‘‘
عہد صدیقی ؓ میں نظام زکوٰۃ کا نفاذ:
خلیفۃ الرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب بعض لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور فرمایا:
وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ المَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلٰى مَنْعِهَا۔ ( صحیح البخاری: باب وجوب الزکوٰۃ، الرقم : ۱۴۰۰)
’’ قسم بخدا! جو شخص نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا ‘ میں اس سے جنگ کروں گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔اور اللہ کی قسم! جو لوگ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھیڑ کاایک بچہ بھی دیتے تھے ، اگر وہ مجھے اس سے روکیں گے تو میں ان کے خلاف لڑائی کروں گا ۔‘‘
فرضیتِ زکوٰۃکی شرائط :
مرد و عورت پر زکوٰۃ فرض ہونے کی چند شرائط ہیں:
۱۔ مسلمان ہونا۔(کافر پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے)
۲۔ عاقل ہونا۔(دیوانے اور مجنون پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے)
۳۔ بالغ ہونا۔(نابالغ پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہے)
۴۔ نصاب شرعی کامالک ہونا(یعنی صاحب نصاب ہونا)
۵۔ نصاب پر پورا ایک قمری سال گزر جانا۔( پہلی مرتبہ صاحب نصاب ہونے پر )
۶۔ نصاب حاجات اصلیہ سے زائد ہو۔یعنی رہائشی مکان،سواری، پہننے کے کپڑے،گھریلو ضرورت کا سامان، ضرورت کے لیے کتابیں ،کمپیوٹر اور اس کے متعلقات اور فون وغیرہ سے زائد ہو۔
۷۔ مال ‘ نامی ہو۔خلقی طور پر(in born) مال ہو جیسے سونا چاندی،اس پر ہر صورت زکوٰۃ فرض ہے اگر بقدر نصاب ہوں ، چاہے کاروبار میں لگایا ہو یا نہ لگایا ہو، اور چاہے صرف بطور زینت پہننے کے لیے ہو۔
ان کے علاوہ باقی اموال اگر تجارت کی نیت سے ہوں تو ان پر زکوٰۃہے۔یا پھر سائمہ یعنی سال کا اکثر حصہ عمومی چراگاہوں میں چرنے والے جانور ہوں توان پر بھی زکوۃ ہے۔
۸۔ مال ایسے قرض سے خالی ہو جس کا بندوں کی طرف سے مطالبہ کیا جاسکتا ہو(کیونکہ اگر قرض نکالنے کے بعد وہ صاحب نصاب نہ رہے تواس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔)
نصابِ زکوٰۃ :
نصاب سے مراد وہ کم از کم مالیت ہے جس کا مالک ہونے سے ایک مسلمان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے اور نصاب شرعی کی مقدار یہ ہے : 612.36گرام چاندی یا اس کی رائج الوقت قیمت کے مساوی نقد رقم،یامال تجارت جو اس کی حاجت اصلیہ سے زائد ہو،یا87.48 گرام سونا یا اس کی رائج الوقت قیمت کے مساوی نقد رقم یا مال تجارت جو اس کی حاجت اصلیہ سے زائد ہو ۔آج کل سونے اور چاندی کے نصاب کی مالیت میںتقریبا ایک اور سات کی نسبت ہے۔ فقہائے کرام نے کہا ہے کہ اگر اموال متفرق ہوں(یعنی کچھ سونااور کچھ چاندی اور دیگر اموال)یا صرف چاندی ہو،تو چاندی ہی کے نصاب کا اعتبار ہو گا تاکہ ناداروں کو فائدہ ہو۔
قمری سال گزرنے کا مفہوم:
فرضیتِ زکوٰۃ کے لیے ضروری ہے کہ مال پر سال گزر جائے،اسے فقہی اصطلاح میں حولان حول کہتے ہیں۔ شریعت کی رو سے جس دن کوئی بالغ مسلمان مرد یا عورت زندگی میں پہلی بار( پہلے بیان کردہ تفصیل کے مطابق) کم از کم نصاب کا مالک ہو جائے تو ہجری کیلنڈر کی اسی تاریخ سے وہ صاحب نصاب قرار پاتا ہے لیکن اس پر اسی دن سے زکوٰۃ فرض نہیںہوتی بلکہ جب تک اس نصاب پر اس کی ملکیت میں ایک قمری سال نہ گزر جائے تب تک زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی،تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ سال بھر کے دوران صاحب نصاب کی ملکیت میں کم از کم نصاب کا رہنا ضروری ہے ۔مال کے ہرجز وپر(خواہ وہ نقد رقم ہو یا سونا چاندی کی صورت میںہو یا صنعت و تجارت کا مال ہو) سال گزرنا زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے لازمی نہیں ہے، اگر مال کے ہرجزو پر سال گزرنے کی شرط کو لازم قرار دیا جائے تو تاجر حضرات کے لیے زکوٰۃ کاحساب نکالنا(ASSESSMENT) تقر یباً ناممکن العمل ہو جائے۔زکوٰۃ کی تشخیص کی مقررہ تاریخ سے چند دن پہلے بھی اگر مال صاحب نصاب کی ملکیت میں آجائے تو اسے پہلے سے موجودہ مال میں شامل کر کے کل مال پر زکوٰۃ اداکرنا ضروری ہے۔
اموالِ تجارت پر زکوٰۃ:
٭ مسلمان تاجر کی ملکیت میں جو بھی مال ہے یعنی نقد رقم،بینک اکائونٹ،بانڈز،ڈیپازٹس،سونا ،چاندی اور مال تجارت وغیرہ سب کی مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔زکوٰۃ ادا کرتے وقت سونا چاندی کی اور مال تجارت کی اس وقت کی قیمت معتبر ہے جو زکوٰۃ ادا کرنے کے وقت ہوگی یعنی قیمت خرید کا اعتبار نہیں ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان تاجر کو زکوٰۃ کی مقررہ تاریخ پر اپنے مال تجارت کی محتاط اسٹاک چیکنگ اور قدر (valuation ) یعنی صحیح قیمت کا تعین کرنا چاہیے۔
٭ وہ کارخانہ جو پیداواری مقاصد کیلئے استعمال ہورہا ہے،اس کی زمین ،عمارت، متعلقہ تنصیبات اور مشینری جوصنعتی پیداواری مقاصد میں استعمال ہورہی ہے، کی قیمت پر زکوٰۃ عائد نہیں ہو گی البتہ مسلمان صنعت کار کو اپنے دیگر تمام اموال کے ساتھ کارخانے میں موجود خام مال،تیار مال اور مارکیٹ میں کریڈٹ پر دیئے ہوئے تمام مال پر بھی زکوٰۃ ادا کرناہوگی۔
٭ تاجر حضرات کا اکثر مارکیٹ میں لین دین جاری رہتا ہے،کسی سے کچھ لینا ہے اور کسی کو کچھ دینا ہے،تجارت سے ہٹ کر بعض اوقات لوگوں کا شخصی لین دین بھی ہوتا ہے ۔لہٰذ ا تشخیص زکوٰۃ کے وقت واجب الوصول رقم کو اپنی مالیت میں جمع کرکے اس سے واجب الادا رقم کو منہا کر دیا جائے ۔اس کے بعد جو مجموعی مالیت بنے گی اس پر زکوٰۃ دی جائے گی۔
٭ سونا اور چاندی شریعت اسلامیہ کی رو سے خلقی طور پر(in born) مال ہیں،لہٰذا یہ کسی بھی ہیئت (Form,Shape) میں ہوں ، ان پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاًبرتن، مالیاتی سکے(Coins)یا چاندی کی ڈلی اور ا ستعمال کے زیورات وغیرہ ۔
زیورات پر بھی زکوٰۃ فرض ہے :
۱۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا، وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هٰذَا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟ قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهٖ۔ ( السنن لابی داؤد: باب الکنز ما ھوو زکوٰۃ الحلی، الرقم: ۱۵۶۳)
ّّّّ’’ ایک خاتون اپنی ایک بیٹی کو لے کررسول اللہ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ اس لڑکی کے ہاتھوں میں سونے کے موٹے اور بھاری کنگن(Grasping) تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کنگنوں کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے عرض کیا : نہیں، حضورﷺ نے فرمایا: تو کیا تم اس بات پر خوش ہو گی کہ اللہ تعالیٰ(زکوٰۃ نہ دینے کی بنا ء پر) ان کنگنوں کے عوض قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟یہ وعید سنتے ہی اس نے وہ کنگن اتار کر رسول اللہﷺ کو دے دیئے کہ یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی راہ میں صدقہ ہیں۔ ‘‘
۲۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں:
أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهٗ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ۔ ( المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب الزکوٰۃ، الرقم : ۱۴۳۸)
’’ میں سونے کے اوضاح(ایک خاص قسم کا زیور)پہنتی تھی، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺسے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ بھی اس کنز میں شامل ہے؟(جس پر سورہ توبہ آیت نمبر:۳۴۔۳۵ میں عذاب جہنم کی وعید آئی ہے)۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو سونے کے زیورات اتنی مقدار کو پہنچ جائیں کہ ان پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہو اور پھر ان کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو ان پر کنز کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘‘
ان احادیث مبارکہ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ استعمال کے زیورات پر بھی زکوٰۃ فرض ہے،کیونکہ دونوں خواتین نے سونے کے زیورات پہن رکھے تھے۔
البتہ اگر سونا یا چاندی مخلوط ہوں اور کسی اور چیز کی ملاوٹ اس میں ہو توغالب جزو کا اعتبار ہوگایعنی اگر شئے مخلوط میں غالب مقدار سونا ہے تو اسے سونا قرار دے کر ان کی زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی ‘ ورنہ نہیں،البتہ ہیرے اور دوسرے قیمتی پتھرمثلا زمرد، عقیق،یاقوت وغیرہ اگر تجارت کے لئے ہیں تو ان پر زکوٰۃ ہے، ذاتی استعمال میں ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
مصارف ِزکوٰۃ:
قرآن مجید نے فرضیت زکوٰۃ کو تو وضاحت کے ساتھ متعدد مقامات پر بیان کیا ہے لیکن نصاب وشرائط زکوٰۃ کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔یہ تمام تفصیلات ہمیں احادیث طیبہ میں ملتی ہیں،البتہ جس شعبہ زکوٰۃ کو قرآن نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ مصارفِ زکوٰۃ کا شعبہ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَائِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (التوبۃ : ۹ : ۶۰)
’’ زکوٰۃ تو صرف ضرورت مندوں اور جن کے پاس کچھ نہیں اور زکوٰۃ حاصل کر کے لانے والوں اور ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مانوس کیا جائے اور ( غلاموں کی ) گردنوں ( کے چھڑانے ) میں اور قرض داروں ( کے قرض اتارنے ) اور اللہ کی راہ ( مجاہدوں، دینی طالب علموں وغیرہ )اور مسافروں ( کی مدد ) میں ( خرچ کی جائے ، یہ صدقات ) اللہ کی طرف سے فرض کیے ہوئے ہیں ۔‘‘
۱۔ فقیر : وہ شخص جس کے پاس کچھ تھوڑا سا مال و اسباب ہے لیکن نصاب کے برابر نہیں ۔ { FR 76 }
۲۔ مسکین : وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ { FR 77 }
۳۔ عاملینِ زکوٰۃ : جو لوگ زکوٰۃ کا مال اکٹھا کرنے پر مامور ہوں۔
۴۔ مؤلفۃ القلوب: وہ لوگ جن کی اسلام کے لیے دل جوئی مقصود ہو۔
۵۔ وفی الرقاب :جنہیںطوقِ غلامی سے آزاد کرانا مقصود ہو۔
۶۔ والغارمین :جو بار قرض تلے دبے ہوں یا ان پر کوئی بڑامالی تاوان آپڑا ہو۔
۷۔ وفی سبیل اللہ :جو اپنے آپ کو ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے وقف کرچکے ہوں اور معاشی تگ ودو کے لیے انہیں وقت میسر نہ ہو، جیسے دین کا طالب علم اورمجاہد فی سبیل اللہ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لِلْفُقَرَائِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَائَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا۔ (البقرۃ : ۲ : ۲۷۳)
’’ ( تمہارے صدقات ) ان حاجت مندوں ( دین کے طلباء و علماء ) کے لیے ہیں جو اللہ کی راہ میں روکے گئے ( یعنی دینی مصروفیات کی وجہ سے ) زمین میں چل پھر نہیں سکتے ، سوال کرنے سے بچنے کے سبب نا واقف انہیں ( ضروریات سے ) بے نیاز سمجھتا ہے ۔ تم انہیں ان کی ( وضع قطع کی ) نشانی سے پہچانتے ہو ، وہ ( شرم کے سبب ) لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے ۔‘‘
۸۔ وابن ا لسبیل : جو مسافر کسی ایسے مقام پر گھر گیا ہو کہ قوت ِلایموت(زندگی کی بنیادی ضروریات) دستیاب نہ ہوں اور مسافر کا گھر سے مالی معاونت کا حصول ممکن نہ ہو۔
ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تفتیش و تحقیق :
حدیث شریف میں حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا:مجھے زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ عطافرمایئے!حضور پرنور ﷺ نے ارشادفرمایا:
إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهٖ فِي الصَّدَقَاتِ، حَتّٰى حَكَمَ فِيهَا هُوَ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ۔ ( السنن لابی داؤد: باب من یعطی من الصدقۃ، الرقم: ۱۶۳۰)
’’ اللہ تعالیٰ نے مصارفِ زکوٰۃ کے معاملے کو کسی نبی یا غیر نبی کی مرضی پر نہیں چھوڑابلکہ خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے اور اس کی آٹھ اقسام بیان فرمائی ہیں اگر تم ان میں سے کسی قسم کے تحت حقدار بنتے ہو تو میں تمہیں دے دوں گا (ورنہ نہیں)۔‘‘
لہٰذاہماری ذمہ داری صرف زکوٰۃ نکالنا ہی نہیں ہے بلکہ اصل مستحقین تک پہنچانا اور جائز مصارف پر صرف کرنا بھی ہم پر لازم ہے ورنہ زکوٰۃ ادانہیں ہوگی۔
زکوٰۃ کے بعض دیگر مسائل:
٭ اسلامی عبادات خواہ بدنی ہوں(جیسے نمازاورحج وغیرہ)یامالی(جیسے زکوٰۃ و صدقات وغیرہ)یہ ہرعاقل وبالغ مسلمان پرفرداً فرداً عائدہوتی ہیں۔ خاندان پر بحیثیت مجموعی عائد نہیں ہوتیں۔لہٰذا والدین،اولاد،شوہروبیوی میں سے جو بھی صاحب نصاب ہو گا، اس پر زکوٰۃ فرض ہو گی اور اسے اپنے مال میں سے زکوٰۃادا کرنا ہوگی۔ہاں اگر شوہر بیوی کی طرف سے یا اولاد والدین کی طرف سے ان کی مرضی اور اجازت سے زکوٰۃ اداکریں تو ادا ہو جائے گی۔
٭ ذاتی استعمال کا مکان زکوٰۃ سے مستثنٰی ہے۔اسی طرح ذاتی مکان کیلئے خریدا ہوا پلاٹ بھی زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے۔
٭ وہ مکان یا پلاٹ یا دکانیں جوکرائے پر دیئے ہوئے ہیں،ان کی مالیت پر زکوٰۃ نہیںالبتہ ان کی سالانہ آمدنی سے اخراجات نکالنے کے بعد جو رقم باقی بچے گی ‘ وہ مالک کی مجموعی سالانہ آمدنی میں جمع ہوگی اور تمام ذرائع آمدن سے سال کے اختتام پر( اخراجات نکالنے کے بعد) جو رقم بچت (Saving) ہو گی ، اگر وہ رقم نصاب کو پہنچے تو اس پر زکوٰۃ ہے۔
٭ ایسے مکانات،پلاٹس اوردوکانیں جو کاروباری اور تجارتی مقاصد کے لیے ہیں ،ان سب کی مالیت پر زکوٰۃ ہے اور اس میں قیمت خرید کا اعتبار نہیں بلکہ موجو دہ قیمت کا اعتبار ہو گا، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔
٭ کرائے پر لیے ہوئے مکان اوردکان وغیرہ کے ڈیپازٹ کی جو رقم جائیداد کے مالک کے پاس بطورزر ضمانت جمع ہے ‘ اس کی زکوٰۃ رقم کا اصل مالک(کرایہ دار)ادا کرے گا۔
٭ تاجر حضرات اور ایجنسی ہولڈرز وغیرہ کی جو رقوم بطور ضمانت کسی ادارے یا فرم کے پاس جمع ہیں اور قابل واپسی ہیں،اس رقم کی زکوٰۃ اصل مالک (Depositer) کو اداکرنا ہو گی۔
٭ ذاتی استعمال کی گاڑی ،مثلاً موٹر سائیکل،کار وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں۔اسی طرح کرائے پر چلائی جانے والی کار،ٹیکسی،بس اور ٹرک وغیرہ کی قیمت پر بھی زکوٰۃ نہیں۔البتہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن سے اخراجات نکالنے کے بعداگر رقم بقدر نصاب ہو تو اس پر زکوٰۃ ہے ‘ ورنہ نہیں۔
٭ آبپاشی اور کھیتی باڑی کیلئے جو اونٹ اور بیل وغیرہ پالے گئے ہوں ‘ ان پر بھی زکوٰۃ نہیں ۔اس میں اصول یہ ہے کہ جو شخض اپنے کاروبار میں جن عوامل پیدائش سے کام لے رہا ہو،وہ عوامل زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں۔حدیث پاک میں فرمان رسول ﷺ ہے:
لَیْسَ فِی الْاِبِلِ الْعَوَامِلِ صَدَقَۃٌ۔ (سنن الدار قطنی: باب لیس فی العوامل صدقۃ، الرقم: ۱۹۳۸)
’’ جن اونٹوں سے کام لیا جاتا ہو ان پر زکوۃ نہیں۔‘‘
٭ کارخانے ( (FACTORIESکے آلات و مشینری پر زکوٰۃ نہیں۔نیز کارخانوں کی عمارت،فرنیچر اور دیگر ضروری سامان پر بھی زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح پیداواری آلات پر بھی زکوٰۃ نہیں۔
٭ DAIRY FARMS کے جانوروں پر بھی زکوٰۃ نہیں۔اس لیے کہ یہ سب عوامل کی تعریف میں آتے ہیں۔البتہ ڈیری فارمز کی مصنوعات(PRODUCTS) کے منافع پرزکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم لاگو ہو گا۔
٭ وہ جانور جو بیچنے کے لیے پالے جاتے ہوں ‘ وہ مال تجارت کے حکم میں ہوں گے ، ان کی موجودہ قیمت پر زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔
جن لوگوں کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے:
٭ خاندان بنو ھاشم (نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خاندان) کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔جن میں آل علی ،آل عقیل،آل جعفر،آل عباس اور آل حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔جو شخص ان پانچ بزرگوں کی نسل پاک سے ہو ‘ اسے زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی ۔البتہ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قرابت و نسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کی خدمت نفلی صدقات سے کرنا بڑے اجر کا باعث ہے۔
٭ قربت دار اگر صاحب نصاب نہ ہوں بلکہ مفلس و نادار ہوں تو ان کو زکوٰۃ دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل ہے۔تاہم اپنے اصول (ماںباپ،دادا دادی،نانا نانی وغیرہ)اورفروع(بیٹا بیٹی،پوتا پوتی،نواسا نواسی وغیرہ)کو زکوٰۃ دینے سے ادا نہیں ہوگی۔بہو، داماد،سوتیلے باپ،سوتیلی ماںاوردوسری بیویوں سے شوہر کی اولادکو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔البتہ بہن بھائی بشرط ِاستحقاق ایک دوسرے کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔
٭ ملکی دفاع،تعلیم ،صحت اور دیگر رفاہ عامہ کے کاموں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیںکی جا سکتی۔اور نہ ہی کسی ادارے کی تعمیر میں یا آلات وغیرہ کے خریدنے میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔
٭ غیر مسلم اگرچہ ضرورت مند ہو،اسے زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جا سکتی ۔ البتہ دیگر رقوم خیرات سے ضرورت مند غیر مسلم کی مدد کرنی چاہیے۔
٭ زکوٰۃ کی رقم مسجد میں لگا دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہو تی ،نہ ہی اسے مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کر سکتے ہیں۔اور اسی طرح رفاہی اداروں کی تعمیر، ان کے لیے آلات،مشینری اورگاڑیاں وغیرہ خریدنے پر زکوۃ کی رقم نہیںلگائی جا سکتی ہے ‘ کیونکہ یہاں کسی ضرورت مند کی شخصی ملکیت میں رقوم نہیں دی جا تیں۔
٭ بیوہ اور یتیم کو زکوٰۃ دینا مستحسن ضرورہے لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ وہ( بیوہ اور یتیم)زکوٰۃ کے مستحق ہوں اور صاحب نصاب نہ ہوںورنہ زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔
محترم قارئین ! ان مختصر صفحات میں زکوٰۃ کے حوالے سے یہ چند بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ مزید راہنمائی کے لیے مفتیان کرام سے رجوع فرمائیں۔ دعا ہے اللہ کریم ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم الصادق الأمین۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں