رویت ہلال یا فتنہ پروری 220

رویت ہلال یا فتنہ پروری از مفتی گلزار احمد نعیمی

رویت ہلال یا فتنہ پروری
از مفتی گلزار احمد نعیمی (سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان)
آج مورخہ 4 جون 2019ءاور 28 رمضان 1440 ھ ہے۔آج پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ میں مولوی پوپلزئی کی اتباع میں کے پی کے حکومت نے سرکاری سطح پر عید الفطر منانے کا اعلان کیا ہے۔ہمارے دوستوں نے رویت ہلال کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔قرآن وسنت کے بڑے دلائل کی صورت میں رویت ہلال کے شرعی نقطئہ نظر کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی سب کو اجر جزیل عطا فرمائے۔آمین۔
قرآن مجید نے چاند کے بارے میں ایک نہایت ہی اہم آیت مبارکہ کا ذکر فرمایا ہے جسے میں آغاز کلام میں تحریر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔جب لوگوں نے چاند سے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف قسم کے سوالات کرنا شروع کر دیے کہ کبھی یہ ایک لیکر کی مانند ہوتا ہےتو کبھی بدر کامل کی شکل میں،یہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے؟اس پر آیت مبارکہ نازل ہوئی۔یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقیت للناس بالحج(البقرہ:189)ترجمہ:اے نبی وہ آپ سے نئے چاند(ہلال) کے( گھٹنے ،بڑھنے) بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرمادیجیے یہ لوگوں کی میعادیں اور حج کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالی نے بہت سے حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی کو چاند کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔یہ رب العزت کا حسن انتظام ہے کہ اس نے دن اور رات کو سورج کے ساتھ اور ماہ وسال کو چاند کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور دونوں کے ذریعے اللہ نے اپنے بندوں کو حقوق کی ادائیگی کا خوگر بنا دیا ہے۔چاند کی رویت کے بغیر ماہ و سال کی تعیین نہیں ہوسکتی اور ماہ و سال کی تعیین کے بغیر حقوق ادا نہیں ہوسکتے۔ اس آیت میں لفظ مواقیت بہت اہم ہے۔یہ انسانی زندگی کے معاملات کی تعیین کی طرف اشارہ ہے۔زکوۃ کی ادائیگی رمضان المبارک کا افتتاح واختتام،خواتین کی مدت حیض ونفاس کا تعین،ادائیگی قرض وغیرہ۔گو کہ یہ چیزیں شمسی کیلنڈر سے بھی سرانجام دی جاسکتی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں شمسی کیلنڈر ہو یا قمری ان کی ترجیح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ان کے اپنے دائرہ کار ہیں۔دونوں قابل استعمال ہیں اور ہورہے ہیں۔جن معاشروں میں اسلامی روایات غالب ہیں وہاں بھی دونوں کیلنڈر استعمال ہورہے ہیں۔اس لیے جو معاملات زندگی چاند کے ساتھ وابستہ ہیں انہیں چاند کے مطابق حل کرنا چاہیے جیسے رمضان عیدین اور حج ہیں اسی طرح جو سورج کے ساتھ وابستہ ہیں انہیں سورج کے مطابق حل کرنا چاہیے جیسے اوقات پنجگانہ نماز وغیرہ۔یاد رکھیں۔۔! ان دونوں نظاموں کے درمیان کوئی تضادو تناقض نہیں ہےکہ ایک کے استعمال سے دوسرے کی مخالفت لازم آئے۔اس لیے یہ کہنا کہ قمری کیلنڈر کی مخالفت کرنے والے گھڑی کے مطابق نمازیں کیوں ادا کرتے ہیں یہ لغو بات ہے۔نمازوں کے اوقات چاند کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ دن اور رات کے ساتھ ہیں اور دن رات کا تعلق سورج کے طلوع وغروب سے ہے نہ کہ چاند سے۔
ہمیں چاند کی رویت کے ساتھ اتنا ہی تعلق ہے جتنا ہمارے دین کے لیے ضروری ہے۔قرآن مجید نے بھی ہمیں یہیں تک محدود رہنے کا حکم فرمایا۔اسی لیے جب لوگوں نے رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں سوالات کیے تو اس کے جواب میں قرآن مجید نے اس کے گھٹنے اور بڑھنے کے فسلفہ کو بیان نہیں فرمایا بلکہ ایک نہایت ہی نپا تلا جواب دیااور نہایت مختصر جواب دیا۔قل ھی مواقیت للناس والحج۔آپ فرما دیجیئے کہ یہ دنیاوی اور دینی کاموں اور حج کی نشانیاں ہیں۔یعنی تمہارے لیے صرف یہ اہم ہے کہ تم چاند کے گھٹنے اور بڑھنے سے اپنی دنیا اور اپنے دین کے امور طے کرو۔اس چکر میں مت پڑو کہ اسکے گھٹنے اور بڑھنے کا کیا فسلفہ ہے۔
اس بنیادی بات کا تذکرہ کرنے کے بعد ہم اس انتشار کی جانب آتے ہیں جو وطن عزیز پاکستان میں رویت ہلال کی وجہ سے تقریبا ہر سال پیدا ہوتا ہے۔اس انتشار کی وجہ سے قوم کو بے حد پریشان اور بے انتہاء کنفیوز کیا جاتا ہے۔پاکستان میں اداروں کی آپس کی لڑائی نے ملک کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور مذہب کو بھی۔لیکن آجکل ایک لڑائی جو بہت خطرناک صورت اختیار کررہی ہے وہ اہل مذہب اور سیکولر طبقہ کی لڑائی ہے۔سیکولر ذہنیت کے لوگ علماء کی مخالفت کی آڑ میں مذہب کی مخالفت کررہے ہیں،انکا مقصد علماء کی مخالفت نہیں ہے بلکہ پاکستان میں شجر اسلام کی مضبوط جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ہر وہ اختلاف جس سے مذہب کمزور ہو وہ اسے ہوا دے رہے ہیں۔اور جان بوجھ کر ایسی ابحاث کا آغاز کرتے ہیں جن کے ذریعے اسلام نشانہ بن سکے۔دیوبندی چاند اور بریلوی چاند کی مصطلحات اسی طبقہ کی تراشیدہ ہیں جو مذہب بیزار سیکولر طبقہ ہے۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر باقاعدہ سرمایہ کاری ہورہی ہے۔حکومتی اداروں اور مرکزی کابینہ سے ایسے افراد کو خریدا جاتا ہے جو مسلمان ہو کے بھی مسلمان نہ ہوں اور جو پاکستانی ہو کے بھی پاکستانی نہ ہوں۔ اس منصوبہ پر بڑی سرمایہ کاری مرزائی فتنہ کے علمبردار اور وارثان مرزا قادیانی کررہے ہیں اور ان کے پیچھے اسلام اور پاکستان کا سب سے بڑا دشمن یہودی یے۔یہ یہودی سرمایہ کاری ایک بڑے کینوس پر اسلام کے خلاف پوری دنیا میں برسرپیکار ہے۔
اس حقیقت کا کون انکار کرسکتا ہے کہ ہزاروں سالوں پر محیط انسانی زندگی کے تمام مسائل انسانی آ نکھ کے مشاہدہ سے ہی حل ہورہے ہیں۔انسانی آنکھ کے مشاہدے سے جنم لینے والی سائنس نے کبھی انسانی آنکھ کی جگہہ نہیں لی۔سائنس ہمیشہ انسانی آنکھ کے مشاہدہ کے لیے معاون رہی ہے۔اسلام کا سورج جب عین نصف النھار پر چمک رہا تھااور مسلمان سائنسدانوں کا شرق وغرب میں طوطی بولتا تھااس وقت بھی مسلم سائنس دانوں نے یہ نہیں کہاکہ اب سائنس بہت ترقی کرچکی ہےاس لیے انسانی آنکھ کی رویت کی حثیت ختم ہوچکی ہے۔اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ علوم عقلیہ نے کبھی بھی قرآن وسنت کو بائی پاس نہیں کیااور نہ ہی اہل علم نے علوم عقلیہ( سائنس) کو علوم نقلیہ( قرآن وسنت) کا متبادل قرار دیا ہے۔کوئی علم قرآن وسنت کامتبادل نہیں ہوسکتا۔اس لیے جو اصول قرآن سنت میں بیان کردیے گئے ہیں وہ اٹل اور ابدی ہیں۔۔
اصل مسئلہ رویت بصری،علمی یا علم الحساب کا نہیں ہے۔اصل مسئلہ اسلام کو کمزور کرنے اور اسکو اختلافات کا شکار کرنے کا ہے۔اس لیے آپ جتنی بھی احادیث اور آیات بطور استدلال لے آئیں یہ نہیں مانیں گے۔کیونکہ یہ لوگ خارجی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جو اسلام اور پاکستان کو متنازع بنانا چاہتے ہیں۔ایک پرامن اور مطمئن پاکستان انکو ایک آنکھ نہیں بھاتا،یہ پاکستان کو ہمیشہ کنفیوز رکھنا چاہتے ہیں۔انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی کس دن عید منائےیا کس دن روزہ رکھے۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ آج (بروزمنگل،4جون 2019) صوبہ خیبر پختون خواہ کی حکومت نے سرکاری طور پر عید منانے کا اعلان کیا ہے۔حالنکہ آج کے دن کی عید تو جناب فواد چوہدری کے قمری کیلنڈر پر بھی نظر نہیں آرہی۔آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔آج جناب فواد چوہدری بھی خاموش ہیں علماء کے خلاف تو انکی زبان چلتے ہوئے رکتی نہیں ،آج پوری کابینہ خاموش ہےاور حکومت کے کسی فرد نے کے پی گورنمٹ کے غیرقانونی ،غیر اخلاقی اعلانیہ فعل حرام کے ارتکاب پر آواز نہیں اٹھائی۔پاکستان کے کسی حصے میں بھی چاند کے نظر آنے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں تھاتو پوپلزئی ماہرین فلکیات کو چاند کہاں سے نظر آگیا۔کے پی حکومت نے لمحہ بھر انتظار کیے بغیر عید کا اعلان کردیا۔میرا کے پی حکومت سے سوال ہے کے آپ نے رمضان المبارک کر روزے کس کے اعلان پر رکھنا شروع کیے تھے؟مرکزی رویت ہلال یا پوپلزئی کے کہنے پر؟ آپ نے پہلا روزہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق رکھا اور عید پوپلزئی کے اعلان پر کررہے ہیں۔آپ نے وہ کام کیا جو تاریخ اسلام میں کبھی بھی نہیں ہوا۔اسلامی تاریخ میں 28 روزوں کے بعد کبھی عید نہیں منائی گئی۔آپ نے کے پی کے لوگوں کا جان بوجھ کر ایک روزہ ضائع کیا ہے۔یہ خطا نہیں ہوا بلکہ عمدا کروایا گیا ہے۔آپ نے اللہ کی حد کو توڑا ہےاور اسکے حرام کو حلال کیا ہے۔میں علماء سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کی شرعی سزا تجویز کریں جو کے پی میں رمضان میں عید کروا رہے ہیں۔
کیا کے پی حکومت نے مرکزی رویت ہلال جو ایک ریاست کا ادارہ ہے کسی قسم کا کوئی رابطہ کیا تھا؟. اگر نہیں کیا تو عید منانے کا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا۔؟
میں اسے ایک بڑے فتنے کے طور پر دیکھ رہا ہوں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ کے پی حکومت کا آج عید مناناکسی فتنے سے کم نہیں ہے۔میں علماء سے کہوں گا کہ وہ اس بڑی سرکشی پر عدالت شرعی کا دروازہ کھٹکٹائیں۔میرا مرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیق کرے اورعوام کو اس پر مطمئن کرے۔یہ مرکز گریز رجحانات کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔یہ ریاست پاکستان کے خلاف سارش لگ رہی ہے۔کے پی میں پہلے ہی ایک فتنہ پی ڈی ایم کی صورت میں موجود ہے۔
میں جو دیکھ رہا ہوں اسے بیان کردیا ہے اور خیرخواہی کے جذبے سے کیا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں