ماہ رمضان اور اسلامی اقدار 30

رمضان اور اسلامی اقدار از: مفتی گلزار احمد نعیمی

رمضان اور اسلامی اقدار
از: مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد
نوٹ: (مندرجہ بالا موضوع پر مفتی صاحب نے سچ ٹی وی چینل کی مرحبا افطار نشریا ت میں 11/05/2019 کواظہار خیال کیا جو ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ادارہ)
آج کا موضوع بہت ہی اہم ہے کہ ہم رمضان المبارک میں اسلامی اقداروتہذیب کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں؟
رمضان نفس انسانی کے اصلاح کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ نفسیا ت پر کام کرنے والوں کا کام دیکھیں تو آپ کو انکی تعلیمات میں نفس کی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ انہوں نے انسانوں کے نفس کی تسکین کی بات کی ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانی نفس کی اصلاح اور انسانی اقدارکی بات کی ہے۔ یہی اقدار اسلامی اقدار کہلاتی ہیں اور انہی اقدار نے اسلامی تہذیب کوتخلیق کیا ہے۔ آج دنیا صرف علم و تعلیم کی بات کرتی ہے اوراس نے تعلیم سے انسانی اقدار کے تصور کو نکال دیا ہے۔ لیکن اسلام میں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ اسلامی زندگی کا ہر شعبہ انسانی اقدار کے حوالہ سے بہت ہی بھر پور نظر آتا ہے۔ رمضان کو رمضان المبارک یعنی برکت والا مہینہ کہا گیاہے، اسے شھر مواساۃ کہا گیا ہے کہ یہ غم خواری کا مہینہ ہے۔
جب آپ نفس انسانی کی تسکین کی بات کرتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتاہے کہ آپ انسان کی حیوانیت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کی تسکین کرے چاہے وہ حلال سے کرے یا حرام سے کرے۔ ماہرین نفسیات کی اس سوچ نے انسانی اقدار کو تباہ کر دیا ہے بلکہ انسان کے احسن تقویم کے لبادہ کو تار تار کر کے اسے اسفل السافلین میں پھینک دیا ہے۔ آج انسان حیوانوں کے ساتھ جفتی کرتا نظر آتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے نفس کی تسکین کار فرما ہے ورنہ کوئی مہذب معاشرہ اور اسکا کوئی فرد ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اسلام نے نفس انسانی کو مختلف کیٹا گریز میں تقسیم کر کے اس کے مختلف مراحل بیان کیے ہیں ان میں سے ایک نفس اما رہ ہے جو انسان کو محض برائی پر ابھارتا ہے۔ قرآن مجید نے سیدنا یوسف علیہ السلام کی نفسیاتی کیفیت کو بیان فرمایا جو ان ہی کی اپنی زبان سے بیان ہوئی ہے۔وَمَا أُبَرِّءُ نَفْسِیْ إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَۃٌ بِالسُّوء ِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیَ إِنَّ رَبِّیْ غَفُورٌ رَّحِیْم (سورۃ یوسف آیت:53)
ترجمہ:اور میں اپنے نفس کو بے قصورنہیں کہتا بے شک نفس تو(انسان کو) بُرائی کا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کر دے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
اسلام کا انسانی اقداراور انسان کے حوالے سے اسلوب یہ ہے کہ اس نے انسانی نفس کی اصلاح کی بات کی ہے اور پھر نفس انسانی کی تسکین کی بات کی ہے۔ اسلام پہلے نفس کی اصلاح چاہتا ہے اور اسکی تسکین کی بات بعد میں کرتاہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دو ٹوک انداز میں بتا دیا ہے کہ تمہارے نفس کی تسکین دنیا کی ان عارضی چیزوں میں نہیں ہے کیونکہ اس دنیا میں جن چیزوں سے تم محبت کرتے ہووہ چیزیں فنا ہونے والی ہیں تو یہ محبت،یہ عشق بالکل عارضی ہوگا۔ اگر تم اپنے روح کو ہمیشہ کے لیے تسکین دینا چاہتے ہو تو پھر اس ذات سے عشق و محبت کروجو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اسی لیے فرمایا:أَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوبُ(سورۃ الرعد آیت: 28)ترجمہ:سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔
انسانی اقدار میں سب سے بڑی قدر صبر ہے،مصائب ا ور شدائد کو اطمینان و سکون کے ساتھ بر داشت کرنے کا سبق ہمیں ماہرین نفسیات کی تعلیمات میں کہیں نظرنہیں آتا ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو ہر مشکل میں صبر اور شکر یا صبر اور بارگاہ خداوندی میں جھک کر مدد لینے کی تلقین کی ہے وَاسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ(سورۃ بقرہ آیت:45)ترجمہ:اور صبر اورنماز سے مدد حاصل کرو۔
اسلام نے انسانی زندگی کو صبرو شکر سے روشناس کرانے کے لیے ایک پورا مہینہ رمضان المبارک کی صورت میں ہمیں عطافرمایا ہے۔یہ مہینہ انسانوں کو صبر سکھاتا ہے۔ اس مہینہ سے بڑھ کر دنیا میں اور کونسا ایسا عمل ہے جو انسانوں کو دوسروں کے لیے مصائب وآلام جھیلنے کی عملی تربیت دیتاہو۔
آج اسلام مخالف ایوانوں میں زلزلہ بپا ہے کہ ہم اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیکر انسانیت کو ڈرارہے ہیں لیکن جس کو ہم دہشت گرد مذہب کہہ رہے ہیں وہ شب و روز اپنی خوبصورت اقدار کی وجہ سے ہمارے معاشروں میں انسانوں کے دلوں کو مسخر کر رہا ہے۔
آج اسلام مخالف معاشرے اس کسم پرسی کا شکار ہیں اگر باپ اوربیٹا ایک گاڑی میں سوار ہیں تو باپ اپنا کرایہ خود دیتا ہے اور بیٹا اپنا۔ مگر اسلام نے رمضان المبارک کے ذریعے سے ہمیں عام انسانوں کے ساتھ بھی مالی تعاون کرنا سکھایا ہے جبکہ والدین کے حسن سلوک کا متعدد دفعہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اس ماہ مکرم میں انفاق فی سبیل اللہ کو ہم اپنے کمال درجہ پر دیکھتے ہیں۔ اس مذہب کے بانی اورشارع علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا عمل یہ تھا کہ آپ تیز ہواؤں کی مانند اس ماہ مکرم میں انسانوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔
رمضان المبارک میں فحش گفتگو سے سختی سے منع کیا گیا ہے بلکہ فحشاء اور منکر سے عام دنوں میں بھی دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: البذا من الجفاء والجفاء فی النار۔ترجمہ: فحش گوئی خدا سے بد عہدی ہے اور بد عہدجہنم میں جائے گا۔اسی وجہ سے رمضان المبارک کا روزہ رکھنے والے کو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو فحش گوئی سے نہیں رکتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے پیاسہ اور بھوکا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اعلیٰ اخلاق اسلامی روایا ت و تہذیب کی شناخت ہیں۔سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اعلیٰ اخلاق سے نوازا گیا اور اس ماہ مکرم کے روزے مسلمانوں پر فرض کر کے انکی اخلاقی تربیت کا ایک بڑا انتظام کیا گیا ہے۔ ہمیں رمضان المبارک کے تمام تقاضوں کو مد نظر رکھ کر اسے گذارنا چاہیے اس سے پورے عالم دنیا میں اسلام کا بہت ہی مثبت اور قابل تحسین تاثر جاتا ہے جو اشاعت اسلام کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔میں اپنے ناظرین سے یہ گذارش کروں گا کہ رمضان جن چیزوں کا ہم سے تقاضا کرتا ہے ان کو ہمیں ضرور پورا کرنا چاہیے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں