رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں تحریر : ثقلین عباس اعوان فتح جنگ 5 44

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں تحریر : ثقلین عباس اعوان فتح جنگ

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر :
ثقلین عباس اعوان
فتح جنگ

رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس کی تیاری رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم دو ماہ قبل رجب سے ہی شروع فرمادیتے تھے.جب رجب کا چاند نظر آتا تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم بارگاہِ رب لم یزل میں یوں دعا گو ہوتے: “اَللّٰهُمَّ بَارِك لَنَا فِي رَجَبَ وَ شَعبَانَ وَبَلَّغَنَا رَمَضَان ” اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرمائیے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دیئے.
اس بابرکت اور مقدس مہینے کا روزہ امتِ محمدیہ پر فرض کیا گیا ہے.اس ماہِ مقدس میں بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں.دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں.سرکش شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے.اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے.رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:جو اس کی خیر سے محروم ہوگیا وہ واقعی محروم ہے (مشکٰوة).
ایک اور حدیثِ مبارک ہے : “اِنَّ اللّٰهَ يَغفِرُ فِي اَوَّل لَيلَة مّن شَهرِ رَمَضَان لِكُلِّ اَهلِ القِبلَة” اللہ تعالٰی رمضان کی پہلی رات میں تمام اہلِ قبلہ کی مغفرت فرما دیتے ہیں.
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ “اِنَّ مِن اَفضَلِ اَیَّامِکُم یَومِ الجُمُعَةِ” تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے. اسی طرح مہینوں میں سب سے افضل رمضان المبارک کا مہینہ ہے.
رمضان المبارک کا مہینہ صبر، برداشت، عاجزی، انکساری، مستقل مزاجی، پرہیز گاری، تقوٰی اور ایثار کا درس دیتا ہے، روزہ طبیعت کے تقاضوں کو مغلوب کرتا ہے، روزہ چہرے کو نورانیت بخشتا ہے، روزہ وہ عبادت ہے جو انسان میں اللہ کے احکامات کی تابعداری اس درجے کی پیدا کردیتا ہے کہ انسان اللہ کی حلال کردہ اشیاء کو بھی روزے کے اوقات میں اللہ کے حکم کی اتباع میں چھوڑ دیتا ہے.
ہر ذی روح نے اس دارِ فانی سے کوچ کر جانا ہے.مرنے کے بعد ہمارے ساتھ صرف ہمارے اعمال ہی جائیں گے.
ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ دارالبقا کیلیے اپنے ساتھ خوب نیک اعمال سمیٹ کر لے جائیں.
اس ماہِ مقدس میں ہمیں چاہیے کہ خوب فیوض و برکات حاصل کریں.کیونکہ اس ماہِ مقدس میں ہر نیکی کا اجر ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے.
سب سے پہلے تو اللہ کریم کا شکر ادا کریں کہ اس پاک ذات نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاص فضل سے رمضان کا مبارک مہینہ عطا فرمایا. اس کے ساتھ
تراویح اور تہجد کا اہتمام کریں.”یَااَیُّھَالَّذِینَ اٰمَنُوا کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِیَامُ” پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھنے کا اہتمام کریں. تلاوتِ قرآن کا اہتمام کریں. کیونکہ تراویح میں قرآن سننا مستقل سنت ہے اور اپنی تلاوت کے الگ سے فضائل ذکر کیے گئے ہیں.قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تجوید کے ساتھ قرآن سیکھنے کا بھی اہتمام کیا جائے.
ذکر خصوصًا استغفار، درود شریف اور “اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوّ كَرِيم تُحِبُّ العَفوَ فَاعفُ عَنّي” کی کثرت کریں.
ایثار اور سخاوت کا جذبہ پیدا کریں.خصوصًا افطاری کے وقت اپنے پڑوس اور اقرباء میں موجود مستحقین تک افطاری کا، سامان ضرور بھیجیں.جو کسی کو روزہ افطار کروائے اس کو روزہ دار کے پورے روزے کا ثواب ملے گا.
مسلمانوں کے ساتھ صلہ رحمی کریں.صدقہ و خیرات کااہتمام کریں.افضل صدقہ رمضان کا ہے.
اعتکاف کا اہتمام کریں.ایک دن کے اعتکاف سے معتکف کو جہنم سے تین خندقیں دور کر دیا جاتا ہے.اور ایک خندق کا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے.حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی اہتمام فرمائیں.
لیلة القدر کو تلاش کرنا چاہیے.آخری عشرے کی طاق راتوں میں خوب عبادت کا اہتمام کیا جائے.کیونکہ یہ رات اسی ماہ کے ساتھ خاص ہے.اور اس رات کو ہزار ماہ سے افضل قرار دیا گیا ہے.
دعاؤں کا اہتمام کریں خصوصًا افطای اور تہجد کے اوقات میں.رمضان کی مبارک ساعتوں میں دعاؤں کی قبولیت یقینی ہے.
جنت طلب کی جائے اور جہنم سے خوب پناہ مانگی جائے.زبانِ نبوت سے اس شخص کی ہلاکت کا ذکر کیاگیا ہے جو اس ماہ کو پائے اور اپنی بخشش نہ کروا سکے.اس لیے اس ماہ میں اللہ کریم سے اپنی بخشش کروائی جائے.خوش قسمت ہے وہ مسلمان جو اس مقدس ماہ میں کریم مولا سے اپنی بخشش کروا لے.
اللہ کریم ہم سب کو اس ماہ کی برکات اور اپنا قرب نصیب فرمائے.آمین

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں