رمضان المبارک آ رہا ہے، دانت تیز کر لو:سید ثاقب اکبر 7 191

رمضان المبارک آ رہا ہے، دانت تیز کر لو:سید ثاقب اکبر

رمضان المبارک آ رہا ہے، دانت تیز کر لو
ثاقب اکبر
بے رحم قصاب صفت قسی القلب سرمایہ دار ایک دوسرے کو طریقے طریقے سے کہہ رہے ہیں کہ رمضان المبارک آرہا ہے دانت تیز کر لو کیونکہ یہ مبارک مہینہ ہے، اس میں برکتیں لوٹنے کے لیے تیار ہو جاﺅ، ہر چیز مہنگی کر دو، فی الحال ہر چیز کا ذخیرہ کر لو۔ فکر نہ کرو ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا۔ سیاستدان ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمارے لیے ”ستّے خیراں“ ہیں۔
یہ جو قرآن نے کہا ہے کہ ”روزے تم پر فرض کر دیے گئے ہیں کہ شاید تم متقی ہو جاﺅ“ یہ عوام الناس کے لیے ہے تاکہ وہ کم کھائیں اور کم خرچ کریں۔ ہم تو چیزیں مہنگی کر کے ان کو کم کھانے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ حصول تقویٰ کا مشن وہ پورا کر سکیں۔
یہ پہلا رمضان تو نہیں آرہا کہ جس میں چیزیں مہنگی ہوں گی، یہ تو ہر سال آتا ہے، چیزیں مہنگی ہوتی ہیں، حکمرانوں کے اخباری بیان آتے ہیں، کبھی نہ کبھی غریب چھوٹے دکانداروں پر قانون قہر بن کر ٹوٹتا ہے اور سرمایہ داروں کی جو پہلے پانچوں گھی میں ہوتی ہیں اس مہینے میں ان کا سر بھی کڑاہی میں ہوتا ہے، نہ سر جلتاہے نہ دل یا جاں سے دھواں اٹھتا ہے بلکہ جوں جوں رمضان گزرتا ہے”برکتوں“ میںاضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، پھر عید تو سبحان اللہ، رمضان شریف کی رہی سہی کسر اس پر نکل جائے گی اور سادہ دل عوام جیبیں خالی کرکے جمع پونجی لٹا کر یا قرض کا بوجھ سر پر لے کر پھر حسب معمول بوجھل زندگی کا آغاز کردیں گے، نہ کسی کو رحم آئے گا اور نہ کوئی پرسان حال ہوگا۔
قرض کی پیتے تھے مَے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
تلخ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی سرمایہ دار کہیں افطاری کا دستر خوان بھی لگا دیں گے اور امرا اور وزرا کے لیے بڑے بڑے ہوٹلوں میں الگ سے افطار ڈنر بھی سجا دیں گے۔ وہی قتل بھی کریں گے وہ الٹا ثواب بھی لے لیں گے۔ عجیب المناک صورت حال ہے، عجیب اسلام کا مذاق ہے، ہرمطلب ہی الٹ ہو گیا، ہر مقصد ہی دگر گوں ہو گیا، ہر حیلہ ہی الٹ جا پڑا۔ روزہ تو اللہ کی خاطر بھوکے رہنے کے لیے تھا یہی پُرخوری کا ذریعے بنا گیا جو تقویٰ شعاری کا پیغام لے کر آیا تھا و ہی لوٹ مار کا وسیلہ بن گیا۔ ساری تدبیریں ہی الٹی ہو گئیں۔
روزہ جسے بدن کی زکوٰة کہا گیاتھا یار لوگوں نے اسے اپنے بدن کی نہیں دوسرے لوگوں کے بدن کی زکوٰة بنا لیا۔ روزہ جو روحانی تربیت کے لیے تھا وہ جسمانی نشوونما کے لیے بروئے کار آنے لگا۔ گویا رمضان شریف معاشرے کے لیے رحمت بن کر نہ اترا اور قرآن کے نزول کا مہینہ کثرت قرا¿ت و قرآن خوانی کے باوجود مقاصد قرآنی سے دور ہو گیا۔ تلاوت کی صدائیں ہر طرف گونج رہی ہیں لیکن یہ صدائیں حلق سے نکل رہی ہیں، محمد مصطفی کے دل پر نازل ہونے والے قرآن کی آیتیں ہمارے دل سے باہر نہیں آرہیں۔
اگر واقعاً چند کروڑ انسان ملک میں ایک وقت کے لیے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں تو چیزوں کو مہنگا ہونا چاہیے یا سستا؟ طرح طرح کے پکوان تیار کرنے والوں، نوع نوع کے مشروبات بنانے والوں اور چٹخارے دار مصالحوں کے تاجروں نے روزوں اور کھانے سے ہاتھ کھینچنے کی تعلیم دینے والے مہینے میں ہماری کھانے اور پینے کی اشتہا کو بڑھا دیاہے۔ قرآن کس سے فریاد کرے، قاریان قرآن سے، تکبیر کہنے والوں سے یا تکبیر پھیرنے والوں سے؟
حقیقت یہ ہے کہ اگر غریب دھوکا نہ کھائیں تو امیر دھوکا نہیں دے سکتا۔ روزے دار اگر روزے کے مقاصد سے آگاہ ہوں تو سرمایہ دار انھیں اپنی ہوس زر کا نشانہ نہیں بنا سکتا۔ جب ہمارا طرز عمل ہی یہ دعوت دے رہا ہو
اب تو زنجیر سے باندھو مجھے ہاروں سے نہیں
تو پھر سرمایہ دار تو ہوتا ہی بے رحم ہے۔ وہ تو سرمائے کو بڑھانے کے لیے ہر حیلے کو جائز سمجھتا ہے۔ مذہبی معاشرے میں یہ سرمائے دار ریاکار بھی ہوتا ہے اور اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ یتیم و مسکین کے رنج و غم سے بے نیاز یہ لوگ نمازی بھی ہیں لیکن حقیقت میں اپنی نماز سے غافل ہیں اور یہ ریاکار بھی ہیں لیکن اُس معاشرے کا کیا کریں جس کی اکثریت دھوکا کھانے کے لیے خود سے آمادہ ہو۔
آپ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر رمضان شریف کے نام سے جو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں وہ دراصل سرمایہ داروں کی مصنوعات اور کھانے پینے کی پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں کو عالی شان جاذب نظر اور پرفریب بنانے کے لیے ساری دولت یہی سرمایہ دار صرف کرتے ہیں اور بکاﺅ مال جو سال بھر رقص و سرود کی محفلیں سجاتا ہے اور جو معاشرے میںبرائی کا آلہ کار بنا رہتا ہے وہ ہمیں روزے کی فضیلت بتانے کے لیے مامور ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ برائی کی دعوت بھی پیسے لے کر دیتے ہیں اور بھلائی کا نام بھی پیسے لے کر لیتے ہیں۔ ان کے لینے دینے کی حیثیت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ ہر چیز پیسوں کے عوض بیچنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ہمارے معاشرے کی سادگی دیکھیے کہ ہم دین بھی ایسوں ہی سے سیکھنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کے لب و دہن سے نکلنے والا دین ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے نیک اور پارسا لوگوں کی کہی ہوئی دین کی باتیں ہمارے دل و دماغ پر اثر ہی نہیں کرتیں۔ ایسے میں سرمایہ داروں سے کیا شکوہ۔ شکوہ تو روزے داروں سے ہی کرنا چاہیے اور حکمرانوں سے کیا شکوہ جنھیں اسمبلیوں میں بھجوانے کے لیے سرمایہ دار اپنے سرمائے کی تجوریاں کھولتے ہیں پھر یہ حکمران ہمارے لیے اپنی زبان تو چلا سکتے ہیں بے رحم سرمایہ داروں کے سر پر قانون کی تلوار نہیں چلا سکتے۔ اس لیے ان دنوں سرمایہ دار ایک دوسرے سے کنکھیوں سے کہہ رہے ہیں:
رمضان المبارک آرہا ہے، دانت تیز کرلو۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں