اچھی حکمرانی کے اصول 238

رد و قبول کا معیار اور ہمارا رویہ تحریر: مفتی گلزاراحمد نعیمی۔

رد و قبول کا معیار
اور
ہمارا رویہ
تحریر: مفتی گلزاراحمد نعیمی۔
ہم لوگ بہت جذباتی ہیں اور ہر چیز کو جذبات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہماری حقائق پر نظر نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم انکی جستجو میں اپنا وقت صرف کرنے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔ایک اور رویہ جو ہمیں من حیث القوم تباہ کررہا ہے وہ یہ کہ اگر کوئی شخص میری یا میری جماعت کی رائے سے متفق ہے تو وہ میرے لیے قابل قبول ہے۔چاہے وہ میرے دین وطن اور قوم کے لیے جتنا بھی مضر کیوں نہ ہو۔کسی کی رائے کو قبول یا رد کرنے کے کوئی معیارات ہونے چاہییں۔یہ بڑی خطا ہے کہ ہم ایک دہشت گرد انتہاء پسند اور دین دشمن کی تحسین محض اس لیے کریں کے کہ وہ میری رائے یا میری پارٹی کی رائے کو پسند کرتاہے۔یہ چیز قرآن وسنت اور نبوی خصائل کے بالکل برعکس ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ احد کے لیےتشریف جارہے تھے تو ایک جنگجو کافر نےکہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ کفار مکہ کے مقابلہ میں لڑنے کے لیے جانا چاہتا ہوں تاکہ مال غنیمت حاصل کر سکوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو مسلمان ہے تو اس نے کہا نہیں میں مسلمان نہیں ہوں۔آپ نے اسے منع فرمادیا کہ تم ہمارے ساتھ نہیں جاسکتے۔آپ ذرا غور فرمائیں کہ حالت جنگ میں جہاں ایک ایک فرد کی مدد ایک بڑا اثاثہ تصور کی جاتی ہے عین اس موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخص کی مدد قبول کرنے سے انکار فرمادیتے ہیں جو آپکی فکر سے ہم آہنگ نہیں تھا۔
میرے نزدیک قتل سب سے گھناونا فعل ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔لیکن فکری دجل پیدا کرنا اور عوام الناس کو اپنی گول مول حکمت عملی سے گمراہ کرنا اس سے کہیں زیادہ جرم ہے۔آج کل ایک سوشل میڈیا کے لکھاری اور ایکٹیوسٹ بلال خان کا قتل زیر بحث ہے۔کچھ لوگ ہمیشہ کی طرح اسے ریاستی اداروں پر ڈال رہے ہیں اور کچھ اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں جبکہ بعض لوگ اسے فرقہ وارانہ وارادات کہہ رہے ہیں۔جب بھی کوئی ایسا مقتول سامنے آتا ہےجس کے قاتلین نامعلوم ہوں تو پاکستان اور ریاست پاکستان کے پاکستانی مخالف اسے ایجنسیوں کی کاروائی قرار دیکر پاکستان اور افواج پاکستان پر ڈال دیتے ہیں اور ان کو بدنام کرتے ہیں۔ایسے لوگ یقینا پاکستان مخالف بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر کام کررہے ہوتے ہیں۔ہر چیز کو فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ جوڑنا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے تاکہ سیکورٹی کے ان ریاستی اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔میرا خیال ہے کہ اسی روش کے لوگ اسے ریاستی اداروں کی کاروائی قرار دے رہے ہیں۔
بہرحال ہر شخص کا اپنا ایجنڈا اور وہ اسکی تکمیل کے لیے خود ہی دلائل تراشتا ہے اور پھر کسی واقع ہونے والے غیر معمولی واقع کو اپنے تراشیدہ دلائل کی روشنی میں کوئی بھی رنگ دے دیتا ہے۔خارجی شواہد کیا ہیں اس سے قطع نظر بس اپنے بنائے ہوئے دلائل کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے اور پھر اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں کی دیہاڑی لگ جاتی ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ ہم اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے فوج ،آئی ایس آئی ،ریاست پاکستان یا سیکورٹی کے کسی ادارے کو مورد الزام ٹھہرائیں۔
میرے سامنے کافی دن پہلے بلال خان کا یہ ٹویٹ کسی دوست کے ذریعے جب سامنےآیا جس سے اسکے خیالات سے آگاہی ہوئی۔ کہ”مجھے یزید کے ساتھ حشر ہونےپہ کوئی اعتراض نہیں،حسین بھی ہمارے،یزید بھی ہمارے،معاویہ بھی ہمارے،علی بھی ہمارے۔۔۔۔۔۔جہنم میں جائیں رافضی اور سبائی سارے۔۔۔۔۔۔!! (13 مئی،2019) اس تحریر کو پڑھنے کے بعد کسی شخص کے نظریات کو سمجھے کے لیے کوئی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔جسے یزید کے ساتھ حشر ہونے پر کوئی اعتراض نہ ہو اسے اور کس چیز پر اعتراض ہوسکتا ہے؟ ۔وہ تو بہت ہی پکا داعی اتحاد امت ہے۔!!!! مجھے اپنے دوستوں پر بہت ہی شدید افسوس ہے جو محض فیس بک پر ان(in) رہنے کے لیے بغیر تحقیق کے اپنے تبصرے جھاڑ دیتے ہیں۔ہمیں احتیاط کرنی چاہیے یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص آپکے بیان یا آپکی جماعت کی حمایت کرتا ہو اور وہ آپ سے دل وجان اوراندر باہر سے متفق بھی ہو۔ہر شخص اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کمربستہ ہے۔ممتاز قادری شھید کے جنازہ اور ان کے چہلم کے موقع پر بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنماء آپ کے پاس آئے تھے کیا وہ سارے آپکے نظریات اور معتقدات سے متفق تھے؟ کچھ رہنماووں نے تو لاکھوں روپئے دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔کیا وہ سب آپکی فکر سے ہم آہنگ تھے۔؟؟ بالکل ایسا نہیں تھا۔وہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آپکے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے آئے تھے۔اس کے بعد وہ کہاں نظر آئے۔پھر انہی لوگوں نے آپکو شدت پسند اور دہشت گرد تک کہا۔ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والا شخص آپکے یا پاکستان کے ایجنڈے کو درست مانے گا “ایں خیال است و محال است” محض چند حمایت کے الفاظ کوئی بولے اور آپ اسکو اپنا سمجھنا شروع کردیں یہ بہت خوفناک اور غیردانشمندانہ روش ہے۔
ایک بات بالکل روز روشن کی طرح واضح یے کہ جو یزید کا ہو وہ امام کا نہیں ہوسکتا اور جو امام کا ہو وہ یزید کا نہیں ہوسکتا۔اگلی بات کہنے سے میرے پر جلتے ہیں۔آپ جتنے بھی داعی اتحاد امت بن کر اپنے آپ کو پیش کریں ایک نہ ایک دن آپ کے اندر کے خیالات لوگوں پر ضرور آشکار ہو جاتے ہیں۔حق اور باطل کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے،حق امام کا نام ہے اور باطل یزید کا نام ہے۔اس لیے دونوں کو ملایا نہیں جاسکتا اور جو دونوں کو خلط ملط کرے وہ کس ایجنڈے پر میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔
خدائے بزرگ وبرتر سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں تفیہم حق کی سکت عطاء فرمائے،باطل اور منتشر نظریات سے محفوظ رکھے۔
آمین بجاہ سید المرسلین۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں