deeni madaris 231

دینی مدارس اور ملکی ترقی از:مفتی گلزار احمد نعیمی

دینی مدارس اور ملکی ترقی
از:مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم،پاکستا ن
پرنسپل جامعہ نعیمہ، اسلام آباد
عرصہ دراز سے وطن عزیز میں مدارس زیر عتاب ہیں اور استعماری قوتیں ان کو نیست و نابود کر دینے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے مقاصد میں یقینا کامیاب نہیں ہونگی اور نہ ہی ان مدارس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ قرآن و سنت کا نظام اپنی کسی نہ کسی صورت میں قیامت تک محفوظ و مامون رہے گا۔ اسکو مٹانے والے خریطہئ عالم سے خود حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔ مدارس کی ساکھ کو مجروح کرنے میں اہل مدرسہ کا اپنا بھی حصہ بقدر چثہ شامل ہے۔چند لوگوں نے استعماری قوتوں کا آلہ کاربن کر ان مدارس پر جو جورو ستم ڈھائے اس کا تفصیلی جائزہ کسی دوسری نشست میں لیا جائے گافی الوقت ہم اس بات کو دیکھیں گے کہ ملکی اور دیگر ضروریات معاشرہ کی تکمیل میں ان مدارس نے کتنا کردار ادا کیا؟
تمام مکاتب فکر کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد تقریباً تیس لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔ ان طلباء کا تعلق زیادہ تر ملک کے ان دور أفتادہ علاقوں سے ہے جہاں بنیادی ضروریات زندگی کا نہ صرف فقدان ہے بلکہ جدید عصری تعلیم کابھی نجی و سرکاری سطح پر کوئی قابل رشک انتظام نہیں ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے عوام کی آمدنی کے معقول وسائل نہیں ہیں اور وہ اپنے بچوں کو ملک کے شہری علاقوں میں قائم جدید اداروں میں تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں۔ نتیجتاً وہ ان مدارس کا رخ کرتے ہیں جہاں انکے بچوں کی تعلیم وتربیت کا قابل اطمینان حد تک معقول انتظام ہو تا ہے اور ضروریات زندگی بھی ان مدارس میں تقریباً مفت میسر ہوتی ہیں۔ یوں اگر غیر جانبدارانہ زاویہ نگاہ سے ان مدارس کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ محروم طبقے کے بچوں کی علمی و نجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان مدارس کے علاوہ کوئی ایسا متوازی نظام ملک میں موجود نہیں ہے۔ جو ان کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ انکی دیگر ضروریات زندگی بلامعاوضہ پوری کرنے کا ضامن ہو۔ اس اعتبار سے شرح خواندگی میں اضافے کی ان مدارس کی کوششیں قابل صد ستائش ہیں۔ دوسری طرف مدارس میں درس نظامی اور جدید عصری تعلیم دینے والے معلمین اور انتظامی معاملات سے وابستہ افراد کی تعداد بھی لاکھوں کو پہنچتی ہے جنکا روزگار ان مدارس سے وابستہ ہے۔ اس طرح یہ مدارس ایک طرف شرح خواندگی(Literacy Rate) کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تو دوسری طرف بے روزگاری(Unemployment)کو کم کرنے میں ممدو معاون ثابت ہورہے ہیں۔
طلباء بیرون ملک دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تشنگا ن علم و دین کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ کثیر زر مبادلہ (Foreign Exchange)وطن عزیز میں منتقل کر رہے ہیں۔ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ایک قابل ذکر حصہ(Participation) دے رہے ہیں۔
مذہب انسان کی نہایت بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ گود سے لیکر گور تک زندگی کے ایک ایک مرحلے میں اسکی راہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ مذہب کے بغیر انسان حیات کے جنگل میں اسپ بے لگام کی طرح ہے۔ مذہب کے بغیر انسان نے بارہااس خطہئ ارضی کو اپنے کبائر کے ارتکاب سے عذاب خداوندی کو دعوت دیکر فساد کی آماجگاہ بنا دیا اور مذہب کی پابندی میں زندگی گزارنے والے انسان نے اپنے صالح اعمال کے سبب اس اجڑے دیار کو اللہ جل شانہ کی رحمتوں کا مسکن بنا دیا۔ آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں سکول، کالج اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم میں ہمیں مذہبی تعلیم کا رجحان کہیں نظر نہیں آرہا۔ بلکہ دنیا پر قبضہ کا خواب دیکھنے والے اس دنیا کو مذہب کی پابندی سے آزاد کر کے اللہ تعالیٰ کے کنٹرول سے نکال کر اپنے زیر تسلط رکھنے کے درپے ہیں۔ مجھے ایک امریکی پروفیسر ڈاکٹر بک مین(Dr. Buck man) کا ایک خوبصورت جملہ یا دآرہا ہے جو اس نے آج سے کئی سال پہلے ”آکسفورڈ گروپ“ نامی ایک اخلاقی و روحانی تنظیم کی پہلی سالگرہ کے موقع پر کہا تھا۔ کہ
A true patriot is the man who brings his country under God’s control.” ”
”اصل محب وطن وہ ہے جو اپنے ملک کو خدائی کنٹرول میں لانے کی جدو جہد کرتاہے“
قارئیں کرام:ذرا غور فرمائیے!اس وسیع و عریض دنیا میں عالیشان جامعات کا ایک جال بچھا ہوا ہے مگر آکسفورڈ سے لیکر ہارورڈ تک اور ہارورڈ سے لیکر دنیا کی کسی بھی عظیم یونیورسٹی تک ہمیں کسی کا سلسلہ خدا سے جڑا ہوا نظر نہیں آتا۔ بلکہ ان جامعات کے طلباء مذہب سے بے گانہ ہیں۔ لیکن مدارس کی تعلیم کا مقصد وحید صرف اور صرف دنیا کو خدائی کنٹرول کے تابع کرنا ہے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام رائج کرنا ہے۔یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ ان مدارس کے فاضلیں و فاضلات نہ صرف ملک کے طول و عرض میں بلکہ براعظم ایشیاء سے لیکر براعظم یورپ و امریکہ تک عوام کو مذہب پر مستقل رہنے اور مذہب کی طرف رجوع رکھنے کا اپنی بساط کے مطابق درس دے رہے ہیں۔ آج یورپ اور امریکہ میں مذہب کی طرف جو رجحان بڑھ رہا ہے وہ مدارس سے نکلنے والے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جانثار سپاہیوں کی شبابہ روز کوششوں کا ثمرہے۔
اس حقیقت سے قطعاً کسی کو انکا ر نہیں کہ مدارس کے موجودہ نظام تعلیم میں کچھ کمزوریاں ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمزوریاں ہر جگہ ہوتی ہیں۔ حکومت کے اعلیٰ تعلیمی و تنظیمی اداروں میں بھی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان حکومتی اداروں میں تو وہ لوگ انتظامی افسر ہوتے ہیں جو بیرون ملک سے مینجمنٹ کو رس کر کے آئے ہوتے ہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ کمزوریوں کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں دور کرنے کے مخلصانہ مواقع مہیا کیے جائیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مدارس کا موجودہ نصاب تعلیم جزوی طور پر جد ید تقاضون سے ہم آہنگ نہیں۔ قدیم فلسفہ اور منطق کی آج شاید ضرورت نہیں ہے۔ انکی جگہ جدید فلسفہ، علم فلکیات(Astronomy)اور دیگر مفید علوم کو مدارس میں متعارف کرایا جاسکتاہے۔ مدارس کو اپنی حدود کے اندر رہ کر تویہ اصلاحات شاید قابل قبول ہوں مگر بیرونی دباؤ کے پیش نظر من چاہی اصلاحات کوئی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ منتظمین مدرسہ کو حکومت اپنی آزادانہ مرضی سے ضروری اصلاحات کرنے کی مالی و تکنیکی معاونت دے جو مدرسہ کے بنیادی نظریاتی ڈھانچے سے متصادم نہ ہو۔ مدرسہ ریفارمز پروجیکٹ (MRP) ایک قابل عمل پروجیکٹ ہے جس میں مدارس کو قومی دھارے (main stream)میں شامل کرنے کی سعی بار آور ثابت ہوسکتی ہے۔ مگر یہ پروجیکٹ بد قسمتی سے چند وجوہات کی بناء پر کامیاب نہ ہو سکا۔ اس میں کچھ قصور اہل مدرسہ کا بھی ہے اور زیادہ حصہ سابقہ حکومت کے وزیر تعلیم کا ہے۔ یہ خوبصورت پروجیکٹ سابق وزیر تعلیم کی سنگین عدم توجہی کے باعث کامیاب نہ ہوسکا۔سابق وزیر تعلیم کی مجرمانہ غفلت کے باعث مدارس اس سے مستفیض نہ ہوسکے۔ منتظمین کو دشوار تحقیقاتی مراحل سے گزارا گیا جو انکی عدم دلچسپی کا باعث بنا۔ ورنہ اس پروجیکٹ میں مدارس کے معیا رکو بڑھانے میں بہت حد تک کامیابی ہو سکتی تھی (موجودہ حکومت کے وزیر تعلیم جناب شفقت محمود صاحب سے گزارش ہے کہ مدارس کے معیار کو بڑھانے میں خصوصی توجہ دیں اور مدرسہ ریفارمز پروجیکٹ (MRP) کو بند کرنے کی بجائے سابقہ کمزوریوں کا از سر نو جائزہ لے کر اس کا احسن طریقے سے اجراء کیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر منتظمین مدرسہ اور پروجیکٹ کے لوگ باہمی اعتماد اور یگانگت کے ساتھ کام کریں تو مدارس کے طلباء کے معیار تعلیم او معیار زندگی دونوں کو بلند کیا جاسکتا ہے۔ اس سے طلباء کی Social skillمیں اضافہ ہوگا۔ ان کے اندر احساس کمتری کو ختم کیا جاسکے گا۔ اور انہیں بھی درجہئ اول کا شہری کہلانے کا موقع ملے گا۔ مدارس کے طلباء میں بے بہا قابلیت (Talent) موجود ہے صرف اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی ہم ذرا سی توجہ سے ان مدارس سے جابر بن حیان، محمد بن زکریا الرازی اور ابن الہیثم جیسے نابغہ روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
علماء اور اہل مدرسہ سے دست بستہ گزارش ہے کہ دنیا کی بدلتی صورت حال پر توجہ رکھیں اور دین کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنے کو گہری نظر سے دیکھیں اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے متفقہ حکمت عملی اپنائیں۔ نئے مذہبی ادب (Religious literature) کو پڑھیں اور مدارس کے نصاب میں جدید علمی تحقیق کو شامل کریں۔ فروعی اختلاف کی طرف توجہ نہ کریں کہ اس سے وقت اور صلاحیتوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ مغرب سے اٹھنے والے ہر فتنے کو قرآن وسنت کی اعلیٰ تعلیمات کی روشنی میں پسپا کریں۔وطن عزیز میں قیام امن کے لیے اپنی خداداد صلاحتیں بروئے کار لائیں اور دہر میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اجالا کر دیں۔ طلباء کے بحر کی موجوں میں انقلاب کا قابل رشک اضطراب پیدا کریں اور آنے والے طوفانوں سے انہیں آشنا کریں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں