دینی مدارس اورڈی جی آئی ایس پی آر   از: مفتی گلزار احمد نعیمی 7 198

دینی مدارس اورڈی جی آئی ایس پی آر از: مفتی گلزار احمد نعیمی

دینی مدارس اورڈی جی آئی ایس پی آر
از: مفتی گلزاراحمد نعیمی
صدر جماعت اہل حرم پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد
غالباً 29اپریل 2019 ؁ء کو پاک فوج کے عسکری ترجمان جناب میجر جنرل آصف غفور نے ایک اہم پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کچھ اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ جنرل آصف غفور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائر یکٹر جنرل ہیں۔ بہت سنجیدہ مزاج کی شخصیت ہیں۔ بہت دھیمے انداز میں بڑی بڑی باتیں کر جاتے ہیں۔ میڈیا کے سامنے نہایت ہی پر سکون انداز میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں، صحافیوں کو بعض ایشو زپر بہت خوبصورت طریقے سے کاؤ نٹر کرتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے دو اہم موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ایک (1) پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)اور دوسرا(2) دینی مدارس کے حوالہ سے۔ پی ٹی ایم سیکورٹی کے اداروں کے لیے چیلنج بنتی جارہی ہے۔ بھارتی دہشت گرد خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی (این ڈی ایس) کے ساتھ تعلقات کے نا قابل تردید شواہد حاصل کرنے کے بعد یہ پریس کانفرنس ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم ایک خوفناک روپ دھار رہی ہے۔ مجھے تو یہ طالبانی فلم کی دوسری قسط لگ رہی ہے۔ پختونوں کے حقوق کے تحفظ کا علم بلند کرنے والی تحریک جب قندھار اور جلال آباد میں انڈین کونسل خانوں سے روابط رکھے گی اور فنڈ وصول کرے گی تو بہر حال یہ بات متحقق ہو جاتی ہے کہ بظاہر پختونوں کی بات کرنے والی جماعت در پردہ انڈین را کی ایجنٹ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ اگر یہ جماعت کوئی غلط بات بھی کرے تو ان کے ساتھ سخت ہاتھ نہیں رکھنا۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان سے غداری کرنے والی اور فوج مخالف نعرہ بازی کرنے والی تنظیم کے ساتھ ”ہاتھ ہولا“ رکھنے کا کیوں کہا گیا ہے؟؟؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کے تین اہم مطالبات: ۱۔ برودی سرنگیں ختم کرنا ۲۔ چیک پوسٹیں ختم کرنا ۳۔ لاپتہ افراد کی بازیابی ہیں۔ یہ بالکل جائز مطالبات ہیں لیکن کیا ان مطالبات کو منوانے کے لیے پاکستان دشمن ممالک اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد لینا ضروری ہے۔ یہ ہمارے اندرونی مسائل ہیں،ہمیں آپس میں بیٹھ کر ان مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ جو ان مسائل یا دیگر اندرونی مسائل کے حل کے لیے بیرونی قوتوں کی آشیر بادیا مالی تعاون لے کران کی مسائل کی بات کرے تو میرے خیال میں اسکا مسائل کے حل سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ صرف انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ خارجی سوچ ہے کہ درست بات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں جب خارجیوں نے ان الحکم الاّللّہ کا نعرہ لگایا کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ بات تو سچ تھی اور حقائق پر مبنی تھی کہ حقیقی بادشاہت تو اللہ ہی کی ہے۔ مگر مولا علی نے فرمایا: کلمۃ الحق اُرید بہ الباطل۔ یعنی کلمہ حق کے ذریعے باطل کے ارتکاب کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یہاں بھی کچھ یہی صور ت حال ہے۔ ان جائز مطالبات کے پردہ میں باطل کا ارتکاب کیا جارہا ہے جو سراسر ناجائز اور ناقابل برداشت ہے۔ اس موضوع پر قدر ے تفصیل کے ساتھ ہمارے ریسرچ فیلو جناب حمزہ لیاقت نے انگریزی میں لکھا ہے جسے ahleharam.comکے انگریزی صفحہ پر دیکھا جاسکتاہے۔ میں اب ڈی جی آئی ایس پی آر کی پر یس کانفرنس کے دوسرے اہم نقطہ کی طرف آتا ہوں جو مدارس کے حوالہ سے ہے۔
انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 30ہزار مدارس ہیں اور ان میں 100سے بھی کم ایسے مدارس ہیں جن میں ایسی تعلیم دی جاتی ہے جو بچوں کو انتہاء پسندی کی طرف راغب کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان مدارس میں کچھ مدرسے جدید عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کوشش کررہی ہے کہ ان مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جائے تاکہ جو بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ بھی ڈاکٹر اور انجینئربن سکیں۔ ڈی جی صاحب نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ اس وقت ملک میں ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہرہیں۔ یعنی وہ کسی بھی علمی یا تکنیکی ادارے میں زیر تعلیم نہیں ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی مدارس کے حوالہ سے پریس بریفنگ پر ہم اپنا رد عمل دینا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لائیں گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی وضاحت بہت ضروری ہے۔ جب حکام یہ کہتے ہیں کہ ہم مدارس کو مرکزی دھارے میں لائیں گے تو میرے خیال میں انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہاں سکولوں والا نصاب متعارف کروایا جائے گا۔ یعنی جدید عصری تعلیم کا نصاب لگایا جائے گا میرے خیال میں اس بات کی کہیں بھی مخالفت نہیں ہے، مدارس جدید عصری تعلیم پڑھانا چاہتے ہیں بلکہ پڑھا بھی رہے ہیں۔ لیکن یہ بات کہنا کہ یہاں سے انجینئر اور ڈاکٹر پیدا ہوں یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسکا واضح مطلب ہے کہ ان مدارس سے مذہبی تعلیم ختم کر کے ان میں پرو فیشنل تعلیم کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ چیز مدارس کی بنیادی ساخت کے خلاف ہے۔ ان مدارس کے قیام کا مقصد قرآن و سنت کی تعلیم کا تحفظ تھا۔ کیونکہ جب انگریز یہاں آیا تو اس نے بر صغیر میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ مضبوط وابستگی کو ختم کرنے کے لیے جدید سکول قائم کیے تھے جن میں مذہبی تعلیم نہیں تھی۔ اس کے رد عمل کے طور پر دینی مدارس قائم ہوئے تھے جنکا مقصد خالصتاً دینی تعلیم کی نشرو اشاعت تھی۔ ورنہ انگریز کی آمد سے پہلے برصغیر کے اسلامی ادوار میں دینی اور دنیاوی تعلیم کی الگ سے کو ئی شناخت نہیں تھی۔
ایک اور اہم بات جس کی طرف میں عسکری حکام کی توجہ دلانا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ سول بیورو کریسی مدارس کے حوالہ سے کسی منصوبہ کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیتی۔ وہ اس خوف میں مبتلاہے کہ اگر غرباء کے بچے جدید تعلیم پڑھ کر اہم سرکاری مناصب پر بیٹھ جائیں گے تو ہمارے بچے کہاں جائیں گے۔ اس لیے وہ کسی ایسے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیتے جو مدارس کے بچوں کی ترقی کا سبب بنے۔ سن دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے ایک آرڈیننس کے ذریعے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی بنیاد رکھی۔ جسکا مقصد مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی دینا تھا۔ اس بورڈ کے تحت تین مدارس قائم کئے گئے۔ ایک مدرسہ اسلام آباد میں برائے طالبا ت اور دو مدارس برائے طلبہ،سکھر اور کراچی میں۔ سکھر کا ماڈل مدرسہ بہت کامیابی سے چلا اور پاکستان کی ایلیٹ کلاس نے بھی اپنے بچوں کو یہاں داخل کروایا۔ مگر وزارت مذہبی امور کی بیورو کریسی نے جب دیکھا کہ کہ ماڈل مدرسہ کامیاب ہونے کو ہے تو پھر انہوں نے اپنے روایتی ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے ناکام کر دیا۔ اب ان تینوں مدارس کا برا حال ہے۔ میری حکام سے درخواست ہے کہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے سے پہلے ان تین مدارس کو کامیاب بنائیں جو پہلے ہی حکومتی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو بھی کامیاب بنائیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ2001 ؁ء میں قائم ہوا اور اسکا پہلا اجلاس 2004ء میں جا کرہوا۔ ہم نے ڈاکٹر عامر طاسین کے ساتھ بھر پورتعاون کیا تھا کہ یہ بورڈ فعال ہوجائے تو مدارس کو اس سے بڑا فائدہ ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے ڈاکٹر عامر طاسین کو بھی نہیں چلنے دیا گیا۔ اب بھی میری رائے ہے کہ اس بورڈ کو فعال کر کے مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا کام اسی سے لیا جائے۔ وزارت مذہبی امور کے وزیر جناب پیرزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری خود مدرسہ کے فضلاء میں سے ہیں اور خیبر پختون خواہ میں کئی مدارس چلار ہے ہیں۔ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے تو کامیابی ممکن ہو سکتی ہے ورنہ اس جدو جہد میں کوئی فائد ہ حاصل نہ ہو گا۔
پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے قیام کو کم وبیش اٹھارہ سال ہو چکے ہیں مگر سول بیورو کریسی نے اسے نہیں چلنے دیا۔ ماضی قریب میں بیورو کریٹس نے اپنے عزیز و اقارب کی تقرریاں یہاں کروائیں مگر جس مقصد کے لیے اس بورڈ کا قیام عمل میں آیا اس پر چنداں کو ئی توجہ نہیں کی گئی۔ اگر عسکری قیادت مدارس کے ساتھ تعاون کرے اور صحیح معنوں میں اصلاحی اقدامات کرے تو تمام مسالک کے مدارس ان کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔میری درخواست ہے کہ پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کو کسی فرض شناس اور ایماندار ریٹائر فوجی جنرل کے سپرد کیا جائے تاکہ بیوروکریسی کی ریشہ دوانیوں سے یہ بورڈ محفوظ ہوا ور سرکاری سطح پر مدارس کے قیام میں بنیادی کردارادا کر سکے۔
میں حکام کی توجہ ایک اہم بات کی طرف بھی دلانا چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ پاکستان میں بعض اسلامی ممالک کو مدارس تک براہ راست رسائی دی گئی ہے جس سے بے شمار مسائل نے جنم لیا۔ فرقہ وارانہ تشدد انہی ممالک کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوا۔ میری دانست میں ان ممالک کے مدارس کے ساتھ براہ راست تعلقات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح پاکستان میں جو این جی اوز مشنری سکول چلا رہی ہیں وہ یہاں عیسائیت، سیکولرازم اور الحاد کے پھیلنے کاذریعہ بن رہی ہیں،ان سکولوں پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ ریاست کا مذہب اسلام ہے یہاں اینٹی اسلام کام کرنے والی تمام آرگنائزیشنز پر پابندی ہونی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک اسلامی ملک میں اسلام کی نشرو اشاعت کو تو حدود و قیود میں جکڑدیا جائے اور اسلام مخالف تمام قوتیں آزاد ہوں۔ یہ ملک اور عوام الناس کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہو گا۔ مذہب کے حوالہ سے تمام معاملات میں عوام الناس کے جذبات کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ اگر ریاست عوامی جذبات کا خیال رکھ کر پالیسی مرتب کرے تو پھر کوئی شخص عوام کے جذبات کا استحصال نہ کر سکے گا۔اپنی معروضات کا اختتام علامہ اقبال ؒ کے ان اشعار پر کرتاہوں
کیا نہیں کوئی غزنوی کارگاہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات
عقل و دل و نگاہ کا مرشداولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہ تصورات

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں