Dua article by Mufti Gulzar ahmed Naeemi 226

“دعاء” از مفتی گلزار احمد نعیمی

“دعاء”
از: مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم، پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ، اسلام آباد
٭دعاء انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ دعاء رب کی بندگی کی اصل ہے۔ دعاء کے ذریعے اس کی زندگی سے عذاب ٹلتے ہیں۔ دعاء کے ذریعے مضطرب زندگی میں آسائشوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ زندگی تو بس ایک سانس کی محتاج ہے۔ زندگی میں پختگی دعاؤں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے رب سے دعاء مانگتے تھے ”اے اللہ میری ایسے حفاظت فرما جیسے نومولود بچے کی حفاظت کی جاتی ہے۔ دعاء کیا ہے؟ دعاء اللہ کے پاس بھلائی ہے اسکی طرف رغبت کرنا، عاجزی اور شرمند گی کے ساتھ اپنا دامن پھیلا کر اس سے مانگنے کا نام ہے۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
قال عن انس بن مالک ان رسو ل اللہ الدعائئ ھوالعبادۃ اور الدعائئ مخ العبادۃ۔ جیسے انسان بغیر مغز کے اپنی زندگی کو قائم نہیں رکھ سکتا ایسے ہی وہ بغیر دعاء کے اپنی عبادت کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ امام رازی نے اپنی شہر ہ آفاق تفسیر کبیر میں لکھا ہے عقلاء کا ایک بڑا گروہ کہتا ہے کہ عبودیت کے مقامات میں سے سب سے بڑا مقام دعاء ہے۔
٭دعاء خوشحالی کا بڑا ذریعہ ہے اور جو شخص دعاء کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے تو اللہ نہایت مشکل اور تکلیف میں بھی اسکی دعاء کو قبول فرماتا ہے (ترمذی)
عن أبی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قال: من سَرَّہ أن یستجیب اللہ لہ عنہ الشدائد ِوالکُرب فَلْیُکْثِرِ الدُّعاءَ فیِ الرّخاء۔یعنی خوشحالی میں دعاء کی کثرت کرے۔
٭تقدیر دعاء کے ذریعے ہی بدلتی ہے اور نیکی کے ذریعے سے اللہ انسان کی عمر میں اضافہ کرتا ہے۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآ لہٖ وسلم نے فرمایا: عن سلیمانَ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لا یر دُّ القضاء اِلّا الدعاء۔ ولا یزیدُ فی العُمُرِ الا البرُّ۔ (ترمذی)
دعا ء کی قبولیت
ا۔ آذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعاء ردّ نہیں ہوتی۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم الدعائئ لایُردُّبین الاذان والاقامۃ۔
۲۔دعاء اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی قبول ہوتی ہے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: عن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مامن عبدٍ مسلمٍ یدعو لِأخیہ بظھر الغیب الاَّقال الملک ولک بمثلٍ(رواہ مسلم)
۳۔سب سے تیز قبول ہونے والی وہ دعاء ہے جب ایک غائب شخص دوسرے غائب شخص کے لیے دعاء کرتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرروایت کرتے ہیں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ان أسرع الدعائئ اجابۃ دعوۃ غائب لغائبٍ(ابو داؤد)
۴۔تین دعاؤں کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے وہ ہرصورت قبول ہوتی ہیں (۱) مظلوم کی دعاء(۲) مسافرکی دعاء (۳) والد کی اپنے بیٹے کے حق میں دعاء۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:ثلاثُ دعوٰت مستجاباتٌ لاشکَّ فیھن: دعوۃُ المظلومِ ودعوۃُالمسافر ودعوۃُ الوالد علی ولدہٖ۔رواہ الترمذی و ابو داؤد واحمد۔
۵۔بعض اوقات دعاء قبول نہیں ہوتی تو ہمیں فکر مند نہیں ہو نا چاہیے۔ بس دل مطمئن ہونا چاہیے کہ میری دعاء ضائع نہیں ہوئی کسی کھاتے میں ضرور جائے گی۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان ایسی دعاء کرتاہے کہ جس میں گناہ یا قطع رحمی کی آواز نہیں ہوتی تو اللہ اسے تین چیزوں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے (ا) اسکی دعاء قبول کر لی جاتی ہے۔ یا (۲) آخرت کے لیے ذخیرہ بنادی جاتی ہے یا(۳) اس سے اسی طرح کی کوئی برائی رفع کر دی جا تی ہے۔
۶۔دعاء نہایت اخلاص اور محبت خداوندی کے ماحول میں کرنی چاہیے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا:
فَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ(سورۃغافر، آیت:65)ترجمہ: پس اسی کو پکارو خاص اسی کی بندگی کرتے ہوئے۔
دعاء کے لیے حد الوسع طہارت اور پاکیزگی حاصل کی جائے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حدیث روایت کی ہے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرما یا: اگر کوئی شخص طویل سفر کرتا ہے اس کے بکھرے بال ہیں غبار آلود ہیں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر یارب، یارب کہتا ہے ومطعمہ‘ حرامٌ، وملبسہ‘ حرامٌ، وغزی بالحرام فانیّٰ یستجاب لذالک؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں