صدر مشائخ کونسل پاکستان 38

خواجہ غلام قطب الدین فریدی (صدر مشائخ کونسل پاکستان)

خواجہ غلام قطب الدین فریدی
(صدر مشائخ کونسل پاکستان)
قُل لَّا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبَی
بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات
خیر النساء حسین و حسن مصطفےٰ علی
حضرات اس بابر کت محفل میں صرف موجودگی ہی کافی ہے گفتگو کی تو کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ میں نے ایک درویش سے اس کے
بارے میں پو چھااس آیۃ میں ایک مودت کا ذکر جو سرکار کی اہل بیت سے مودت کا ذکر ہے میں نے کہا محبت تو ہم سنتے رہتے ہیں یہ مودت کیا چیز ہے انہوں نے کہا کہ محبت وہ ہوتی ہے جو ساری زندگی رہے اور مودت وہ ہوتی ہے جو مرنے کے بعد بھی قائم رہے میں نے کہا اس کی سمجھ کیسے آئے گی کہ کوئی ایسی بھی محبت ہوتی ہے جو مرنے کے بعدبھی قائم ہو؟انہوں نے کہا کہ اگر یہ دونوں باتیں آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ محبت کس کو کہتے ہیں اور مودت کس کو کہتے ہیں تو آئیے ذرا مچھلی سے پوچھتے ہیں کہ تمہا را پانی کے ساتھ بڑا پیار ہے، محبت ہے یا مودت ہے؟تو مچھلی کہتی ہے کہ میری پانی کے ساتھ محبت بھی ہے اور مودت بھی ہے اس کا پانی کے ساتھ پیار تو ہے لیکن کسی لجپال کے ساتھ نہیں ہے اسی لیے
تمام مومن کا رشتہ ہے آبو ماہی کا
پڑا جو وقت تو پانی نہ جال میں آیا
تو ہم نے پوچھا اس محبت اور مودت کا ثبوت اس نے مچھلی کو پانی سے نکال دیا مچھلی نے باہر تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دی
یوں تڑپتا ہوں ترے ہجر میں اے جان قرار
دل ہوا ماہی بے آب تیری یاد آئی
تو مچھلی تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے کر محبت کا ثبوت دے دیتی ہے تو ہم نے کہا محبت کا ثبوت تو دے دیا ادھر مودت کا بھی دو اس نے کہا وہ بھی دونگی،ہم نے اس کے ٹکڑے کیے، اس کو پکایا، اس کو کھایا۔ کھانے کے بعد پانی کا گلاس اس کے بعد پھر پانی کا گلاس۔ کچھ دیر کے بعد پھر پانی کا گلاس تو سوچا یار کیا بات ہے آج اتنا پانی کیوں پی رہے ہیں؟ تو کھانے والا کہتا ہے کہ آج میں نے مچھلی کھائی ہوئی ہے تو اہل بیت کے ساتھ محبت ایسی ہونی چاہیے کہ جو زندگی میں بھی رہے اور اس کے بعد بھی رہے۔
اب آپ سوچیں گے کہ مچھلی نے تو ثبوت دے دیا ہم اس کا کیسے ثبوت دیں گے تو سنیں اگر ہم زندگی بھر اہل بیت کی محبت کو اپنے اندر زندہ رکھیں اور اپنی اولاد کے اندر بھی یہ بیج بو کر جائیں تو آپ کے مرنے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ فرماتے ہیں:
میں فقط پیدا ہوں وصف پنجتن کے واسطے
اور تشنہ ہے کوثر میرے ذوقِ دہن کے واسطے
اور اپنا بھی ایک شعر پیش کر دیتا ہوں کہ۔۔۔۔۔
قبر میں ایک جواب کافی ہے
حب آل بتول رکھتا ہوں
خدا کرے اسی پر زندگی اور اسی پر موت ہو۔اٰمین
اس کے ساتھ ہی کانفرنس کا اختتام پیر عبید احمد ستی (وائس پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد) کی دعا کے ساتھ ہوا۔ تمام شرکاء کیلئے ظہرانے کا خوبصورت اہتمام کیا گیا تھا۔تمام شرکاء نے اس خوبصورت کانفرنس کے انعقاد پر تعریفی کلمات کہے اور بہترین انتظامات پر داد دی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں