khatoon e Janat Conference 30

خطاب پروقار جناب مفتی گلزار احمد نعیمی – خاتون جنت کانفرنس

مفتی گلزار احمد نعیمی
(سربراہ جماعت اہل حرم پاکستان، پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خطبہ: نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد
کبھی بنتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لکھا کبھی خیرالنساء لکھا
کبھی زہراء کو ہم نے اٰل احمد کی ردا لکھا
قصیدہ جب پڑھا قرآن میں زہراء کی عصمت کا
ہمیشہ پھر انہیں ہم نے حجاب انما لکھا
تعارف جو کوئی پوچھے کبھی میرے عقیدے کا
تومیں نے اپنا مسلک ہی ولائے فاطمہ لکھا
کہا تھا بضعۃ ٌمنیّ جنھیں سلطان یثرب نے
انہی کو ہر مفسر نے بنائے ھل اتیٰ لکھا
جو پوچھی مجھ سے کوثر کی کبھی تفسیر دنیا نے
تو میں نے فاطمہ کی منقبت کا حاشیہ لکھا
قابل قدر وذی احتشام قائدین کرام، علمائے کرام اور دور و نزدیک سے تشریف لانے والے خواتین و حضرات السلام علیکم!
آج ہم یہاں سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہیں۔ آج یہاں سب محبین اہل بیت جمع ہیں۔ ہم سب کا مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضری لگوانا ہے اور بار گاہ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں اپنے عہد کی تجدید کے لیے یہاں اکٹھے ہیں اور دربار رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں یہ عرض پیش کرنا چاہتے ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!ہم آپ کی محبت میں آپکی اولاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم یہاں جمع ہو کر اس کامل یقین کا اظہار کررہے ہیں کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرنے والاہے ہم اس سے محبت کرنے والے ہیں۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دشمنی رکھنے والا ہے وہ ہمارا دشمن ہے جو اہل بیت سے محبت کرنے والا ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو اہل بیت کا دشمن ہے ہمارا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا۔
حضرت زید بن ارقم راوی ہیں
ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قال لعلی وفاطمۃ والحسن والحسین: انا حَرْبٌ لمن حَارَ بتم، وسِلمٌ لمن سَا لمتُم۔ جس سے تم لڑو گے میں اس سے لڑوں گا اور جس سے تم صلح کرو گے میں اس سے صلح کرو ں گا۔ ہمارا بھی یہی اعلان ہے کہ جن سے اہل بیت رسول کی صلح ہے ہماری بھی صلح ہے جن سے اہل بیت رسول کی جنگ ہے ہماری بھی جنگ ہے۔
حضرت صفیہ بنت شیبہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ وسلام اللہ علیھمانے روایت کیا ہے۔
خرج النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وعلیہ مرط مرحَّلٌ من شعر أ سود۔ فجاء الحسن بن علی فادخلہ ثم جاء الحسین فدخل معہ ثم جاعت فاطمۃ سلام اللہ علیھا فأدخلھا ثم جاء علیٌ فأدخلہُ ثم قال: انما یرید اللہ۔۔۔الی اخرالایۃ۔
ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اون سے کجا ووں کے نشان بنے ہوئے تھے۔ پس حسن بن علی آئے تو آپ نے انہیں چادر میں داخل فرمالیا۔ پھر حضرت حسین ؓآئے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ چادر میں داخل ہو گئے۔ پھر سید ہ فاطمہ سلام اللہ علیہا تشریف لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں بھی داخل فرما لیا۔پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں بھی چادر میں داخل کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (انما یرید اللہ۔۔۔)۱۔(الترمذی والسنن کتاب المناقب عن رسو ل اللہ، باب فضل فاطمۃ بن محمد الرقم: ۷۸۳)
اس حدیث کو دیگر طرق سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ اسے حدیث کساء کہتے ہیں۔اس سے واضح پتہ چل رہا ہے کہ آیۃانما یرید اللہ۔۔۔کا مظہر تو یہی ہستیاں ہیں جنہیں سرکارصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی مبارک چادر میں داخل فرمایا۔ انکی پاکیزگی، عفت و طہارت کی قرآن بھی گواہی دے رہا ہے اور صاحب قرآن کا نطق و عمل دونوں گواہ ہیں۔ اسی لیے امام شافعی علیہ الرحمۃ نے فرمایا تھا۔
یااھل بیت رسول اللہ حُبُّکُم
فرضٌ من اللہ فی القرآن انْزَلَہ‘
ترجمہ:اے اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم!آپ سے محبت کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے جسے قرآن مجید میں اس نے نازل فرمایا ہے۔
ہم اس فرض کی تکمیل کے اہل بیت رسول سے محبت کرتے ہیں۔ یہ فرض کی تکمیل بھی ہے، گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بھی ہے اور حصول جنت کا راستہ بھی یہی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ روایت فرماتے ہیں
اخبرنی رسول اللہ أِنَّ اوَّلَ من یدخل الجنۃ انا و فاطمۃ والحسن والحسین قلت یارسول اللہ فمحبونا؟ قال من ورائکم
ترجمہ: حضرت علی کر م اللہ وجہہ روایت کرتے ہیں کہ سرکا رصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے میرے ساتھ جنتمیں داخل ہونے والوں میں فاطمہ، حسن اور حسین ہونگے۔ میں نے عرض کی ہم سے محبت کرنے والے؟ فرمایا: وہ تمہارے پیچھے پیچھے ہونگے (امام حاکم، المستدرک، الرقم ۳۲۷۴)
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے بارے میں فرمایا: حضرت مسور بن مخرمہ راوی ہیں کہتے ہیں
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انما فاطمۃ شجنۃٌمنیّ یبسطنی ما یبسطھا ویقبضنی مایقبضھا۔
(المسند، امام احمد بن حنبل ؒ الرقم:۷۴۳۱)،(المستد رک امام حاکم الرقم: ۴۳۷۴)
ترجمہ:حضرت مسور روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: فاطمہ تو میری ثمر بار شاخ ہے جو چیز اسے خوش کرتی ہے وہ مجھے خوش کرتی ہے جو اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے پریشان کرتی ہے
اللہ کے رسول کا واضح پیغام ہے فاطمہ کی خوشی میں میری خوشی ہے فاطمہ کی پریشانی میں میری پریشانی ہے۔
جو فاطمہ کو خوش کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خوش کرتا ہے اور جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خوش کرتا ہے وہ اپنے رب کو راضی کرتا ہے۔
محترم سامعین کرام! ہم اہل پاکستان جس دوراہے پرکھڑے ہیں وہ بہت خطرناک صورت حال ہے۔ خصوصاً اہل مذہب بہت ہی پستی اور کمزوری کی طرف جارہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے ساتھ تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ اگر یہ تعلق کمزور رہے گا تو ہم کبھی بھی اپنی اسلامی روایات کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ سیکولر اور ملحدانہ قوتیں پاکستان میں زور پکڑ رہی ہیں۔ این جی اوز نے اپنے خزانوں کے منہ اسلام دشمنی میں کھولے ہوئے ہیں۔ مٹھی بھر دین بیزار پورے ملک کی مذہبی اور ثقافتی روایات پر حملہ آور ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہم اہل مذہب کچھ غفلت کا شکار رہیں اور کچھ دین فروشی عروج پر ہے
کوئی تاجر حسب و نسب ہے
کوئی دیں فروش قدیم ہے
یہاں کفش بر بھی امام ہے
یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
یہاں سب کا نرخ جد ا جدا
اسے مول لوا سے تول لو
جو طلب کرے کوئی خوں بہا
تو دہن خزانے کے کھو ل دو
اس صورت حال میں ہر طرف پریشانی ہی پریشانی ہے لیکن جب میں (سٹیج پر موجود) ان نورمنور چہروں کو دیکھتاہوں تو کچھ حوصلہ بھی ہوتاہے کہ جہاں دین فروش اپنے آباء و اجداد کی قبائیں بیچنے والے۔جہاں آواز اور سُر کو بیچنے والے ہیں وہیں پر قربانیاں دینے والے بھی مردانِ حق موجود ہیں جنہوں نے خون جگر دے کر اس گلستان پاکستان کو تروتازہ رکھا ہوا ہے
مگر ایسے غنی بھی تھے
اس قحط زار دمشق میں
جنہیں کوئے یا ر عزیز تھا
جو کھڑے رہے مقتل عشق میں
ہم سب نے مل کر پاکستان کو بچانا ہے اسلامی تعلیمات اور اسلامی روایات کی پاسداری کرنی ہے۔لمحہ موجود میں پوری دنیا کے نقشے میں پاکستان اور اسلام نشانے پر ہے ہزاروں جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود پاکستان پھر بھی دہشت گر د ی اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ ٹھہرا ہے مارک پومیوکو یہ کہتے ہوئے ذرابھی شرم محسوس نہیں ہوئی کہ اس نے پاکستان کو امریکہ اور دنیا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔اس کے برعکس اسے انڈیا کی پاکستان پر جارحیت نظر نہ آئی۔آج اسلامی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم،امریکہ اور اس کے حواریوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کشمیر ہو، فلسطین ہو، یمن ہوہر جگہ ہمیں امریکہ کی سرپرستی نظر آرہی ہے۔ بھارت کی جارحیت کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی حوصلہ شکنی کی ہے اور بھارت کو تھپکی دی ہے۔
محترم سامعین!پورا عالم جانتا ہے کہ اسرائیل ایک ظالم ریاست ہے۔ ا سرائیل امریکہ کی سرپرستی میں فلسطینی مظلوموں پر نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ظلم و بر بریت جاری رکھے ہوئے ہے مسلمان ممالک کا فرض بنتاہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دیں چاہے وہ مسلمان کشمیر کے ہوں، فلسطین کے ہوں یا یمن کے ہوں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل خود مختار ہے۔میں اس اعلان کی بھرپور مذمت کرتا ہوں یہ پوری امت مسلمہ کے لیے ناقابل قبول ہے ہم اسرائیل کو”گولان پائٹس“ پر ناجائز قابض سمجھتے ہیں اور ہمارا یہ ماننا ہے
کہ”گولان پائٹس“کل بھی شام کی ملکیت تھیں اور آج بھی شام کا حصہ ہیں ان پہاڑیوں پر ہم اسرائیل کے ناجائز ظالمانہ قبضے کو تسلیم نہیں کرتے
یہ بات بہت ہی خوش آئند ہے کہ عراق سے داعش کا تقریباً صفایا ہو چکا ہے اور شام بھی داعش کو شکست دینے کے آخری مراحل میں ہے۔ وہ دن دور نہیں جب انبیاء، اولیاء کی سرزمین داعش کے ناپاک وجود سے پاک ہو جائے گی۔اللہ کے راستے کے مجاہدین اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اسرائیل کو نیست و نابود کریں گے۔ اور ان شاء اللہ اسے کوئی بے وقوف اور احمق ٹرمپ نہیں بچا سکے گا
دنیا میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے قرآن کے ہمہ گیر اصول تعاونو ا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوانکو اپنایا جائے اگر عالمی برداری International coopretion and goodness کے اصول کو اپنائے تو دنیا میں امن قائم ہو سکتاہے ورنہ امن عالم کو تباہ کرنے کے لیے نت نئے عناوین سامنے آئیں گے۔ کل مغرب اور اسلام مخالف دنیا نے اسلام کو بدنا م کرنے کے لیے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر اسے بد نا م کرنے کی کوشش کی تھی تو آج ان کے اندر سے ہی سفید نام برتریWhite Supremacy اور اسلامو فوبیا جیسے خطرات پیدا ہورہے ہیں
مغرب اور مشرق کے غیر اسلامی ممالک کو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن کی تقلید کرنی چاہیے۔دنیا کی بقاء ایسے رویے کو اپنانے میں ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں