خطبہ کوہ صفاٗ 40

حضرت سیدۃ مریم بنت عمران اور حضرت سیدۃ فاطمۃ بنت محمد علیہ الصلاۃ والسلام کی کرامت میں مناسبت

حضرت سیدۃ مریم بنت عمران اور حضرت سیدۃ فاطمۃ بنت محمد علیہ الصلاۃ والسلام کی کرامت میں مناسبت:
قاری عزیز حیدر قادری
آپ سلام اللہ علیھا کا اسم مبارک فاطمۃ تھا
علامہ شہاب الدین قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ میں لکھتے ہیں کہ فطم کا معنی لغت میں بچے کو دودھ پینے سے روکنے کے ہیں یعنی سیدہ فاطمۃ لوگوں کو دوزخ کی آگ سے روکنے والی ہیں یا فاطمۃ نام اس بنا پر رکھا گیا کہ حق تعالیٰ نے ان کو ان کی اولاد کو اور ان کے محبین کو آتش دوزخ سے محفوظ رکھا ہے
القابات:
آپ سلام اللہ علیہا کے بہت سارے القابات ہیں جن میں سے چند مشہور القابات یہ ہیں
زہراء: زہراء کہنے کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں ان میں سے اہم یہ ہے کہ آپ حیض و نفاس سے محفوظ تھیں علامہ نبھانی رحمۃ اللہ علیہ آپ سلام اللہ علیہا کے خصائص میں بیان کرتے ہیں کہ آپ کو حیض نہیں آتا تھا جب آپ کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی تو آپ اسی وقت پاک ہو جاتیں حتی کہ آپ کی نماز قضا نہیں ہوئی اسی وجہ سے آپ کو زہرا کہا جاتا ہے
بتول: اللہ کی سچی اور بے لوث بندی ، اللہ کی راہ میں دنیا سے قطع تعلق کرنے والی
سیدۃ النساء العلمین: تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار
سیدۃ النساء اہل الجنۃ: جنت کی عورتوں کی سردار
بضعۃ الرسول : جگر گوشہ رسول علیہ الصلاۃ والسلام
زاکیہ: نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ عادات و اخلاق والی
راضیہ: اللہ اور رسول کی رضا پر راضی رہنے والی
ام ابیھا: یعنی کریمۃ الطرفین باپ اور ماں دونوں کی نسبت سے عالی مرتبہ
طاہرہ: پاک باز خاتون
حسب و نسب :
سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا سرور کونین فخر موجودات رحمت دو عالم سید الانبیاء و الرسل جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محسنہ اسلام مجسمہ شرافت فخر عرب ام المومنین حضرت سیدۃ خدیجتہ الکبریٰ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں آپ سلام اللہ علیہا کا حسب و نسب رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا حسب و نسب آپ کا خاندان رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا خاندان آپ کا گھرانہ رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا گھرانہ آپ کی اولاد رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی اولاد بلکہ تمام امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد آپ سلام اللہ علیہا کے ذریعے حسنی اور حسینی سادات کی صورت میں تا قیامت جاری رہے گی احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کیا خوبصورت فرما گئے
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
ولادت: حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری اور چہیتی صاحبزادی سیدۃ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت اعلان نبوت سے پانچ سال قبل جمادی الثانی کے مہینے میں مکۃ المکرمہ میں ہوئی
شمائل و خصائل:
سیدۃ خاتون جنت کی صورت اور گفتار و رفتار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ ملتی جلتی تھی رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کے بہت سے ظاہری و باطنی اوصاف ان کی ذات میں موجود تھے
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کا قول ہے کہ میں نے طور وطریق کی خوبی، اخلاق و کردار کی پاکیزگی، نشست و برخاست، طرزِ گفتگو اور لب و لہجہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ فاطمۃ سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا ان کی رفتار بھی بالکل رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی رفتار تھی علامہ صائم چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوبصورت اس کی ترجمانی کی ہے
کرم کا مخزن سخا کا مرکز عطا سراپا جناب زہرا
نبی کی صورت نبی کی سیرت نبی کا نقشہ جناب زہرا
مسلم شریف کتاب فضائل الصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین باب فضائل فاطمۃ بنت النبی علیھا الصلاۃ والسلام میں ام المومنین حضرت سیدۃ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا سے روایت ہے کہ ایک دن ہم سب بیویاں آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس بیٹھی ہوئیں تھیں کہ سیدۃ فاطمۃ سامنے سے آئیں بالکل رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی چال تھی ذرا بھی فرق نہ تھا آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے بڑے تپاک سے بلا کر مرحبا یا بنتی کہہ کر پاس بٹھا لیا پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ان کے کان کچھ فرمایا تو وہ رونے لگیں سیدۃ کو روتے دیکھ کر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے پھر ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں ام المومنین سیدہ عائشہ سلام اللہ علیہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدۃ فاطمۃ سے کہا کہ اے فاطمۃ تمام بیویوں کو چھوڑ کر تم سے رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام اپنے راز کی باتیں کہتے ہیں اور تم روتی ہو آپ علیہ الصلاۃ والسلام جب تشریف لے گئے تو میں نے سیدۃ فاطمۃ سے رونے اور ہنسنے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا میں اباجان کا راز فاش نہیں کروں گی جب رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا وصال مبارک ہوا تو میں نے سیدۃ سے کہا کہ اے فاطمۃ میرا تم پر جو حق ہے میں تم کو اس کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ اس دن کی بات مجھ سے کہہ دو انہوں نے کہا ہاں اب ممکن ہے میرے رونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی جلد وصال کی خبر دی تھی اور ہنسنے کا سبب یہ تھا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا فاطمۃ کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ تم دنیا کی عورتوں کی سردار ہو
ام المومنین حضرت سیدۃ ام سلمہ سلام اللہ علیہا سے روایت ہے کہ سیدۃ فاطمۃ رفتار و گفتار میں رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کا بہترین نمونہ تھیں
حضرت سیدۃ مریم بنت عمران اور حضرت سیدۃ فاطمۃ بنت محمد علیہ الصلاۃ والسلام کی کرامت میں مناسبت:
سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 37 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ: حضرت زکریا علیہ السلام جب کبھی عبادت گاہ میں ان کے ( سیدۃ مریم) کے پاس جاتے تو ان کے پاس تازہ رزق موجود پاتے انھوں نے کہا اے مریم! تمھارے پاس یہ رزق کہاں سے آیا؟ مریم نے کہا یہ ( رزق) اللہ کے پاس سے آیا ہے بیشک اللہ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے
اس آیت مبارکہ میں قرآن مجید حضرت سیدۃ مریم کی کرامت کا ذکر کر رہا ہے امام ابنِ جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو عبادت گاہ کےلئے وقف کئے جانے کو قبول فرما لیا اور حضرت زکریا علیہ السلام کو ان کا کفیل بنایا حضرت زکریا علیہ السلام کا نسب شریف حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام تک پہنچتا ہے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے تھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام نجار ( بڑھئ) تھے حضرت مریم بنت عمران آل داؤد سے تھیں جو یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے نواسے تھے حضرت زکریا علیہ السلام کا سیدۃ مریم علیہ السلام کی کفالت کے بارے میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سیدۃ مریم پیدا ہوئیں تو ان کی ماں نے ان کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور ان کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں جو اس وقت بیت المقدس کے دربان تھے اور ان سے کہا اس نذر میں مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو یہ میری بیٹی ہے انہوں نے کہا یہ ہمارے امام حضرت عمران کی بیٹی ہے جو ہمیں نمازیں پڑھاتے تھے حضرت زکریا علیہ السلام نے کہا یہ لڑکی مجھے دے دو کیونکہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے باقی لوگوں نے کہا ہم اس فیصلہ پر خوش نہیں ہیں یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے پھر انہوں نے حضرت مریم کی پرورش کےلئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی یہ وہ قلم تھے جن کے ساتھ وہ تورات لکھتے تھے حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکل آیا اور انھوں نے سیدۃ مریم کی کفالت کی اب اللہ تعالیٰ حضرت سیدۃ مریم کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بے موسمی ( پھل) میوے ان کے پاس پاتے مثلاً سردیوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں سردیوں کے میوے حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمھارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے ؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بے حساب روزی دیتا ہے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سیدۃ مریم کے پاس ان کا رزق جنت سے آتا تھا اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے علامہ الدین اسماعیل ابن کثیر قرشی دمشقی اپنی مشہور تفسیر القرآن العظیم میں اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر تفسیرِ مظہری کے اندر اسی ایت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں
علامہ عماد الدین اسماعیل ابنِ کثیر قرشی دمشقی اپنی تفسیر القرآن العظیم میں اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر تفسیرِ مظہری کے اندر اسی ایت کے تحت لکھتے ہیں کہ مسند حافظ ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام تکلیف محسوس کرنے لگے آپ اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا حضرت سیدۃ فاطمۃ سلام اللہ علیہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمھارے پاس کچھ ہے ؟ کہ میں تناول کر لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ حضرت سیدۃ سلام اللہ علیہا کی کنیز نے دو روٹیاں اور گوشت کا ٹکڑا حضرت سیدۃ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو کے مجھے اور میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللّٰہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو دوں گی حضرت سیدۃ نے رسول اللہ کی خدمت میں وہ روٹیاں اور گوشت کا ٹکڑا بطور ہدیہ بھیج دیا حضور نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام وہ ہدیہ واپس لے کر خود ہی سیدۃ فاطمۃ کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا بیٹی یہ لے لے حضرت سیدۃ نے طباق کھول کر دیکھا تو اس میں روٹیاں اور گوشت بھرا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : انی لک ھذا ،تمھارے پاس یہ کہاں سے آیا سیدۃ سلام اللہ علیہا نے کہا ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بے حساب روزی دے آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے بیٹی تجھے بھی اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار ( مریم سلام اللہ علیہا) جیسا کر دیا انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللّٰہ تعالیٰ جسے بے حساب رزق دیتا ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مولا کائنات علی علیہ السلام کو بلایا اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت علی علیہ السلام نے اور حضرات حسنین کریمین ، حضرت سیدۃ فاطمۃ ، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی سب ازواج مطہرات سلام اللہ علیھن نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی کھانا اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا تو حضرت سیدۃ سلام اللہ علیہا نے پڑوسیوں کو تقسیم کیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں