اچھی حکمرانی کے اصول 64

حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ شخصیت و مناقب

حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالی عنہ
شخصیت و مناقب
جب ہم صحابہ کرام علیھم الرضوان میں سے کسی کا بھی تذکرہ کرتے ہیں تو ایک بات کھل کے سامنے آتی ہے،ایک ابدی حقیقت کا نقشہ لوح دل پر خود بخود منقش ہوجاتاکہ صحابی وہ ہے جس نے سر کی آنکھوں سے نہیں دل کی آنکھوں سے حقیقت ایمان کا مشاہدہ کیا۔یہ لوگ اللہ سبحانہ وتعالی کے رنگ میں رنگے گئے اور عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسے مر مٹے کہ آگ کے دریا میں ڈوب کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے پار لگے اور کامیابی سے پارلگے۔وہ عشق خدا ومصطفے میں اتنے غرق ہو گئے کہ عشق نے مال کا تقاضہ کیا تو مال پیش کردیا،اولاد کا تقاضہ کیا تو اولاد پیش کردی اور جب عشق نے عزیز ترین متاع جان کا تقاضہ کیاتو یہ اپنی جان کا نذرانہ بلاتامل پیش کرنے میں نہ ہچکچائے۔بلکہ روتے تھے کہ اے اللہ تو نے صرف ایک ہی جان عطا کی ہے اے کاش۔۔!اگر ایک ہزار جانیں عطا کرتا تو ایک ایک کر کے تیرے سامنے پیش کرتے۔عبد اللہ بن حذافہ سہمی جیسے جلیل القدر صحابی تو یوں گویا ہوئے کہ اگر میرے جسم کے بالوں کے برابر میرارب مجھے جانیں عطا فرماتا تو سب کی سب میں اس کے راستے میں قربان کر دیتا۔ایک نہیں سیکنڑوں اصحاب رسول ایسے تھے جو جذبہ شھادت سے ہمہ وقت سرشار رہتے تھے۔وہ تمنا بھی کرتے تھے اور سچے دل سے دعائیں بھی کرتے تھے کہ شھادت کی موت میسر آجائے۔وہ یوم شھادت کو محبوب کی ملاقات کا دن تصور کر کے مچل جاتے تھے کہ کل میدان کارزار سجے گا اور میری جان میرے رب کے راستے میں قربان ہوگی۔میرےلیے کل موت نہیں یوم عید سعید ہوگا۔
عشرتِ قتل گاہِ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
محترم قارئیں۔۔!!
آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی عاشقِ صادق کی شخصیت سے متعارف کرانے چلیں ہیں جس نے ایک ایسے قابل رشک انداز میں جام شھادت نوش کیاکہ شھادت خود انگش بدنداں ہوگئی کہ ایسا قابل فخر سپوت تومیں نےکبھی نہیں دیکھا جو اپنے رب کا ایسا دیوانہ ہو اور اپنے رسول کا ایسا عاشق ہو۔۔۔۔۔حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی نام سے کون واقف نہیں۔آپ مدینہ کے مشہور قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کا پورا نام خبیب بن عدی بن مالک تھا آپ کا تعلق مدینہ کے انصار سے تھا۔اسلام کی پہلی عظیم جنگ غزوہ بدر میں شریک تھے۔اس غزوہ میں آپ مجاہدین اسلام کے مال ومتاع کے نگران مقرر ہوئے اور عملی جنگ میں بھی حصہ لیا۔مشرکین کا ایک بڑا سورما حارث بن عامر بن نوفل آپ ہے کی تلوار نے جہنم واصل کیا۔اس طرح آپ بدر میں شریک ہونے کی وجہ سے بدری صحابی ہونے کا جلیل القدر شرف بھی رکھتے تھے۔ہجرت مدینہ سے قبل ہی آپ اسلام قبول کر چکے تھے اور مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔آپ کو غزوہ احد میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل تھا۔خبیب بن عدی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں کافروں نےسولی پر لٹکایا۔اس سے قبل کسی مسلمان کو یہ اعزاز حاصل نہ ہوا۔آپ ٹرینڈ سیٹر( terend.setter) شخصیت تھےجنہوں نے سوئے دار جانے سے پہلے دورکعات نماز نفل کا رواج ڈالا۔اس کے بعد آنے والے تمام مظلوم شھیدوں نے اس سنتِ خبیب کی اتباع کی اور جان جان آفریں کے سپرد کرنے سے پہلے اپنے رب کی بارگاہ میں دوگانہ نماز کا نذرانہ پیش کیا۔
تمام محدثین نے آپ کی شھادت کا المناک واقعہ اپنی اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ہم امام بخاری علیہ الرحمہ کی الجامع الصحیح سے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شھادت کا واقعہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کی طرف جاسوسوں کا ایک لشکر بھیجاجسکا امیر آپ نےحضرت عاصم بن ثابت کو مقرر فرمایا۔یہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب وہ مکہ اورعسفان کے درمیان پہنچے تو قبیلہ ہذیل کی بنولحیان شاخ میں اس گروہ کا ذکر کیا گیا۔بنو لحیان نے اپنے سو ماہر تیر اندازوں کو نبی پاک کے اس فرستادہ لشکر کے تعاقب میں روانہ کیا۔بنولحیان کے یہ تیرانداز مجاہدین اسلام کے قدموں کےنقوش پر چلتے رہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں یہ لشکر اسلام پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔اس مقام پر انکو مدنی کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو مجاہدین اسلام مدینہ سے کھاتے چلے آرہے تھے۔کفار نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں،پھر وہ انہی کھجوروں کے نشانات پر چلتے چلتے لشکر اسلام تک ہہنچ گئے۔سالار لشکر اسلام جناب حضرت عاصم بن ثابت اور آپکے سپاہیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو یہ سب ایک ٹیلے پر چڑھ گئے اور بنو لحیان نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔پھر انہوں نے مجاہدوں سے کہا کہ ہم آپ سے پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم ٹیلے سے نیچے اتر آؤ گے تو تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔لشکر کے سپہ سالار حضرت عاصم نے کہا : اما انا فلاانزل في ذمة كافر..اے مجاہدین سن لو میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔پھر دعاء فرمائی: اللھم اخبر عنا نبیک۔اے میرے رب ہماری خبر اپنےنبی کو دے دے۔یہ دعا مانگ کر یہ جانثاران اسلام کافروں کے ساتھ ٹکرا گئے بنو لحیان کے گیدڑوں پر یہ خدا کے شیر جھپٹے۔گھمسان کا رن پڑا تیری اندازی ہوئی۔کافروں نے اسلامی لشکر کے سالار اور انکے سات ساتھیوں کو شھید کردیا۔حضرت خبیب، حضرت زید اور ایک مجاہدٹیلے پر ہی موجود تھے اور محفوظ رہے۔بنو لحیان کے تیراندازوں نے ان سے بہت پختہ وعدہ کیا کہ اگر تم نیچے آجاؤ تو ہم تمہیں امان دے دیں گے۔اس پختہ یقین دہانی پر وہ نیچے اتر آئے۔بنولحیان نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا اور انہیں کمانوں کی ڈوریوں سے باندھ دیا۔حضرت خبیب اور حضرت زید کے ساتھ جو تسیرے مجاہد تھے انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی وعدہ خلافی ہے اس لیے میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔کفار نے انہیں زبردستی گھسیٹنے کی کوشش کی مگر وہ اڑ گئے ان کے ساتھ جانے پر نہیں مانے۔کفار نے انہیں وہیں قتل کردیااور یہ لوگ حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید کو لے گئے۔انہوں نے ان دونوں مجاہدوں کو مکہ میں بیچ دیا۔حضرت خبیب کو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خریدا۔یہ وہی حارث ہے جسے آپ ( خبیب)نے غزوہ بدر میں جہنم واصل کیا تھا۔ حضرت خبیب حارث کے بیٹوں کے پاس ہی قید رہے۔حتی کہ جب حارث کے بیٹوں نے آپکو شھید کرنے کا عزم مصمم کرلیا تو آپ نے حارث کی بیٹیوں میں سے کسی سے استرا مانگا تاکہ وہ زیرناف بالوں سے پاک ہو سکیں۔لڑکی نے انہیں استرا دے دیا۔ حارث کی بیٹی کا اپنا بیان ہے کہ میں اپنے بیٹے سے بالکل بے دھیان ہوگئی۔میرا بیٹا خبیب بن عدی کے پاس جا بیٹھا،میں نے اچانک خبیب کی طرف دیکھا اس کے ہاتھ میں استرا تھا میرا بیٹا اسکی ران پہ بیٹھا ہوا تھا۔اس پورے منظر کو دیکھ کر میں بہت گبھرائی کہ اب میرا بیٹا تو خبیب قتل کردیگا۔جب خبیب نے میری اس پریشان کیفیت کو دیکھا تو مجھے کہنے لگا: کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ میں آپکے بچے کو قتل کردونگا۔میں ان شاء اللہ ہرگز ایسا نہیں کرونگا۔حارث کی بیٹی کا اپنا بیان ہے کہ میں نے خبیب جیسا نیک اور پارسا کوئی قیدی نہیں دیکھا۔میں نے انہیں انگوروں کے بڑے بڑے خوشے تناول کرتے ہوئے بچشم خود ملاحظہ کیااس کے باوجود کہ مکہ میں اس وقت نہ انگوروں کا موسم تھا اور نہ ہی کھجوروں کا۔اسے یہ رزق اسکا رب عطا فرماتا تھا۔حارث کے بیٹے اسے حرم مکہ سے باہر حل میں مقام تنعیم کے پاس قتل کے لیے لیکر گئے۔اس قتل کی انہوں نے بہت نشرو اشاعت کی اور پورے مکہ کو انہوں نے اکٹھا کیا۔سولی کے پاس پہنچ کر اس عاشق صادق نے حارث کے بیٹوں سے کہا کہ مجھے مہلت دو کہ میں دو رکعت نماز ادا کر سکوں۔جب نماز دوگانہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان کفار سے فرمایا۔اگر تمہارے خیال میں یہ نہ آتاکہ میں موت سے ڈرکر لمبی نماز پڑھ رہا ہوں تو میں نماز کو اور لمبا کرتا۔حضرت خبیب اسلام کی وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے قتل کیے جانے سے پہلے دورکعت نماز ادا کرنے کی طرح ڈالی۔پھر اس شھید وفا نے اپنے رب کی بارگاہ میں ان وعدہ خلاف کفار کےلیے بدعاء فرمائی “اللھم احصھم عددا” اے اللہ ان کفار کو ایک ایک کر کے قتل فرما۔پھر جب سوئے مقتل متوجہ ہوئے اورسولی پر جھول جانے کے لیے گئے تو مردانہ وار تشریف لیکر گئے۔اس شان سے مصلوب ہونے کے لیے گئےجو بہت قابل رشک شان تھی کسی نے ایسے موقعہ کے لیے کہا تھا۔
جس دھج سےکوئی مقتل کو گیایہ شان سلامت رہتی ہے
اس جان کی کوئی بات نہیں یہ جان تو آنی جانی ہے۔ایک سکینت طاری تھی آپ کے چہرے پر۔اپنے سولی پر چڑھائے جانے کا کچھ یوں قصیدہ پڑھا۔
ما ابالی حین اقتل مسلما
علٰی ایّ شقّ کان للہ مصرعی
وذٰلک فی ذات الالٰه وان یشا
یبارک علٰی اوصال شلو مّمزّع
ترجمہ: مجھے کوئ فرق نہیں پڑتاجب میں مسلمان قتل کیا جارہاہوں
جس پہلو پر بھی گروں گامیرا گرنا اللہ کے لیے ہی ہوگا
میرا یہ قتل کیا جانا اللہ کی رضا کے لیے ہوگااگر وہ چاہے۔
میرے ہر کٹے جسم کے ٹکڑے میں برکت ڈال دے۔
پھر عقبہ بن حارث آپ کے قتل پر آمادہ ہوا اور آپکو قتل کر دیا۔
(الجامع الصحیح للبخاری،کتاب المغازی ،باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونہ)
یہ طویل روایت امام بخاری نے روایت فرمائی ہے۔بعض دیگر کتب میں بھی روایات ہیں جو آپکی عظمت اور رفعت پر دلالت کرتی ہیں۔آپ نے بوقت شھادت یوں دعاء فرمائی۔”اللھم اخصھم عددا،واقتلھم بددا،ولاتبق منھم احدا۔” ترجمہ: اے اللہ تو انکی گنتی فرما،انکو چن چن کر قتل فرمااور ان میں سے کسی کو مت چھوڑ۔
یہ تن تنہا فرزند توحید اپنے اطراف و جوانب میں جب نظر دوڑاتا ہے تو اسے اپنا کوئی نظر نہیں آتا،ہر طرف دشمنوں پر ہی نظر پڑتی ہے۔دعا کرتے ہیں ” اے میرے مولا! میں کسی بھی ایسے شخص کو نہیں دیکھ پا رہا جو تیرے نبی کو میرا سلام پہنچاسکے، میرے رب توہی میراسلام میرے نبی کو پہنچادے۔جب جبریل امین اس سانحہ کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئے تو موسی بن عقبی بیان کرتے ہیں کہ سرکار اس وقت بیٹھے ہوئے تھےآپ نے فرمایا: وعلیک السلام اے خبیب! تمہیں قریش نے قتل کردیا ہے۔جب عشق اس انتہاء کو پہنچ جائے کہ خبیب یوں کہیں کہ مجھے اپنی جان دینا تو گوارہ ہے مگر اپنے محبوب کے قدموں میں ایک معمولی سا کانٹا چبھنا بھی گورا نہیں ہے تو پھر عاشق کا سلام محبوب تک کیسے نہیں پہنچے گا۔خبیب نے کتنے دور سے سلام بھیجا اللہ نے جبریل کے ذریعے آپکا سلام سرکار تک پہنچا دیا۔واہ۔واہ
جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعمرو بن امیہ کو آپکا جسم لینے کے لیےمکہ روانہ فرمایا تو آپ نے رات کی تاریکی میں درخت پر چڑھ کر جب رسی کاٹی تو قبل اس کے کہ عاشق کا وجود زمین پر لگتا فرشتوں نے پہلے ہی اٹھا لیا اور اس مقام پر لے گئے جہاں کا یہ جسم مستحق تھا۔اس لیے حضرت خبیب بن عدی کا مزار زمین پر کہیں نہیں ہے۔اسی لیے آپکو “بلیع الارض”کا لقب عطاء ہوا۔خبیب وہ شھید وفا ہے جس پر مکہ کے ہر فرد نے بدر کا بدلہ لینے کے لیے تلواروں تیروں چھریوں کے وار کیے۔جسم اطہر کے گوشت کو کاٹ کاٹ کر پھینکتے رہے۔کوٹی پیٹ کو کاٹ رہا ہے کوئی بازؤں اور ٹانگوں سے گوشت کھینچ رہا ہے۔ایک فرد اور بدر کے تمام شکست خوردہ اس سے بدلے لے رہے ہیں۔اللہ اکبر۔
دور فاروقی میں حمص کے گورنر حضرت سعید بن عامر جمحی جب بھی خبیب پرڈھائے جانے والے روفرساح مظالم یاد کرتے تو غش کھا کر گر پڑتے تھے۔لوگوں نے خلیفئہ وقت سے شکایت کی کہ گورنر کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔خلیفہ نے گورنر کو بلایا اور پوچھا کہ آپ پر دیگر الزامات کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی ہے کہ تم مرگی کے مریض ہو۔سعید بن عامر گورنر نے کہا مجھے مرگی کی بیماری نہیں ہے جب بھی خبیب کی المناک شھادت اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم یاد آتے ہیں تو میں اپنے ہوش وہواس کھو بیٹھتا ہوں۔
حضرت خبیب وہ پہلی ہستی ہیں جو اتنے بڑے ظلم کا شکار ہوئے۔لیکن قسمت ایسی کہ یہ شھادت بارگاہ خدا ومصطفے میں ایسی مقبول ہوئی کہ مزار کہیں بھی نہیں ہے مگر اس عاشق صادق کے تذکرے ہر جگہہ موجود ہیں۔
خدا! رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں