جلد بڑی خوشخبریاں ملیں گی ۔ گورنر سٹیٹ بنک 7 67

جلد بڑی خوشخبریاں ملیں گی ۔ گورنر سٹیٹ بنک

صدر مملکت عارف علوی نے کہاہےکہ ملکی ترقی میں رکاوٹ اور معیشت کی تباہی کی بڑی وجہ ماضی کی کرپشن اور غلط فیصلے بنے، معیشت کی تباہی میں اگر 50 فیصد کرپشن کا حصہ ہے تو 50 فیصد غلط فیصلوں کا، ملک کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور ملکی مفاد میں حکومت اور اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے ، عمران خان کے آنے کے بعد خارجہ محاذ پر ہم نے اچھی پیش رفت کی ہے۔

تاہم ملکی سطح پر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، عمران خان پارلیمنٹ کو اہمیت دینا چاہتے ہیں مگر ان کے پہلے خطاب میں اپوزیشن نے جس طرح احتجاج کیا اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ آنا چھوڑ دیا، وفاقی حکومت سول سروس ریفارمز پر کام کر رہی ہے،ملکی ترقی میں رکاوٹ اور معیشت کی تباہی کی بڑی وجہ ماضی کی کرپشن اور غلط فیصلے بنے۔

جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہIMF کی شرائط سخت ہیں، معاشی ترقی کم ہوگئی، اصلاحات جاری، غیر ملکی سرمایہ آرہا ہے، جلد خوشخبریاں ملیں گی، معیشت بہتر ہونے کے ساتھ ہم نے زر مبادلہ پر عائد پابندیاں کچھ نرم کی ہیں،آنے والے دنوں میں بتدریج مزید نرم کرینگے،ترسیلات زر کی بڑی مالیت کے لیے حوالے کا چینل استعمال ہو رہا ہے،افغان سرحد پر کرنسی کی ہینڈلنگ پر سختی کے اچھے نتائج آئے۔

تفصیلات کےمطابق کراچی میں جنگ گروپ کےشاہ رخ حسن کے گھر پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کےاعزاز میں عشائیہ دیا گیا، تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر، امریکا کے ڈپٹی قونصل جنرل، جرمنی کی قونصل جنرل سمیت بزنس اور کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات موجود تھیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مختلف سوالات کا بڑی تفصیل سے جواب دیا اور امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی کی حکومت معاشی صورتحال پر قابو پا لے گی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ آئی ایم کی شرائط سخت تھیں لیکن مجبوری تھی، انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی ماحول بہتر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ سیاسی استحکام ملکی مفاد میں ہے۔

اس سوال پر کہ کیا کرتار پور راہدری سول حکومت کا فیصلہ ہے؟ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ سول حکومت کا ہی ہے، اس پر آج نہیں 10،12برسوں سے کام ہو رہا تھا۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلائے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں لیکن سی سی آئی کا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

اس سوال پر کہ کیا موجودہ حالات جس میںق لیگ اور ایم کیو ایم کے بارے میں افواہیں گردش میں ہیں حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہونا ہی ملکی مفاد میں ہے یقیناً دونوں ایک پیج پر ہیں۔

ایک سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ ملک کی معاشی حالت بہتر ہو رہی ہے۔میڈیا پر سنسر شپ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا دیگر ممالک کی نسبت کہیں آزاد ہے اور وہ میڈیا پر کسی بھی قسم کی پابندی کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے، میڈیا کے مسائل ایک طرف تو حکومتی ایڈور ٹائزنگ کا بجٹ کم کیے جانے دوسری طرف معیشت کی سست روی کے باعث پرائیویٹ سیکٹر کے اشتہار بھی کم ہو گئے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی نسبتاً پاکستانی میڈیا زیادہ آزادی سے کام کر رہا ہے۔الیکٹرانک میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا زیادہ مسائل پیدا کر رہا ہے، اس کے ایک رکن اسمبلی نے بل پیش کیا ہے مگر ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیاں اس بل کی اہمیت کو سمجھ نہیں رہیں۔

ادھر شرکاء سے گفتگو کرتے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بتایا کہ ملکی معیشت کی حالت بہتر ہو رہی ہے ، اسٹیٹ بینک کی جانب سے آسانیاں دی جا رہی ہیں۔

منی لانڈرنگ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشنز سے متعلق وفاقی وزرات خزانہ کے تحت چلنے والے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو آگاہ کرتے ہیں، اس وقت کتنی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے اس بارے اسٹیٹ بینک کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ کام بینکنگ چینل سے نہیں ہوتا۔

تاہم ایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ بیرون ملک سے آنے والے ترسیلات زر کی ایک بڑی مالیت کے لئے حوالہ کا چینل استعمال ہو رہا ہے اس کی وجہ بینک کا بڑا مارجن اور کمیشن ہے بعض بینک ایک ڈالر پر 2 روپے تک کا مارجن لیتے ہیں ،اسٹیٹ بینک اس مسئلے کو ایڈریس کرنے کے لئے کام کر رہا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ حوالہ کا پیسہ بینکنگ چینلز کی نسبت جلد پہنچتا ہے ،افغان بارڈر پر کرنسی کی ہینڈلنگ پر سختی کی ہے اس کے بھی اچھے نتائج آئے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہیں۔

ادھر خبررساں ادارے کےمطابق کراچی ایوان تجارت و صنعت سے خطاب کے دوران ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں رواں سال ملکی معیشت میں جی ڈی پی ترقی گزشتہ سال سے کم ہوگی، اسٹیٹ بینک کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کو سہولت دینا ہے، اسٹیٹ بینک پاکستان کی تجارت وصنعت کی تیز رفتارترقی کاخواہش مند ہے، تجارت و صنعت کی ترقی سے ملکی معیشت کی بھی ترقی ممکن ہے، معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، ایکس چینج ریٹ اب بہتر ہورہے ہیں۔

کاروباری حالات میں بہتری آگئی ہے، 4 ماہ قبل تک اسٹیٹ بینک کےاقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا لیکن آج ماہرین معیشت اور تاجر و صنعت کار ایکس چینج ریٹ پر تنقید نہیں کررہے، پہلے زرمبادلہ نکل رہا تھا لیکن اب پاکستان میں اس کی آمد شروع ہوئی ہے ، ملک میں غیر ملکی سرمایہ آرہا ہے، اسٹیٹ بینک کے پاس غیرقرضہ جات زرمبادلہ میں اضافہ ہورہا ہے، جو شعبے درآمدات کی وجہ سے متاثر تھے وہ بھی بہتر ہورہے ہیں، جو سیکٹرز امپورٹ سے مثاثر تھے وہ بھی بہتر ہورہے ہیں، فیصل آباد میں ٹیکسٹائل میں بہتری آرہی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں