toba o istighfar توبہ و استغار 261

تو بہ و استغفار از:مفتی گلزاراحمد نعیمی مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستا ن

تو بہ و استغفار
از:مفتی گلزاراحمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستا ن
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد
جب تک بندے اور خالق کے درمیان مضبوط تعلق استوار نہ ہو تب تک بندہ اپنے خالق کے انعام و اکرام کا صحیح طور پر مستحق نہیں قرار پاتا۔ عبدو معبود کے اس تعلق کو مستحکم کرنے کیلئے بہت سے راستے ہیں مگر توبہ و استغفار ان سب میں سے نہایت مؤثر اور آسان ہے۔جب ایک مومن اس تصور کے ساتھ کہ میرے گناہوں کو معاف کرنے والی ذات ایک ہی ہے جسے ستارالعیوب اور غفار الذنوب کہتے ہیں تو خدائے بزرگ و برتر بھی اپنی شان کریمی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور اپنے کمزور بندے کی خطاؤں پر پردہ ڈالتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماکر اپنی رحمت کے ساتھ اس عاجز کی طرف رجوع بھی فرماتا ہے۔ یوں رب العزت کی بندہ پروری سے اس عاجز کو عزت مل جاتی ہے۔جب گناہ گاربندہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس دعویٰ حق”ومن یغفر الذنوب الا اللہ(۱)کو دیکھتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟ تو بندہ بصد عجز و نیاز عرض کرتا ہے ”اے میرے رب! تجھے ہی غفار سمجھا ہے تو تیری چوکھٹ پر سر کو جھکایا ہے،تیرے علاوہ مجھے کوئی معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے اس بندے کی توبہ پر فرشتو ں کی موجودگی میں فخر سے ارشاد فرماتا ہے دیکھو میرے فرشتو! اگر یہ کسی اور کو معبود سمجھتا تو ضرور کسی دوسری طرف جاتا لیکن اس نے صرف مجھے ہی اپنا رب سمجھا ہے۔ گواہ رہنا! میں نے اپنے فضل سے اس کے تمام گناہوں پر اپنی معافی کا قلم چلا دیا ہے۔ ایسے میں بندہ اگر ایک قدم اپنے رب کی جانب بڑھاتا ہے تو وہ رحیم و کریم دس قدم بندے کی طرف بڑھاتا ہے۔ غلطیاں کرنا بندے کی سرشت میں شامل ہے۔ وہ غلطی کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔اگر بندوں کو خطا کار تصور کیا جائے تو ان میں بہترین خطا کار وہ ہیں جو اپنے رب سے توبہ کرتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل بنی آدم خطاء و خیر الخطا ئین التوابون۔ (۲) یعنی ہر انسان خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔
محترم قارئین! بندے کیلئے یہ کتنی بڑی بات ہے کہ جب وہ اپنی خطاؤں پر ندامت کے آنسو بہاتا ہے تو رحمت خداوندی اپنی عطاؤں کا سلسلہ اور نوازشوں کا رخ اس بندے کی طرف موڑ دیتی ہے۔ اور گنا ہ معاف ہو جاتے ہیں۔ آنسو نہ نکلیں صرف آنکھوں میں تیر جائیں پھر بھی رحم و کرم حاصل ہوتا ہے۔ارے نہیں نہیں! گناہ کے بعد احساس شرمندگی و ندامت کو بھی توبہ ہی تصور کر لیا جاتا ہے اور بندے کو معاف کر دیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہماروایت فرماتے ہیں۔ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال الندم توبۃ(۳) یعنی نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا نادم ہونا بھی توبہ ہے یہاں تک فرمادیا گیا کہ گناہ کرنے والا جب گناہ کر لیتا ہے اور پھر ندامت کی وجہ سے توبہ کیلئے اپنے رب کے حضور معافی کی درخواست کرتا ہے تو وہ اس شخص کی مانند ہو جاتا ہے جس نے گنا ہ کیا ہی نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہماروایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (۴) گنا ہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں، گنا ہ گناہ ہوتا ہے۔انسان کتنا ہی زاہد و عابد ہو جائے یا طاقتور ہو جائے وہ کسی چیز کی فطرت و ماہیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔قربان جائیں رب کائنات پر جو بندے کی خطائیں معاف فرماتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ میرے اس گنا ہ گار بندے نے اعمال صالحہ کا ایک پر رونق گلشن سجا لیا ہے تو وہ اپنے بندے کی خطاؤں کو نیکیوں میں تبدیل فرما کر اعمال حسنہ کے اس پربہار گلشن کو اور پر بہار بنا دیتا ہے۔ارشاد ربانی ہےإِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا(سورۃ الفرقان آیت:70) ترجمہ: ”مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہی ہیں جنکی برائیوں کو اللہ اچھا ئیوں میں تبدیل فرما دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے“یہ معافی کا سب سے اعلیٰ اور عظیم الشان درجہ ہے جہاں گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے لکھا جاتا ہے۔
ہماری عملی زندگی کے بیشمار تجربات ہیں کہ اگر ہم کسی کو ناراض کر بیٹھیں تو اس شخص سے معذرت کرنے پر وہ اگر صدق دل سے معاف کر دے تو ہم اس چیز کو احسان سمجھتے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور دوست احباب معافی دیتے وقت ایک عجیب احسان کے رویے سے معافی دیتے ہیں۔لیکن قربان جائیں اس توّاب الرحیم پر کہ جتنا وہ بندے کے معافی مانگنے کے عمل سے خوش ہوتا ہے اتنا وہ ابن آدم کے کسی دوسرے عمل سے خوش نہیں ہوتا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا خیال کرتے ہو جسکی اونٹنی گھنے سنسان جنگل کی طرف اپنی رسی کھینچتی ہوئی چلی جائے؟ اس جگہ کھانے پینے کی کوئی چیز موجود نہ ہو اور اس اونٹنی پر سامان خوردونوش لدا ہوا ہو۔ وہ اونٹنی کا مالک اسے ڈھونڈ ڈھونڈکر تھک گیا ہو،پھر اچانک وہ اونٹنی ایک درخت کے پاس سے گزرے اور اس کی رسی اس درخت کے ساتھ الجھ جائے اور وہ اونٹنی وہیں رک جائے اور اسکا مالک اسے وہاں آکر پا لے؟میں نے عرض کی اللہ کے رسول وہ شخص تو بہت خوش ہو گا،اس پر سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سنو! قسم بخدا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس مالک سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ (۶)
توبہ و استغفار تمام گناہوں کا مداوا ہے، ایک توبہ متنوع مسائل کا حل ہے۔ اور بے شمار نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔ محدث شہیر و نامور مفسر استاذ نا علامہ غلام رسول سعیدی دام فیضہ الجلی نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر تبیان القرآن میں حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے حسن بصری سے قحط سالی کی شکایت کی اس سے حسن بصری نے کہا استغفار کرو،پھر دوسرا شخص آیا اس نے ان سے فقر کی شکایت کی، حسن بصری نے اس سے بھی کہا اللہ سے استغفار کرو،پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ان سے کہا آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بیٹا دے انہوں نے اس سے بھی کہا تم اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے شکایت کی کہ میرے باغات خشک ہو گئے ہیں حسن بصری نے اس سے بھی کہا کہ تم اللہ سے استغفار کرو، ہم(مجلس میں بیٹھے افراد) نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس مختلف لوگ مختلف شکایات لے کر آئے اور آپ نے سب کو استغفار کرنے کا حکم دیا، حسن بصری نے کہا میں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کی، میں نے قرآن مجید کی آیت سے استدلال کیا ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تم اپنے رب سے معافی مانگو وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے،وہ تم پر موسلادھار بارش نازل فرمائے گا اور اموال اور بیٹوں سے تمہاری مددفرمائے گا اور تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے دریا بہائے گا (۷)
انسان جب گناہوں سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ تو اس مہلک مرض کا علاج بھی توبہ و استغفار سے ہی ممکن ہے۔ گناہوں سے انسان کی باطنی طاقت کمزور ہو جاتی ہے اورہر طرف سے شیطان انسان کے ایمان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جب گناہوں سے دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ تو اس وقت اس سیاہی کو مٹانے کیلئے توبہ و استغفار سے بڑا کوئی کیمیکل نہیں ہے جو اس سیاہی کو اتار سکے تاکہ زنگ آلود دل اپنی اصلی حالت میں آسکے۔ ایک بہت ہی سبق آموز حدیث اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔اکثر مبلغین اپنے واعظوں میں یہ حدیث اپنے سامعین کو سناتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے،اگر تو وہ توبہ کر لے تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور استغفار کرے تو اسکا دل صاف ہو جاتا ہے۔ جوں جوں گناہ کرتا ہے یہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ یہ سیاہی پورے دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے یہ ”ران“ کا مطلب ہے جسے خدائے بزرگ و برتر نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا  کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوبِہِم مَّا کَانُوا یَکْسِبُون(سورۃ المطففین آیت:14)ترجمہ:”ہرگز نہیں بلکہ ان کے دل، ان کے کرتوتوں کی وجہ سے زنگ آلو د ہو گئے“۔اس حدیث کو بہت سے محدثین نے اپنے مجموعات حدیث میں ذکر کیا ہے جن میں امام حاکم نے مستدرک علی الصحیحین، امام ابن ماجہ اور امام نسائی کے علاوہ امام ترمذی نے بھی اپنی جامع میں ذکر کیا ہے(۸)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا مبارک معمول رہاکہ آپ ہر روز سو (100) دفعہ استغفار فرمایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ما أصبحت غداة قط إلا استغفرت الله فيها مائة مرة یعنی کوئی صبح ایسی طلوع نہیں ہوتی جس میں سو (100) دفعہ اللہ تعالیٰ سے استغفار نہیں کرتا۔ اس حدیث کو حضرت سعید بن ابی بردہ نے اپنے باپ اور دادا سے روایت کیا ہے اور امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ذکر کیا ہے۔ جب دل زنگ آلو دہ ہو تو وہ سخت ہو جاتا ہے او ر انسان ظلم و تشدد کو جائز سمجھتا ہے چاہے اپنی جان پر ہی کیوں نہ ہو یا کسی غیر پر اور جب دل کثافت سے پاک و صاف ہو تو وہ نرم و گداز رہتا ہے۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الزہد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اثر ذکر کیا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:کثرت سے توبہ کرنے والوں کی مجالس میں بیٹھا کرو کہ ان کے دل بہت ہی نرم ہوتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس کا رزق تنگ ہو اسے کثر ت سے توبہ کرنی چاہیے۔ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت رابعہ بصری کاایک قول نقل کیا ہے ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں نے بے حد گناہ کیے ہیں اور اب توبہ کروں تو اللہ مجھے معاف کر دے گا؟ تو رابعہ نے جواب دیا کہ خدا تجھے معاف کر دے گا، تب ہی تواس نے تجھے معافی کی ہمت دی ہے۔ اگر وہ معاف نہ کرتا تو تجھے معافی کی ہمت بھی نہ دیتا۔
قارئین کرام! ہم سمجھتے ہیں کہ جو بہت گنا ہ کرے اللہ سبحانہ اس سے زیادہ ناراض ہوتا ہے اور جو کم کرے اس سے کم ناراض ہوتا ہے۔قطع نظر اس تصور کے میری دانست میں وہ بڑے گناہ ہوں یا چھوٹے۔ ہمیں بس توبہ کرنی چاہیے اور صدق دل سے اسکی طرف رجوع رکھنا چاہیے۔ اسکی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ جب اس نے خود فرمایا ہے کہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعاً (۹) ”بے شک اللہ سب گنا ہوں کو بخشنے والا ہے“ تو پھر کیا چھوٹا اور کیا بڑا؟ اور کیا کم اور کیا زیادہ؟ بس جھک جاؤ اللہ کے در پر اور سرپٹ دوڑو اسکی مغفرت کی طرف کیونکہ اس نے خود حکم دیا ہے۔ وسار عواالی مغفرۃمن ربکم
(آل عمران: ۳۴۱) چلے آؤ اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔
آئیں اپنے رب کے حضور التجا کریں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے۔
حوالہ جات:
۱۔آل عمران ۵۳۱
۲۔ ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ
۳۔ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ
۴۔ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ
۵۔ الفرقان:۱۷
۶۔ مسلم، کتاب الذکر والدعا، باب استحباب الاستغفاروالاستکثار
۷۔(نوح ۰۱۔۳۱)تبیان القرآن۔ ج ۴۱، ۱۵۲از علامہ غلام رسول سعیدی، فرید بک سٹال لاہور،
۸۔ ترمذی کتاب التفسیر، باب من سورۃ ویل المطففین
۹۔الزمر: ۳۵

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں