اچھی حکمرانی کے اصول 88

تنظیم المدارس الیکشن۔۔۔چند حقائق. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

تنظیم المدارس الیکشن۔۔۔چند حقائق
اکتوبر 19، 2019 کےروزنامہ دنیا میں تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سابق صدر جناب مفتی منیب الرحمن کاکالم پڑھنے کا موقع ملا جسکا عنوان” دینی مدارس وجامعات اور مقتدرہ” تھا۔اس کالم میں حضرت موصوف نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش فرمائی کہ 13 اکتوبر 2019 کو جامعہ فریدیہ ساہیوال میں ہونے والے الیکشن مقتدرہ نے اپنے اثر ورسوخ کے ذریعہ ملتوی کرائے تھے۔
حضرت موصوف نے اپنےکالم میں بہت سے حقائق کا ذکر نہیں فرمایا جن کا قارئین تک پہنچنا از بس ضروی ہےاس لیے مفتی صاحب کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند حقائق قارئین کے پیشِ خدمت ہیں۔
1- حضرت نے فرمایا” ہمارے دستور کے مطابق آئندہ پانچ سال کے دورانیے کے لیےہمارے انتخابات منعقد ہورہے تھے”۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دستور کے مطابق تنظیم کی باڈی کی مدت پانچ سال ہے۔لیکن دستور یہ بھی کہتا ہےکہ مدت کی تکمیل پر ایک غیر جانبدارنگران سیٹ اپ لایا جائے جو ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے ذریعے الیکشن کرائے۔خدا جانے آپ نے تنظیم کے دستوری تقاضے کے مطابق نگران کمیٹی تشکیل کیوں نہ دی۔آپ نے اپنی نگرانی میں، اپنے الیکشن کمیشن کے ذریعے الیکشن کروانا درست کیوں سمجھا؟یہ کتنی عجیب اور مضحکہ خیز بات ہےکہ آپ خود ہی الیکشن کے نگران ہیں،الیکشن کمیشن بھی خود ہیں اور خود ہی صدارتی امیدوار بھی ہیں،میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے دو جگہوں پر سینکڑوں علماء کے سامنے وعدہ فرمایا تھا کہ آئندہ الیکشن میں صدارتی امیدوار نہیں ہونگا۔وعدہ پورا نہ کرنا جناب کا حق ہے اور بطور امیدوار آنا بھی۔لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ الیکشن کے انعقاد سے قبل تمام آئینی اور دستوری تقاضے پورے کرنا دیانتداری اور ایمانداری کا تقاضہ تھامگر یہ تقاضے پورے نہ ہوئے۔حالانکہ مدارس ایکشن کمیٹی (جو جید علماء اور صاحبان فکرودانش پر مشتمل ہے) نے اس دستوری تقاضے کو پورا کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی مگر آپ نے انکی بات سننا بھی گوراہ نہ فرمائی۔
2-آپ نے الیکشن کے التواء کی تمام تر ذمہ داری ساہیوال انتظامیہ پر ڈال دی ہے اور فرمایاہےکہ اس کے پیچھےہوم سیکرٹری پنجاب اور شاید اسلام آبادکی کوئی بااختیار شخصیت ہے۔آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا “میں نے اعلیٰ ادارے کےسربراہ سے براہ راست رابطہ کیا” قبلہ جب آپ کے ایک اعلیٰ ادارے کے سربراہ کے ساتھ براہ راست تعلقات تھے تو ڈی سی او ،ہوم سیکرٹری یااسلام آباد کی کسی بااختیار شخصیت کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اس التوا کے ذمہ دار آپ،آپکا الیکشن کمیشن یا آپکا منتخب کردہ میزبان محترم ہے۔جب آپ نے سینکڑوں کی تعداد میں انتظامیہ سے فورس طلب کی، کثیر تعداد میں واک تھرو گیٹس اور ایمبولینسز طلب کیں تو انتظامیہ یہ سمجھنے میں حق بجانب تھی کہ آپ الیکشن نہیں بلکہ خون خرابہ کرانے جارہے ہیں۔پرامن لوگ تو یہ چیزیں طلب نہیں کرتے۔اس لیے الیکشن کے التواء کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالا جاسکتا۔انتظامیہ کا یہ سوال اٹھانا بھی بجا تھا کہ آپ ساہیوال میں مرکزی الیکشن کیوں کرانا چاہتے ہیں جبکہ آپکا مرکزی آفس لاہور میں ہے۔کیا لاہور میں اہل سنت کے مدارس نہیں تھے؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب بہرحال درکار ہے۔اسی طرح جب 12 اکتوبر کی رات کو انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ اور “اعلیٰ ملکی ادارے کے سربراہ” کے ساتھ براہ راست گفتگو کر کےجناب کو پتہ چل گیا تھا کہ الیکشن نہیں ہونگے تو آپکے آفیشل پیج پر 13 اکتوبر کی دوپہر تک یہ “بریکنگ نیوز” کیوں چلتی رہی کہ الیکشن ضرور ہونگے؟۔آپکے اعلان کی وجہ سے لوگ آئے اور انتظامیہ نے ان کو بے توقیر کیا۔ناکے لگا کر ان علماء کو آگے نہ آنے دیا گیا ہزاروں،لاکھوں کا نقصان ہوااور انکا قیمتی وقت بھی ضائع ہوا۔یہ سب کچھ آپکی بریکنگ نیوز کی وجہ سے ہوا۔
3- آپ نے فرمایا” تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے الیکشن کمیشن نے بامر مجبوری الیکشن غیر معینہ مدت کے لیےملتوی کیااورموجودہ عہدہ داروں کوکام جاری رکھنےاور منتخب صوبائی عہدہ داروں کو فعال کرنے کا حکم جاری کیا”۔۔مدارس ایکشن کمیٹی نے صوبائی انتخابات سے پہلے ہی الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ اس دو رکنی الیکشن کمیشن سے ہمیں انصاف کی قطعاکوئی توقع نہیں ہے۔اس کمیٹی کے الیکشن کمیشن کے بارے میں خدشات سو فیصد درست ثابت ہوئے۔آپ نے منصوبہ بندی کے تحت نگران سیٹ اپ مقرر نہیں ہونے دیاکہ اگر آپکی کسی کمزوری کی وجہ سے الیکشن التواء کا شکار ہوئے تو الیکشن کمیشن آپ کے اقتدار کے جاری رہنے کے احکام جاری کردے گا۔دنیا کے کسی ملک یا کارپوریشن کے آئین کو پڑھ لیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ الیکشن نگران سیٹ اپ ہی کراتا ہے اور اگر الیکشن ملتوی ہوں تو وہی نگران سیٹ اپ معاملات چلاتا ہے۔الیکشن کمیشن کا یہ مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ سابقہ عہدہ داروں کو کام جاری رکھنے کا حکم دے۔علاوہ ازیں 13 اکتوبر الیکشن کے دن مدارس ایکشن کمیٹی کے ساتھ الیکشن کمیشن کے جو مذاکرات ہوئے تھے اس میں صرف دو باتیں طے ہوئی تھیں ۔ایک الیکشن ملتوی کیے جاتے ہیں۔دوئم فوری طور پر مکمل شوریٰ کا اجلاس بلایا جائےگا اور آئندہ کے معاملات شوری کے اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔میری دانست میں الیکشن کمیشن نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز بھی کیا ہے اور انتہائی بددیانتی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔عہدہ داروں کی مدت 14 اکتوبر 2019 کو ختم ہوچکی ہے اس لیے اب تنظیم کا کوئی عہدہ دار اپنے آپ کو عہدہ پر قابض رکھنے کا جواز نہیں رکھتا۔آپ نے صوبائی الیکشنز کا تذکرہ کیا۔جناب والا۔! ان الیکشنز میں آپکے مقرر کردہ الیکشن کمیشن نے جو گل کھلائے وہ ہم کسی عالم سے تو کجا کسی عام مسلمان سے بھی توقع نہیں کرسکتے۔میں صرف ایک صوبہ بلوجستان میں الیکشن کمیشن کی بددیانتی کو قارئین کی خدمت میں پیش کرونگا۔بلوچستان میں صدارتی امیدوار جناب مفتی محمد جان قاسمی اور ناظم اعلیٰ کے امیدوار جناب علامہ مختار احمد حبیبی مفتی صاحب کے امیدوار تھے۔دونوں شخصیات کا میں تہہ دل سے احترام کرتا ہوں،ان سے بڑی محبت کے رشتے ہیں۔لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ صدر کے تجویز کنندہ کا ووٹر لسٹ میں نام نہیں تھا اور ناظم اعلیٰ کے امیدوار کا بھی ووٹر لسٹ میں سرے سے نام ہی نہیں تھا۔ان قانونی کمزوریوں کی وجہ سے صوبہ بلوچستان کے الیکشن میں ایک ووٹ بھی کاسٹ نہیں ہواکیونکہ جب ان حضرات کی بنیادی اہلیت ہی ختم ہوگئی تو ان کے مدمقابل مفتی محمد حیات قادری صدارتی امیدوار اور سردار محمد وزیر القادری امیدوار برائے ناظم کو خود مفتی محمد جان اور مولانا مختار احمد حبیبی نے مبارک باد دی اور اکٹھے سب نے دعائے خیر کی۔لیکن جب بلوچستان کا رزلٹ اناؤنس ہوا تو الیکشن کمیشن نےمفتی صاحب کے پینل کی بلا مقابلہ جیت کا اعلان کردیا۔اس طرح کی بددیانتی آج تک نہیں دیکھی گئی۔مفتی صاحب ساری صورت حال کو جانتے ہوئے بھی یہ فرما رہیں ہیں کہ بلوچستان میں ہمارے حمایت یافتہ حضرات بلا مقابلہ آئے۔الامان والحفیظ۔ایک ووٹ کاسٹ نہیں ہوا قانونا آپکا پینل نااہل ہوگیا۔اسی نااہل پینل کو آپ بلامقابلہ کامیاب قرار دے رہے ہیں۔
“جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے”
4- آپ نے فرمایا” اس سال فیصل آباد سے صاحبزادہ حامد رضا تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کو اپنے سیاسی مقاصد اور مہم جوئی کے لیے استعمال کرنے کی خاطر اچانک منظر عام پر آئے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ غیبی طاقتیں میری پشت پر ہیں”
نہایت معذرت کے ساتھ قبلہ آپ نے تنظیم المدارس کو جس طرح ذاتی مقاصد ومنفعت کے لیے استعمال کیا اسکی مثال تنظیم المدارس کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔اس پر میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا آپ بہت قابل احترام ہیں۔میں عرض کروں کہ صاحبزادہ حامد رضا میدان میں اس لیے آئے کہ انکے چھوٹے بھائی حسین رضا تنظیم المدارس کےمرکزی ناظم اعلیٰ کی سیٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔اگر آپ مراڑیاں میں صوبائی الیکشن رکھوا کر سیاسی جماعت کی سپورٹ حاصل کر سکتے ہیں تو برائے کرم ایک بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی کی سپورٹ کرنے کابھی حق دیں۔اگر آپ کے پینل کے شمالی پنجاب کا ناظم اعلیٰ کا امیدوار ایک سیاسی جماعت کے لیڈر کا بھائی ہو اور وہ اپنے بھائی کو جتوانے کے لیے اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرے اور الیکشن بوتھ پر کھڑےہوکر زبردستی ووٹیں ڈلوائے،وہ تو آپکے نزدیک کوئی جرم اور کوئی اخلاقی گرواہٹ نہیں ہے لیکن اگر صاحبزادہ حامد رضا اپنے بھائی کی سپورٹ کے لیے ووٹ مانگنے جائے تو آپکو اعتراض ہو ۔یہ آپکا بالکل دہرا معیار ہے۔ کسی ایک پولنگ بوتھ پر صاحبزادہ حامد رضا کی موجودگی ثابت کردیں۔یقینا آپ نہیں کر سکیں گے۔لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ جس سیاسی جماعت کے بل بوتے پر آپ الیکشن لڑ رہے تھے انہوں نے شمالی پنجاب کے انتخابات میں براہ راست مداخلت کی ویڈیو کلپس ہمارے پاس موجود ہیں اور ساہیوال میں اس جماعت کے سربراہ آپ کے کاندھے سے کاندھا ملا کر بیٹھے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تنظیم المدارس کو انتہاء پسند سیاست دانوں کے حوالہ کرنے کی بھر پور کوشش فرمائی۔
آخر میں گزارش کرو ں گا کہ آپ حکومت یا مقتدرہ سے الیکشن کی التجاء نہ فرمائیں یہ آپ کی شان کے لائق نہیں ہے۔آپ شوریٰ کا مکمل اجلاس بلائیں اور مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش فرمائیں۔میرے خیال میں شوریٰ کا اجلاس فورا بلانا چاہیے اس میں جتنی دیر ہوگی معاملات زیادہ خرابی کی طرف جائیں گے۔ساہیوال میں الیکشن کمیشن اور مدارس ایکشن کمیٹی کے مذاکرات میں یہی طے ہوا تھا کہ شوریٰ کا اجلاس فورا بلایا جائے گا..سو اس میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔
وماتوفیقی الا باللہ
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں