بلوچستان : امریکہ اور حواریوں کے نشانے پر صابر ابو مریم 5 40

بلوچستان : امریکہ اور حواریوں کے نشانے پر صابر ابو مریم

بلوچستان : امریکہ اور حواریوں کے نشانے پر
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی

بلوچستان جو مسلسل کئی دھائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہاہے۔ایسے درد ناک واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ ایک وقت میں ایک سو سے زائد جنازے اٹھانا پڑے ہیں۔بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے والی قوتیں کون ہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے زیادہ دقت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دو جمع دو چار کی طرح دشمنوں کے عزائم انتہائی واضح ہیں۔
دنیا بھر کی طرح امریکہ کی نظریں پاکستان کے ان تمام علاقوں پر ہیں کہ جہان قدرت وسائل یا ایسا ماحول پایا جاتا ہو کہ جس کے ذریعہ خطے کے ممالک کی تجارت فروغ پا سکے۔ایسے تمام علاقوں پر امریکی سامراج کی کوشش رہی ہے کہ براہ راست یا بالواسطہ انداز سے اپنا تسلط یا کنٹرول حاصل کر لے۔بلوچستان کا علاقہ بھی دنیا کے ایسے ہی علاقوں میں سے شمار ہوتاہے کہ جہاں قدرتی وسائل کی دستیابی کے ساتھ ساتھ ساحل سمندر پر تجارتی سرگرمیوں کو انجام دینے کی صلاحیت موجود ہے۔بلوچستان ماضی میں بے پناہ دہشت گردانہ کاروائیوں کا شکار رہاہے۔ جس میں سب سے زیادہ دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ یہاں کی ہزارہ برادری کو بنایا گیا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے ہیں جبکہ اس دہشت گردی میں بلا تفریق تمام اہلیان بلوچستان کا بالعموم نقصان ہوا ہے جبکہ سیکورٹی فورسز بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آتی رہی ہیں۔
ابھی گزشتہ دنوں کی بات کرتے ہیں کہ جب پہلے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے عمائدین کو نشانہ بنایا گیا اور پھر اس کے بعد سیکورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا، یہ دونوں ہی واقعات اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نئے واقعات نہیں ہیں۔پہلے بھی دہشت گردوں نے بسوں سے اتار اتار کر اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد ایک مخصوص مذہبی مکتب فکر کو نشانہ بنایا تھا جبکہ اب کی مرتبہ بھی سیکورٹی فورسز کے لوگوں کو اسی طرح کی کاروائی کے ذریعہ بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا ہے۔
ہمیشہ اس طرح کے واقعات کا مقصد سیاسی میدان میں کسی نہ کسی طرح نے قومی و بین الاقوامی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس مرتبہ بھی سانحہ ہزار گنجی اور سانحہ اورماڑا کے واقعات اس بات کی طرف اشارہ دیتے ہیں کہ کچھ ایسی قوتیں موجود ہیں کہ جو پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔کیونکہ اب اسی خطے میں سی پیک نامی بڑا معاشی منصوبہ پایہ تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکا ہے۔گوادر پورٹ کام کرنا شروع کر رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تمام معاشی فوائد سے نقصان کس کو پہنچ رہا ہے؟
امریکہ پاکستان کے لئے کبھی خیر خواہ نہیں رہا ۔امریکی سامراج کی ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف اعلانیہ اور خفیہ سازشیں جاری رہی ہیں۔یہ کام امریکی قونصلیٹ خانہ اب بلوچستان میں انجام دے رہاہے۔کیونکہ امریکہ نہیں چاہتا ہے کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پایہ تکمیل کو پہنچے اور نہ ہی پاک ایران بجلی سپلائی منصوبہ تکمیل ہو۔کیونکہ ان منصوبوں سے پاکستان اور ایران دونوں ہی کو فائدہ ہونا ہے تو لہذا امریکہ ہر گز نہیں چاہتا ہے کہ ایسا ہو۔اس کام کیلئے یقیناًامریکی سامراج کی کوشش ہے کہ گاہے بگاہے خطے میں دہشت گردانہ کاروائیوں کو پروان چڑھا یا جائے اور دونوں ممالک کے مابین حالات کو ناساز گار بنانے کی کوشش کی جائے اور شاید کسی حد تک امریکہ اپنے اس ناپاک عزائم کو حاصل کرتا ہوا نظر آ رہاہے۔
امریکی سامراج کے لئے دوسرا بڑا دشمن اور چیلنج چین ہے۔چین کا پاکستان میں بڑھتا ہوا اثر ورسوخ اور نفوذ امریکی انتظامیہ کے لئے شدید پریشانی کا باعث بن چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے سر تور کوشش کر لی ہیں تا کہ سی پیک منصوبہ کو روک دیا جائے جس طرح امریکی دباؤ پر پاکستان اور ایران کے مابین منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
یہاں ایک بات واضح رہے کہ امریکہ کے دشمنوں میں ایران صف اول کا دشمن ہے اس لئے امریکہ ایرا ن کی کسی بھی طرح سے ترقی کوتحمل نہیں کرسکتا ہے ۔ اسی طرح اس علاقے میں عرب خلیجی ممالک کی بڑی حد تک سرمایہ کاری کسی نہ کسی طور نظر آتی ہے اور امریکہ اور ان عرب خلیجی ممالک کی مشترک بات یہ ہے کہ ایران ان کا مشترک دشمن ہے جبکہ چین کے ساتھ بھی بہت سے معاملات میں دشمنی کا اشتراک پایا جاتا ہے۔اسی طرح بھارت جو کہ امریکہ کا دیرینہ دوست ہے اور چین کا دشمن ہے دونوں کے مفادات چین کے مفادات کے خلاف ایک جیسے ہیں ۔پس ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے امریکہ سمیت اس کے وہ تمام عرب خلیجی اتحادی شامل ہیں کہ جو چین اور ایران سمیت پاکستان کو کسی بھی ترقی کے منصوبے میں شامل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔اس بات کا ثبوت اس بات سے بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ سی پیک میں چند عرب خلیجی ممالک نے جبری طور پر اپنی شرکت کرنے کی کوشش کی تاہم بعد ازاں وہ چین کی مزاحمت اور ٹھوس پالیسیوں کے باعث ناکامی کا شکار ہوئے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی گوادر پورٹ کام کرے اور دنیا کے لئے تجارتی سرگرمیوں کو انجام دینے کا مرکز بنے تو پھر خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کی اہمیت کافی حد تک کم ہو جائے گی اور کاروبار بھی کم ہو گا ۔شاید بلوچستان کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی وجہ سے غیر مستحکم رکھنے کا ایک عنصر یہ بھی ہو سکتا ہے۔بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ ایران کی بندر گاہ کو بھی گوادر کی بندر گاہ کے آپریشنل ہونے سے نقصان ہو گا۔ لیکن یہ بات اس لئے بھی ٹھوس دلائل نہیں رکھتی ہے کیونکہ ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں میں جکڑا ہو اہے اور چاہ بہار بندرگاہ کسی طور پر بھی خلیجی ممالک یا گوادر بندر گاہ کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی تاہم یہ کہنا بے جا ہو گا کہ ایران کو گوادر کی بندر گاہ سے نقصان کا خدشہ ہے۔
دراصل بلوچستان کی ترقی ہی بلوچستان کی دشمن بن چکی ہے۔بلوچستان میں ہونے والی ترقی اور معاشی سرگرمیاں بلوچستان کے دشمنون کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔امریکہ ہو یا اس کے عرب اتحادی ہوں سب کے سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں اور نہیں چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح سی پیک کے مثبت فوائد پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کو حاصل ہوں۔خلاصہ یہ ہے کہ سانحہ ہزار گنجی ہو یا پھر سانحہ اوماڑہ ہو یا پھر اس سے قبل ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیاں ہوں، سب کے تانے بانے اگر ملائے جائیں تو بلوچستان میں موجود امریکی قونصلیٹ خانہ کی عمارت سے جا ملیں گے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت جرات حق گوئی نہیں رکھتی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں