115

برطانیہ کے تاریخی عام انتخابات

برطانیہ کے تاریخی عام انتخابات
آصف جیلانی
چھ ہفتوں کی ہنگامہ خیز انتخابی مہم کے بعد اب آج برطانیہ میں عام انتخابات ہونے والے ہیں جو ہر لحاظ اور زاویہ سے تاریخی ثابت ہوں گے ۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے نزدیک جن کا تمام تر زور بریگزٹ پررہا ہے ، یہ انتخابات ان کی جیت کی صورت میں برطانیہ کی یورپ سے آزادی کی نوید ثابت ہوں گے کہ و ہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر اگلے سال اکتیس جنوری تک یورپ کے بندھنوں سے آزاد ہو جائیں گے۔

ٹوری پارٹی کی حریف جماعت لیبر پارٹی بھی ان انتخابات کو تاریخی سمجھتی ہے کہ یہ پوری ایک نسل کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوں گے اور پچھلے دس برس سے ملک پر قدامت پسند پارٹی کا جو تسلط ہے وہ لیبر پارٹی کی جیت پر ختم ہوجاے گا ، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران لیبر پارٹی نے تمام تر زور ، ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے خاتمہ ، نیشنل ہیلتھ سروس کو امریکا کی نجی کمپنیوں سے بچانے اور پانی ، گیس، بجلی اور ریلوے کو دوبارہ قومی ملکیت میں لینے پر دیا ہے۔

لیکن برطانیہ میں بھی اس وقت امریکی عوام کی طرح ٹرمپ کی سیاست کے انداز کا جنون طاری ہے اس لئے کوئی تعجب نہیں کہ پچھلے پانچ ہفتوں کی مہم کے بعد بھی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بورس جانسن کی ٹوری پارٹی کو مقبولیت کے میدان میں اپنی حریف لیبر پارٹی سے سبقت حاصل ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل کی بھر پور مدد اور اعانت سے برطانیہ کی یہودی آبادی نے لیبر سربراہ جیریمی کوربن کو یہودیوں سے نفرت کے الزام کے دام میں ایسا جکڑا ہے کہ خود لیبر پارٹی کے بہت سے رہنماوں کو اپنی جیت کے بارے میں شک ہے۔ جب سے جیریمی کوربن لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں اسرائیل نواز لابی نے ان کے خلاف بڑی منظم مہم شروع کی ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی آزادی اور ان کے حقوق کے حق میں آواز اٹھائی ہے اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسرائیل کو برطانیہ کی اسلحہ کی فراہمی روکنے کا استقامت کے ساتھ پر زور مطالبہ کیا ہے۔

ٹوری پارٹی نے بھی اپنی صفوں میں اسلام دشمنی چھپانے کے لئے لیبر پارٹی میں اور خاص طور پر جیریمی کوربن کے خلاف یہودیوں سے منافرت کے الزام کو بھڑکایا ہے۔خود ٹوری پارٹی کی سابق وزیر اور سابق چیر پرسن سعیدہ وارثی نے پچھلے دنوں ٹوری پارٹی میں اسلام دشمنی اور نسل پرستی پر سخت احتجاج کیا تھا جس کے جواب میں بورس جانسن نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹوری پارٹی میں اسلام دشمنی کے رجحان کی تحقیقات کرائیں گے لیکن عملی طور پر انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ بورس جانسن کے خلاف جھوٹ اورجھوٹے وعدوں کے داغوں کی جو طویل فہرست ہے اس میں ایک کا اور اضافہ ہوا ہے۔

بلا شبہ بارہ دسمبر کے عام انتخابات اس لحاظ سے تاریخی ثابت ہوں گے کہ اگر بورس جانسن جنہیں وزریر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے صرف پانچ ماہ ہوئے ہیں اگر جیت گئے تو پہلی بار ملک کا ایسا وزیر اعظم منتخب ہوگا جو عادی دروغ گو مشہور ہے ، جو اسلام دشمن اور نسل پرست تصور کیا جاتا ہے ، اور جو صدر ٹرمپ سے اپنی گہری دوستی کی خاطر برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کے نظام کو امریکا کی نجی کمپنیوں کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتا ہے ۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی ثابت ہوں گے کہ امریکا کے ساتھ ساتھ روس بھی ان انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔
یہ بات ثابت ہو چکی ہے لیکن انتخابات کی وجہ سے برطانوی انٹیلی جنس کی وہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی کہ یورپی یونین کو زک پہنچانے کے لئے روس نے 2016 میں یورپ سے برطانیہ کی علیحدگی کے بارے میں ریفرینڈم میں بڑے پیمانے پر مداخلت کی تھی اور روس کی طرف سے برطانیہ میں مالدار روسیوں نے بریگزٹ کی مہم میں مالی امداد دی تھی ۔روس کا اصل مقصد یورپ کے اتحاد کو توڑنا ہے اور اس کا خیال ہے کہ برطانیہ کی یورپ سے علحدگی کی وجہ سے یورپ کے اتحاد کو زک پہنچے گی ۔ اب بھی روس چاہتا ہے کہ بور س جانسن انتخابات میں کامیاب ہوں اور بریگزٹ کا عمل مکمل ہو اور یورپی اتحاد پارہ پارہ ہو۔
اس سلسلہ میں امریکا کا بھی مفاد روس سے مشترکہ ہے اور امریکا بھی چاہتا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے یکسر ناطہ توڑ لے اور اس مقصد کے لئے بورس جانسن کی جیت لازمی ہے۔
روس، امریکا اور اسرائیل کے کاوشوں کے باوجود اگر ناگہانی طور پر لیبر پارٹی انتخابات جیت گئی تو اس لحاظ سے یہ انتخابات یقینی طور پر تاریخی ثابت ہوں گے ۔کیونکہ لیبر پارٹی دس سال سے زیادہ عرصہ تک اقتدار سے محروم رہنے کے بعد ملک کی حکمران ہوگی۔
لیبر پارٹی کی جیت کی صورت میں بورس جانسن کی بریگزٹ کی خواہش دم توڑ دے گی کیونکہ لیبر پارٹی یہ پیمان کر چکی ہے کہ وہ انتخابات جیتنے کے بعد چھہ ماہ کے دوران، یورپ سے علحدگی کے بارے میں یورپی یونین سے ایسا سمجھوتہ کرے گی کہ یورپ سے اقتصادی تعلقات برقرار رہیں اور جو سمجھوتہ بھی طے پائے گا اس پر عوام کی منظوری حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔
بلاشبہ بارہ دسمبر کے عام انتخابات جہاں اگلی کئی دہایوں تک کے لئے برطانیہ کی سیاست کی سمت متعین کریں گے وہاں اس لحاظ سے بھی تاریخی ہوں گے کہ یہ انتخابات ملک کے اتحاد کے لئے بھی فیصلہ کن ہوں گے ۔ اسکاٹ لینڈ کے عوام کی اکثریت یورپی یونین سے علحدگی کے سخت خلاف ہے اور ان انتخابات میں جو بھی فیصلہ ہو ، اسکاٹ لینڈ کے عوام آزادی کے لئے دوسرے ریفرینڈم کی تحریک چلائیں گے۔ ادھر شمالی آئر لینڈ کے عوام بھی بریگزٹ میں آئر لینڈ کی سرحدوں پر پابندیوں کے سخت خلاف ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ناراضگی متحدہ آئرلینڈ کی تحریک کی صورت اختیار کر جائے۔ ادھر ویلز کی قوم پرست جماعت پلے کیمرو بھی برطانیہ سے آزادی کی طرف مائل ہے۔ اس صورت میں برطانیہ کا اتحاد خطرہ میں نظر آتا ہے۔
برطانیہ کی تیسری بڑی پارٹی لبر ل ڈیموکریٹس جو دس سال قبل ٹوری پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہونے اور ٹوری پارٹی کی غیر مقبول پالیسیوں کی حمایت کی وجہ سے سیاسی طور پر راندہ درگاہ رہی ہے انتخابات کی مہم میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔ اس کا تمام تر زور بریگزٹ کی مخالفت اور یورپ میں شامل رہنے پر تھا۔ اس پارٹی کی نئی قائد جو سمون نے پارٹی کو سنبھالنے کے بہت کوشش کی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو بڑی پارٹیوں کے بیچ میں کچلی گئی ہیں ۔
بارہ دسمبر کے عام انتخابات میں اب تین میں سے ایک نتیجہ سامنے آنے کا امکان ہے ۔ یاتو ٹوری پارٹی کی جیت ہوگی او ر اسے اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے ملک میں بریگزٹ کا بحران اور الجھ جائے گا یا پھر نتیجہ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں سامنے آئے گا ۔ یہ صورت بھی ملک میں نئے سیاسی طوفان اور تعطل کا باعث بنے گی یا پھر لیبر پارٹی اکثریت حاصل کر لے گی اور جیریمی کوربن وزارت اعظمی پر فائز ہوں گے لیکن خیال ہے کہ وہ ملکی اورامریکہ، روس اور اسرائیل کے شدید دباو کی وجہ سے پانچ سال سے زیادہ حکومت نہیں کر پائیں گے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں