ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فقہی مقام از: مفتی گلزار احمد نعیمی 2 65

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فقہی مقام از: مفتی گلزار احمد نعیمی

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فقہی مقام
از: مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم، پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ، اسلام آباد
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی شخصیت پر مختلف حوالوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شخصیت کا ہر ہر پہلو اس قابل ہے کہ اس پر لکھا جائے، بولا جائے اور تحقیق کی جائے تاکہ امت اس عظیم خاتون کے کارناموں سے روشناس ہو سکے۔
آپ کا علمی مقام، آپ کی عفت و طہارت، آپ کی علمی بصیرت اور فقہی مقام بے مثال ہیں۔ فی الوقت ہم آپ کے فقہی مقام پر گفتگو کریں گے۔
آپ ایک فقہیہ کی حیثیت سے مشہور تھیں آپکا لقب صدیقہ اور حمیرا تھا۔ اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر کی وجہ سے ام عبداللہ کہلاتی تھیں۔
اول دن سے ہی اسلام میں آنکھ کھولی۔پوری زندگی مردوں اور عورتوں میں اسلام کے احکام وقوانین، اخلاق وآداب کی تعلیم دینے میں گزاری۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صرف احادیث ہی روایت نہیں کیں بلکہ آپ عظیم فقہیہ، بے مثال مفسرہ اور مجتہدہ بھی تھیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شمار ان چند فقہائے مدینہ میں ہوتا ہے کہ جن کے فتوے پر لوگ مکمل اعتماد کرتے تھے۔آپ کی صورت حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی۔ آپکا لڑکپن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزرا۔آپ علم الانساب، شعر وادب میں یکتا تھیں۔ آپ کو طب میں بھی کمال کی مہارت حاصل تھی نیز فرائض(علمِ میراث) میں بھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہفتے میں ایک دن خواتین کو تعلیم دیتی تھیں۔عورتیں شوہر کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہیں مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھایا اور ہمہ وقت قرآن وسنت کو پھیلانے میں مصروف رہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ ام رومان زینب بنت عامر تھیں، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے سگے بھائی تھے۔ ہجرت سے دوسال قبل آپ کا نکاح ہوا،ایک قول کے مطابق تین سال قبل، اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر کے حوالے سے مختلف اقوال ہیں۔ 6سال، 7سال، 9سال اور 12سال۔آپ رضی اللہ تعالیٰ کی رخصتی غزوہ بدر کے بعد 2ھ میں ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے 8سال اور 5ماہ گزارے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر 18سال تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے 2210احادیث روایت کی ہیں۔سن وفات سترہ رمضان 58ھ ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
فقہی مقام:
ابو مسلم عبدالرحمن کہتے ہیں، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، سنن رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، فقہی آراء، آیات کے شانِ نزول اور فرائض میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کوئی عالم نہ تھا۔قرآن کی حافظہ تھیں، آپ نے اپنے غلام ابو یونس سے ایک نسخہ تیار کرواکر رکھا ہوا تھا۔ مگر اس کا وجود اب کہیں نہیں ہے۔ کبھی اپنی تعریف کو سننا پسند نہیں فرمایا۔ انہوں نے ساری زندگی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت نہ دی کیونکہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی اپنی نجی محفلوں میں بہت تعریف کرتے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ آپ کی تعریف نہ کردیں۔بہت بہادر خاتون تھیں کئی جنگوں میں شرکت کی اور رات کی تاریکی میں اکیلے قبرستان چلی جاتی تھیں۔جب مروان نے مدینہ میں یزید کی بیعت لینے کا اعلان مسجد نبوی میں کیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کی مخالفت کی، مروان انہیں قتل کرنے کے لیے جھپٹا تو عبدالرحمن بھاگ کر حجرہ عائشہ میں چلے گئے۔ مروان نے ان کے خاندان کو برا بھلا کہنا شروع کردیا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہر سال حج کے لیے جاتی تھیں اور خیمہ غار حرا کے پاس لگاتی تھیں 8 تاکہ لوگوں کو ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جب ہمیں کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو ہم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف رجوع کرتے اور مکمل جواب پاتے۔
آج بھی مسجد نبوی میں ایک ستون ”اسطوانۃعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا“کے نام سے موسوم ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعلیم دیا کرتی تھیں۔مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ دین کا 4/1حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے امت کو منتقل ہوا ہے۔ آپ نے 48سال تک اپنے حجرے میں بیٹھ کر امت کے افراد کو تعلیم دی۔ حتیٰ کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حجرے میں دفن ہوئے تو تب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ ہجرہ چھوڑا۔زندگی بھر افتاء کا کام کیااور معمولی مسائل پرنہیں بلکہ اہم اور دقیق مسائل پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فتوی دیا کرتی تھیں۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک رسالہ میں لکھا ہے جس کا نام ہے ”عین الاصابہ فیما استدرکتہ عائشہ علی الصحابہ“ اس میں آپ نے حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ان فتاوی کا ذکر کیاہے جو انہوں نے صحابہ کے دیئے گئے فتاوی کی غلطیاں بیان کیں۔ یعنی فقہی مسائل میں صحابہ سے کہاں کہاں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی وضاحت کی، علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اس رسالے میں یکجا کیا۔مثلاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فتوی دیا کہ حالت جنابت میں روزہ نہیں رکھا جاسکتا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تمہاری رائے درست نہیں ہے یہ ہم جانتی ہیں کہ حالت جنابت میں روزہ رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت جنابت میں روزہ رکھتے تھے اور بعد میں غسل فرما لیا کرتے تھے۔امام زہری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عائشہ سب سے زیادہ عالم تھیں اور اکابر صحابہ ان سے مسائل پوچھتے تھے۔ زہری نے کہا کہ صحابہ اور ازواج کے علم کو ایک طرف رکھ لیا جائے اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علم کو دوسری طرف تو عائشہ کا علم بڑھ جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں