القد س سیمینار از: مفتی گلزار احمد نعیمی 7 167

القد س سیمینار از: مفتی گلزار احمد نعیمی

القد س سیمینار رمضان المبارک 2018؁ء
از: مفتی گلزار احمد نعیمی
مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان
پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد
إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوْہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ(الممتحنہ:9)
ترجمہ:اللہ نے تمہیں ان سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی۔ اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہیں نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ جو ایسے لوگوں سے دوستی کریں وہ ظالم ہیں۔
میں آپ تمام کو اس سیمینا ر میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ القد س سیمینار اصل میں اظہار یکجہتی ہے ان بے چارے فلسطینیوں کے ساتھ جن کو امریکہ کا پالتو کتا ہر وقت چیر پھاڑ کر رہاہے۔ اب مسئلہ فلسطین مسلمانوں کی شہادتوں کا نہیں ہے۔ شہید تو یہ بے چارے 1948؁ء سے ہورہے ہیں۔ اصل مسئلہ مسلم حکومتوں کو اس ناجائز ریاست کے ذریعے کنٹرول کرنے کا ہے امریکہ اور مغربی قوتوں نے ایشیاء اور یورپ ایشیاء اور افریقہ کے عین چوک پر یہ ریاست بنائی ہے۔ اور یہودی جنونیوں کویہاں لا کر آباد کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نہ صر ف ایشیا ء بلکہ افریقہ کے تمام قدرتی وسائل کو لوٹ کر یورپ اور امریکہ پہنچاناہے۔ اسرائیل کوئی ملک نہیں بلکہ یہ مغرب ممالک نے اس علاقے میں اپنا نگران مقرر کیا ہے۔ اسرائیل کو مسلمانوں سے ڈرایا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اسرائیل سے اور پھر دونوں کو اپنا اسلحہ بیچا جاتا ہے۔
آج اگر کوئی شخص اسلام سے، خدا اور رسول سے وفاداری اور امت مسلمہ کے ساتھ بھلائی کا دعویٰ کرے تو ہمیں اس کے اس دعویٰ کی تصدیق اس بات سے ہو سکتی ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین پر اپنا کیا موقف رکھتا ہے،اگر وہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہے تو وہ اپنے دعویٰ میں واقعی سچا ہے اور اگر وہ اسرائیل کے ساتھ تعلق استوار کیے ہوئے ہے تو اسکا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ جو پاکستانی فلسطین سے مخلص نہیں ہے وہ اسلام اور پاکستان سے بھی کبھی مخلص نہیں ہوسکتاکیونکہ اسرائیل پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اس کی بنیاد ہی اسلام کی مخالفت پر رکھی گئی ہے۔
اسرائیل کا وجود امت مسلمہ کو درپیش تمام مسائل سے زیادہ خطرناک ہے۔ امت ایک دوسرے کے ساتھ اگر دست و گریبان ہوتی ہے تو اس کے پیچھے اسرائیلی سازش کارفرما ہوتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی تخلیق بھی اسلام مخالف قوتیں اسی اسرائیلی زمین پرہی کرتی ہیں۔ اسلام کے خوبصورت چہرے پر تکفیریت کا جو دھبہ لگا ہے اس کے تانے بانے بھی اسرائیل سے ہی ملتے ہیں۔
اسلامی ممالک بہت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عرب ممالک تو واضح طور پر اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ترکی آجکل امت کے مسائل پر توجہ دے رہا ہے لیکن اس کے بھی اسرائیل کے ساتھ بہترین تجارتی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب اور مصر تو ان تعلقات میں کئی گنا آگے جاچکے ہیں۔ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد جب 1948؁ء میں اسرئیل کا ناپاک وجود سامنے آیا تو شدید مخالفت کی اور عوام الناس آج تک اسرائیل کو پسند نہیں کرتے۔ اسی عوامی دباؤ کی وجہ سے پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔
یادرکھیں انبیاء جن مقاصد کے لیے تشریف لائے ان میں دو اہم مقاصد یہ تھے (ا)اللہ کی بندگی اور(۲) طاغوت کی غلامی سے انکا۔ قرآن مجید نے فرمایا:وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ (النحل:36)
آج ہمیں خدائے واحد کی عبادت سے دور کرنے کے لیے ہزاروں جال ہم پر پھینکے جا چکے ہیں۔ اور طاغوت سے اجتناب کے بجائے اسکی غلامی کے لیے منصوبہ بندیاں جاری ہیں۔ ان منصوبہ بندیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی غیر نہیں امت مسلمہ کے سربراہان اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مصر کے صدر محمد مورسی نے سنائی سے غزہ جانے والی زیر زمین سرنگوں میں گٹروں کا پانی چھوڑ دیا۔ ان سرنگوں کے ذریعے سے فلسطینی مسلمانوں کو مصر سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان زندگی جاتا تھا۔ کس کے کہنے پر کیا؟ جواب ایک ہی ہے۔ امریکہ بہادر کی غلامی میں۔ اسی طرح ہمارے مرد حق نے ستمبر 1970؁ء میں اردن میں بیس ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار کرامریکہ اورصہیونیوں سے تمغہ وفاداری حاصل کیا۔
لمحہ موجودکی اگر بات کریں تو امریکہ اپنا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کر چکا ہے۔ اور مظلوم فلسطینیوں کو وہاں سے نکا ل باہر کرنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی ہوچکی ہے۔ اس سلسلہ میں امریکہ عرب ممالک اور دوسرے چند غلام اسلامی ممالک سے حمایت کی یقین دہانی حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کے حکمران ہوں یا عرستان کے سب امریکہ کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔ اور وہ امریکہ کے موقف کے بجائے کسی دوسرے نقطہئ نظر کی حمایت کا سوچ بھی نہیں سکتے اس صورت حال میں ہمارا (عوام) یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اس مسجد اقصیٰ کا سوچیں جس کے ساتھ ہماری عقیدت وابستہ ہے جو ہمارا قبلہ اوّل رہاہے۔ جہاں سے تاجدار کائنات کو آسمانوں کی طرف معراج کرائی گئی۔ جو ہم سب کے جد الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی میراث ہے۔ جو سرزمین یعقوب ویوسف اور داؤد وسیلمان ہے جو سرزمین صالح وزکریا ہے اور جوسرزمین یحیٰ و عیسیٰ ہے۔
مسلمانوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے جب انہوں نے فلسطین اور قبلہ اوّل کو آزاد کیا تو اللہ نے انہیں پوری دنیا پر عزت و تمکنت عطاکی۔ چاہے وہ خلیفہئ دوئم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور ہو یا سلطان صلاح الدین کی فتوحات ہوں۔ جب مسلمانوں کے پاس دونوں قبلے موجود تھے تو انکا طوطی بولتا تھا۔ جب قبلہ اوّل ان سے چھنا تو وہ قعر مذلت میں گر گئے۔ آج بھی مسلمانوں کی پستی کی وجہ قبلہ اوّل کی آزادی کی تحریک سے عدم دلچسپی ہے۔ اگر مسلمانوں ازسر نو قبلہ اوّل کی آزادی پر فوکس کرلیں اور اسکو آزاد کرانے پر کمر بستہ ہوجائیں تو کوئی دجہ نہیں ہے کہ اللہ انہیں انکی عظمت رفتہ عطاء نہ فرمادے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں