اعلان بالفور! تاریخ برطانیہ پر سیاہ داغ. تحریر: صابر ابو مریم 7 52

اعلان بالفور! تاریخ برطانیہ پر سیاہ داغ. تحریر: صابر ابو مریم

اعلان بالفور! تاریخ برطانیہ پر سیاہ داغ
تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانوی سامراجی نظام نے فلسطین کو صہیونیوں کے تسلط میں دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پہلی جنگ عظیم در اصل صہیونیوں کی ایماء پر ہی شروع ہوئی تھی جس کے بعد بڑے پیمانے پر خون ریزی کے بعد اختتام پذیر ہو گئی۔صہیونی پہلی جنگ عظیم سے کئی سال قبل ہی فلسطین کی سرزمین پر ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام کی تیاریاں کر رہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ صہیونیوں کی سرگرمیاں نہ صرف پہلی جنگ عظیم کی بنیاد بنی بلکہ دوسری جنگ عظیم بھی صہیونیوں کی کارستانیوں میں شمار ہوتی ہے۔
برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ آرتھربالفور نے سنہ1917ء میں برطانوی یہودی لابی کے اہم ترین فرد Walter Rothschild کو ایک خط لکھا جس میں فلسطین کو یہودیوں میں تقسیم کرنے کا کہا گیا یہ خط اپنی نوعیت کا مختصر خط تھا جو کہ ایک ہی پیراگراف پر محیط تھا تاہم اس کے اثرات فلسطین کی تقسیم کا نمونہ بن کر سامنے آئے۔بالفور نے سنہ 1917ء میں دو نومبر کو لکھے گئے اس خط میں تحریر کیا کہ، جناب Rothschild مجھے آپ کو یہ بات بتانے میں انتہائی مسرت ہو رہی ہے کہ کابینہ نے یہودیوں کی امنگوں کے مطابق منصوبہ قبول کر لیا ہے۔فلسطین میں یہودیوں کی ریاست اور وطن تشکیل دینے کے لئے حکومت برطانیہ ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لائے گی۔میں اس اعلامیہ کو آپ تک پہنچانے میں پر مسرت ہوں۔ آرتھر بالفور
اس اعلان کے بعد جیسے فلسطینی عربوں پر قیامت ہی ٹوٹ پڑی تھی اور فلسطین کی عوام اور تمام دھڑوں نے اس اعلان کو مسترد کیا اور کسی صورت فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے حق کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا۔فلسطینی عربوں کا موقف کافی مضبوط تھا۔ان کاکہنا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے صہیونیوں کو لا کر فلسطین میں بسایا جا رہا ہے اور حکومت برطانیہ فلسطین پر ان کو ایک الگ وطن بنا کر دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔
در اصل تاریخ فلسطین میں برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر بالفور کا یہ خط اور اعلان فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے ایک امید بن گیا تھا جس کے اثرات بعد ازاں ویسے ہی سامنے آئے جس طرح اعلان میں بیان کئے گئے تھے۔آج اعلان بالفور کو ایک سو دو برس ہو چکے ہیں، ایک پوری صدی فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کی بیت چکی ہے۔دنیا کے سامنے آج بھی جب فلسطین کے لئے انصاف کی بات اٹھائی جاتی ہے وہاں حکومت برطانیہ کے اس بدترین کارنامہ پر دنیا برطانوی سرکار کو فلسطینیوں کے ایک سو دو سالہ قتل عام میں صہیونیوں کے ساتھ برابر کا شریک جرم تصور کرتی ہے۔
آج حکومت برطانیہ جمہوریت کے دعوں اورقانون کی بالا دستی سمیت انصاف کے تقاضوں کے کھوکھلے نعرے بلند کر رہی ہے لیکن آج دنیا بھر کی نسل نو با شعور ہے اور جان چکی ہے کہ برطانوی استعمار اور امریکی سامر اج کا اصل چہرہ انتہائی گھناؤنا اور سیاہ ترین ہے۔آج دنیا بھر میں فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز عالمی سامراجی طاقتوں امریکہ اور برطانیہ کے جھوٹے اور مکارانہ طرز عمل پر بھی انگلی اٹھا رہی ہے۔آج دنیا کے عوام برطانیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فلسطین کے ساتھ کی جانے والی بد ترین ناانصافی اور بلخصوص اعلان بالفور پر پوری دنیا اور فلسطینیوں سے معافی مانگے۔
بہر حال فلسطین کا مسئلہ دنیا کے سامنے ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے دنیامیں دو طبقات کے حامیوں کو ایک طرف جمع کیاہے۔ایک طرف دنیا کے مظلوم ہیں جو فلسطینی مظلوموں کا نعرہ بلندکر رہے ہیں تو دوسری طرف ظلم کا نظام ہے جس کی قیادت دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ اور اس کے ساتھ برطانیہ اور دیگر غربی و عربی ممالک کے استعماری حکمران کر رہے ہیں۔آج دنیا میں صرف دو ہی طبقات اور طاقتوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔تمام تر شیطانی قوتیں بشمول امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور ان کے مغربی اور عربی اتحادی ہیں کہ جنہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ پے درپے خیانت کے منصوبے ترتیب دے رکھے ہیں۔
گذشتہ برس امریکی صدر کی طرف سے فلسطین کے عنوان پر پیش ہونے والی صدی کی ڈیل بھی کسی اعلان بالفور سے کم نہ تھی تاہم یہ سنہ1917ء نہ تھا کہ جہاں مظلوموں کی آواز کو برطانوی ٹینکوں اور صہیونیوں کی دہشت گردی کے سامنے خاموش کروا دیا جائے گا۔آج کا فلسطینی گذشتہ ایک سو سالہ مزاحمت کے دور میں نشو نما پا کر ظالم قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہے۔آج کا فلسطینی اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کررہا ہے اور یہ ثابت کر رہا ہے کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت پائیدار ہو چکی ہے اور اب دنیا کے کسی بالفور اور کسی ٹرمپ کو یہ ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فلسطین کی قسمت کا فیصلہ کریں۔
برطانوی استعمار دنیا کے سامنے کتنا ہی اپنا مہذب چہرہ پیش کرے لیکن فلسطین کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی ہمیشہ برطانیہ کے سیاسی نظام اور عدالتی و قانونی نظام پر ایک سیاہ دھبہ کی مانند واضح اور ابھرتی ہوئی نشانی کی طرح نظر آتی رہے گی۔گذشتہ ایک صدی میں فلسطینی عوام پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کی بنیاد برطانوی سامراج کا بالفور اعلامیہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین میں ہونے والے صہیونیوں کے تمام مظالم چاہے وہ پہلی جنگ عظم کے بعد شروع ہوئے یا دوسری جنگ عظیم کے بعد فلسطین پر ناجائز ریاست اسرائیل کو قائم کرنے کے بعد ہوئے، سب کے سب میں امریکہ اور برطانوی استعمار برابر کے مجرم ہیں۔آج برطانوی نام نہاد مہذب معاشرے میں نسل نو اپنی حکومتوں سے سوال کر رہی ہے کہ آخر کس برطانوی دستور کے تحت فلسطین پر اسرائیل جیسی ناجائز نسل پرست ریاست کو قائم کروایا گیا تھا؟ آج برطانوی باشندے فلسطینیوں کے ساتھ حکومت کی جانب سے ہونے والی ناانصافی پرپوری دنیاکے سامنے سرنگوں اور شرمندہ ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلم دنیا کو نقصان پہنچا ہے اس کے پیچھے ہمیشہ صہیونیوں کی سازشیں کارفرما رہی ہیں۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تمام تر تباہ کاریوں کا آغاز کروانے والے عوام میں صہیونی ملوث رہے اور بعد ازاں ان دو عالمی جنگوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی و امریکی سامراج کے ساتھ مل کر فلسطین کی سرزمین مقدس پر اپنا ناجائز تسلط قائم کرتے ہوئے جعلی ریاست اسرائیل کی بنیاد ٹھیک 1948ء میں رکھ کر اس بات کا ثبوت دیا کہ دنیامیں امن کو تہہ و بالا کرنے اور جنگوں کا آغاز کروانے کا صہیونی مقصد دراصل فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کا قیام تھا۔اب سوا ل یہ پیدا ہو رہاہے کہ قانون کی بالادستی کا دم بھرنے والی برطانوی سرکار کیاآج ایک سو دو سال گزر جانے کے بعد اخلاقی طور پر فلسطینی عوام اور اقوام عالم کے سامنے فلسطینیوں کے ساتھ کی جانے والی تاریخ کی بد ترین نا انصافی پر معافی مانگے گی؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں