اسرائیل کا ایران سے کوئی مقابلہ ہی نہیں، ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے ہم آغوش پھیلائے منتظر ہیں، جواد ظریف 7 70

اسرائیل کا ایران سے کوئی مقابلہ ہی نہیں، ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے ہم آغوش پھیلائے منتظر ہیں، جواد ظریف

اسرائیل کا ایران سے کوئی مقابلہ ہی نہیں، ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے ہم آغوش پھیلائے منتظر ہیں، جواد ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ان دنوں فن لینڈ، سویڈن اور ناروے کی حکومتوں کیساتھ مذاکرات کے لئے شمالی یورپ کے دورے پر ہیں، انہوں نے عید سعید غدیر خم کی شب، عید غدیر کی مناسبت سے سویڈن میں مقیم ایرانی شہریوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل سے مقابلے کیلئے ایران زیادہ ہی بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس چیز کا ایران کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ ایران میں چاہے اصلاح طلب، اصول گرا یا سیکولر حکومت ہی کیوں نہ ہو، اسرائیل سے مقابلے کے لئے ایران ضرورت سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ ایران جو گذشتہ 40 سالوں سے اپنے پیروں پر کھڑا ہے اور اُن کیلئے قابل تحمل نہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے چند ملکی دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گو کہ میرا نام امریکی پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، لیکن تب بھی اور اس وقت بھی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں جبکہ گذشتہ ہفتے کے دوران کئی ایک ممالک کے سربراہاں مملکت کیساتھ ان کے ممالک میں ملاقات کرچکا ہوں۔

محمد جواد ظریف نے اپنی گفتگو کے دوران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایران کی مکمل آمادگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے سابق وزیر خارجہ “سعود الفیصل” کو دی گئی اپنی پیشکش کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں کویت میں تھا، میں نے کویتیوں کو کہا تھا کہ اگر سعودی عرب مذاکرات کے لئے تیار ہے تو کل ہی سے مذاکرات شروع کر لیتے ہیں، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ “جواد ظریف تو کچھ بھی نہیں، ہمارا اصلی مسئلہ جنرل قاسم سلیمانی کیساتھ ہے” لیکن واضح تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور مذاکرات کرنا نہیں چاہتے۔ پھر جب میں وزیر (خارجہ) بن گیا تو میں نے جنرل قاسم سلیمانی سے بات کرنے کے بعد دوبارہ انہیں پیغام بھجوایا کہ ہم یمن، بحرین، عراق، شام اور لبنان کے بارے میں مذاکرات کرنے کو تیار ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بقول میں کچھ نہیں ہوں تو جنرل قاسم سلیمانی خود آپ سے بات کریں گے، جس کے جواب میں سعود الفیصل کا یہ کہنا تھا کہ “عرب دنیا کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں” تو اب واضح ہے کہ عرب دنیا کے ساتھ ہمارا کیا تعلق ہے!

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنی گفتگو کے آخر میں کہا کہ ہمارے خطے کا اصلی مسئلہ یہ سوچ ہے کہ امن و امان کو بیرون ملک سے خرید کر درآمد کیا جا سکتا ہے۔ اوباما نے ایک مرتبہ انہیں یہ کہہ دیا تھا کہ جائیں ایران کے ساتھ اپنے مسائل حل کریں، لیکن ساتھ ہی سعودی عرب کو اپنے اسلحے کی فروخت بھی کئی گنا بڑھا دی تھی۔ مغرب کی اسلحے کی صنعت کو پروان چڑھانے والی رقم کا ایک قابل قدر حصہ وہاں سے آتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کیطرف سے خریدے گئے اسلحے کی قیمت 87 بلین ڈالرز جبکہ متحدہ عرب امارات کیطرف سے خریدے گئے اسلحے کی قیمت 22 بلین ڈالرز تھی جبکہ وہ بھی ایسی اندھی دولت کے آنے کے رستے بند کرنا نہیں چاہتے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کا یہ بیان بھی نہیں بھولنا چاہیئے، جب انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “جمال خاشقجی” (کا مسئلہ) کچھ نہیں، اصلی مسئلہ ایران ہے۔ دونوں فریقوں کی یہی سوچ ہے، جس نے ہمارے خطے کو سنگین مسائل سے دوچار کر رکھا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں