istaqbal e ramzan 59

استقبال رمضان از: مفتی گلزار احمد نعیمی (مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان

استقبال رمضان
از: مفتی گلزار احمد نعیمی (مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان، پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام اباد)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بے حد و حساب شکر ہے کہ اس نے ایک دفعہ پھر اپنی عظیم برکتوں اور سعادتوں سے مامور ماہ مکرم ہمیں عطا فرمایا۔اسکی رحمتیں برسنے کو ہیں اور ہم ان برکتوں کو سمیٹنے کے لیے تیار ہیں۔اس پر نور مہینے کو خدائے بزرگ و برتر نے بے شمار خوبیوں سے نوازا ہے۔ اسکی بابرکت سعادتوں میں ادا کیے جانے والے نوافل کو ثواب و اجر میں فرائض کا ہم سر قرار دیا ہے۔ اس مکرم ماہ کی عظمت کے کیا کہنے جسے نبیوں کے تاجدار ؐ نے”شھر عظیم“ اور ”شھر مبارک“ قرار دیا ہو۔اس عظیم مہینے میں جنت کے دروازے گنہگاروں کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔
اس مہینے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم کی لازاوال محبتوں کا سلسلہ جڑا ہوا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم اسکی تیاریاں شعبان المعظم میں ہی شروع فرمادیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم شعبان المعظم میں کثرت سے روزے رکھتے تھے بلکہ جیسے ماہ رجب کا چاند طلوع ہو تا تو آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم کے دل میں رمضان کی قربت کا احساس بیدار ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم دعا فرماتے : اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان، وبارک لنا فی رمضان (ابو نعیم،حلیۃ الاولیاء،6،269)اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتوں کا نزول فرما اور رمضان میں بھی برکتیں عطافرما۔آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم کا شعبان المعظم میں کثرت سے روزہ رکھنا اور تلاوت قرآن مجید کرنا استقبال رمضان کی تیاری ہوا کرتی تھی۔آپ ؐ اس ماہ مکرم کو روزوں کی کثرت اور قرآن مجید کی تلاوت کی کثرت کے ساتھ خوش آمدید کہا کرتے تھے۔
حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک دفعہ سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے صحابہ سے تین دفعہ یہ سوال دہرا کر پوچھا:
ما ذا یستقبلکم وتستقبلون؟ تمہارا کون استقبال کررہا ہے اور تم کس کا استقبال کر نے جارہے ہو؟۔ اس پر حضرت عمر فاروق ؓ نے عرض کی: کیا وحی اترنے والی ہے؟فرمایا”نہیں“ عرض کی کیا ہم کسی دشمن سے برسر پیکار ہونے جا رہے ہیں؟ فرمایا”نہیں“ عرض کی پھر کیا بات ہے؟ فرمایا: ان اللہ یغفر فی اول لیلۃ من شھر رمضان لکل اھل القبلۃ۔(الترغیب والترھیب2،4،6، الرقم: 1502) ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ رمضان المبار ک کی پہلی رات میں ہر اہل قبلہ کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
ام المؤ منین حضرت ام سلمہ ؓروایت کرتی ہیں کہ میں نے سرکارصلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم کو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے روزوں کے جو رمضان کے ساتھ مل جاتے تھے۔ (نسائی، السنن، کتاب الصیام، رقم:2175)
آپ ؐکی سیرت کی پیروی کے کامل نمونہ جات صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی شعبان سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے شروع کر دیا کرتے تھے اور اموال کی زکوٰ ۃ بھی شعبان میں ہی نکال دیتے تھے تاکہ غرباء و مساکین کی مدد ہو اور وہ رمضان آسانی سے گزار سکیں۔ حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کان المسلمون اِذا دخل شعبان أ کبّوا علی المصاحف فقرؤ وھا واخرجو زکوٰۃ اموالھم تقویۃً للضعیف والمسکین علی صیام رمضان (لطائف المعارف، ابن رجب حنبلی، الرقم:2581)
امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں حضرت سعید ابن مسیب کی روایت ذکر کی ہے جو انہوں نے حضرت سلمان فارسی ؓسے روایت کی ہے۔ حضرت سلمان روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے شعبان معظم کے آخری دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو تم پر عظیم مہینہ سائیہ افگن ہورہا ہے، مبارک مہینہ،ایسامہینہ کہ اس میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے۔ اللہ نے اس کے روزے فرض اور اسکی راتوں کے قیام کو نفل قراردیاہے۔جس نے اس میں ایک بھلائی کا کام کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ایک فرض ادا کیا۔اور جس نے اس ماہ میں ایک فرض ادا کیا تو گویا اس نے غیر رمضان میں ستر فرض اداکیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔یہ غم خواری کا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں مؤ من کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔جس نے اس میں روزے دار کو روزہ افطار کرایا تو یہ اسکے گناہوں سے معافی اور جہنم سے آزادی کا سبب ہو گااور روزے دار جتنا ثواب ملے گاروزے دار کے ثواب میں کمی کیے بغیر۔صحابہ نے عرض کی ہم سب کے پاس تو روزے دار کو افطار کرانے کی استطا عت نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وا ٰ لہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اللہ اسے بھی عطاکردے گا جو روزے دار کو ایک کھجور، ایک پانی کا گھونٹ یا دودھ کے ایک گھونٹ پر روزہ افطار کراداے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول (عشرہ) رحمت ہے جسکا درمیان(عشرہ) مغفرت ہے اور آخری(عشرہ) جہنم سے آزادی کا ہے۔جس نے اپنے مملوک کے بوجھ کو ہلکا کیا اللہ اسکی مغفرت فرمائے گا اور اسے آگ سے آزادی دے گا۔ چار چیزوں کی اس میں کثرت کرو۔ دو چیزیں تمہارے رب کی رضا کا ذریعہ ہیں اور دو چیزیں تمہیں مستغنی کرنے والی ہیں۔دو چیزیں جن سے تمہارا رب تم سے راضی ہو گاوہ کلمہ طیبہ کا ورد اور کثرت استغفار ہے۔بے پرواہ کرنے والی دو چیزیں اپنے رب سے حصول جنت کا سوال اور جہنم سے پناہ مانگنا۔جو شخص اس ماہ میں روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گااللہ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔(صحیح ابن خزیمہ،باب فی فضائل شھر رمضان: الرقم1887)۔ یہ حدیث اہل سنت کے محد ثین کے علاوہ اہل تشیع کے علماء نے بھی ذکر کی ہے۔اہل تشیع کے ہاں یہ حدیث خطبہئ شعبانیہ کے نام سے مشہورہے۔ہمارے بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور وجہ ضعف اسکی سند میں علی بن زید بن جرعان راوی ہیں جن کے حافظہ پر جرح کی گئی ہے۔لیکن یہ حدیث بیشتر محدثین نے روایت کی ہے۔ اس حدیث میں آپ نے تفصیل کے ساتھ رمضان شریف کی برکتوں کو عظمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔اسے صبر اور غم خواری کا مہینہ قرار دیا گیا۔مؤمن کے رزق میں وسعت کا وعدہ کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے صوفیاء اور عرفاء نے اس مہینے کو صفائے قلب کے لیے بہت ہی زرخیز مہینہ قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تنویر قلب کے لیے پورے سال میں اس سے بڑھ کر اور کو ئی موقع انسان کو میسر نہیں آسکتا۔یہ حق کے سا تھ تعاون اور بدی کے ساتھ عدم تعاون کا ماہ مبارک ہے۔انسان کی باطنی صفائی کے لیے اس ماہ مکرم میں حالات نہایت ساز گار ہوتے ہیں۔
یہ مہینہ بحیثیت مسلم قوم متحد ہونے کا بھی بہت اعلی موقع فراہم کرتا ہے۔یاد رہے کہ قومیں اس وقت مضبوط و مستحکم ہوتی ہیں جب وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ جب ان کے لیے عدل وانصاف کا حصول سہل ہو،جب حقوق و فرائض کے اصولوں پر مکمل طور پر عمل کیا جا رہا ہواور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم غربت کے مارے افراد کا خیال نہ رکھیں۔اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہماری تمام توجہات کا مرکز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات نہ ہو جائے۔ جب یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے تو پھر انسان دنیا کی تمام تر چیزوں کو عارضی اور غیر مستقل سمجھتا ہے۔روزے کا سب سے بڑا مقصد اسی احساس کو اجا گر کرنا ہے۔جب یہ احساس اپنے بلند مقام تک پہنچ جاتا ہے تو پھر قوم کے اندر استحکام پیدا ہوتاہے۔
رمضان مبارک میں وقوع پذیر ہونے والے کچھ واقعات نے دنیا کے حالات اور تہذیب وثقافت کو بہت متاثر کیا ہے بلکہ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
(۱) پہلا واقعہ نزول قرآن کا ہے۔اگر ہم نزول قرآن سے پہلے کی دنیا کا جائزہ لیں اور نزول قرآن کے بعد کی دنیا کا اس سے موازنہ کریں تو دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔قرآن نے انسان کی تاریک دنیا کو علم و عرفان کے ذریعے روشن کیا ہے۔شرک جس نے انسانیت کو ہر مافو ق الفطرت چیز کا غلام بنا رکھا تھا،اس سے نکال کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف اسکی رہنمائی کی ہے۔شرک کے نظام کو جڑوں سے اکھاڑ کر توحید کا خوبصورت نظریہ کامیابی کے ساتھ متعارف کرایا ہے۔ قرآن نے انسان کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی حالات پر ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔آسٹریا کے ایک معروف مصنف جنا ب محمد اسدنے لکھا ہے:
The Quran has fundamentally affected the social, religious and political history of the world.(Can the Quran be translated, By: Muhammad Asad)
ترجمہ: قرآن نے بنیادی طور پر دنیا کی معاشرتی،مذہبی اور سیاسی تاریخ کو متاثر کیاہے۔
(2) دوسرا بڑا واقعہ رمضان المبارک میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم کا ہے جو سرکار ؐکی سپہ سالاری میں لڑی گئی۔اس جنگ میں اہل ایمان نے ثابت کیا ہے کہ ہمیں اپنے رب کے مقابلہ میں کوئی نعمت محبوب نہیں ہے۔ ہمیں بے سرو سامانی تو منظور ہے لیکن اس دھرتی پر اپنے رب کے نظام کے علاوہ کوئی دوسرا نظام منظور نہیں ہے۔
(3) تیسر بڑا واقعہ فتح مکہ کا ہے۔جو اس بات کی نوید اور عظیم خوش خبری ہے کہ اہل اخلاص دنیا میں ہمیشہ سر خرو ہوتے ہیں وقتی محرومیاں انکے جذبات کو ٹھنڈا نہیں کر سکتیں فتح مکہ نے اللہ کے گھر کو بتوں سے پاک کر کے اس بات کا اعلان کیا کہ یہ ابتداء ہے، پوری زمین کو جھوٹے خداؤں سے پاک کیا جائے گااور توحید کی شمعیں چار دانگ عالم میں بھی روشن ہونگی اللہ کا دین غالب ہو گا۔
رمضان المبارک بالکل ہمارے دروازے پر کھڑا ہے۔ ہمیں اسے خوش آمدید کہنا ہے، محبت کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ۔ ہمارا مطمع نظر اللہ کی رضا اور اس کے نبی کی خوش نودی ہو۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں