اتحاد بین المسلمین تحریر: صاحبزادہ کاشف گلزارنعیمی 7 255

اتحاد بین المسلمین تحریر: صاحبزادہ کاشف گلزارنعیمی

اتحاد بین المسلمین
تحریر: صاحبزادہ کاشف گلزارنعیمی
اللہ پاک نے اپنی اشرف اور اکرم مخلوق کی ہدایت اور راہنمائی کا انتہائی اعلیٰ انتظام فرمایا اور بارگاہ لم یزل سے ارشاد ہوا’’ فاما یا تیینکم منی هدی فمن تبع هدای فلا خوف علیهم ولا هم یحزنون‘‘(القرآن ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر دور ، زمانے اور علاقہ کیلئے ایک مکمل ترین ضابطہ حیات بھیجا ، دین خداوندی کا عظیم ترین مقصد تزکیہء نفس اورا صلاح احوال تھا۔ کائنات کے عظیم ترین مصلح نے فرد کی اصلاح کی جس سے ایک صالح معاشرہ پروان چڑھا۔ کاروبار زندگی اس وقت تک طریق مستقیم پر چلتا ہے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ضابطہ حیات کی روشنی میں جیسے ہی انسان احکامات الہی سے روگردانی کرتا ہے ذلت و پستی کی ایسی ابلیس گھاٹیوں میں جا گرتا ہے کہ ان سے نکلنا پھر اسکا شوق ہی نہیں رہتا ۔ تمام سماوی مذاہب کا مقصد وحید انسان کی اصلاح وفلاح ہے۔
اس مادیت پرستی کے دور میں انسان کی حالت اس قدر انسانیت سے غیر مانوس ہے کہ شکاری بھی انسان ہیں اور شکار بھی بیچارہ انسان اور اس کی وجہ مذہب سے کمزور ناطہ ہے۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کو اگر حقیقی معنوں میں لیا جائے تو یقیناًسب کا یہی ماننا ہو گا کہ یا تو دوا میں خرابی ہے یا پھر مرض کچھ اور دوا کچھ ۔
تو یہ بات انتہائی واضح ہے کہ اگر دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے اپنے اپنے مذہب بدل ڈالے تو اسلام کی تصویر بھی دین دشمنوں نے بگاڑ ڈالی۔آج کے انتہائی بگڑے ہوئے حالات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کتاب کے بند صفحات کو کھول کر پڑھا جائے تا کہ اتحاد و یگانگت کیلئے تمام مسالک و مذاہب ایک مسجد میں جمع ہوں اور انسانیت کی اصلاح و فلاح کا انتظام کر سکیں جو کہ حکم خداوندی سنت سید الانبیاء ، مقصد شہادت امام حسین ، اور مسلمین کی بہترین جماعت کا وطیرہ زندگی رہا۔
اتحاد بین المسلمین پر بات کرنے سے پہلے چند سوالوں کا جواب سوچنا ضروری ہو گا۔
بین المسلمین اتحاد کے بارے قرانی نقطہ نظر کیا ہے؟
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتحاد کے حوالے سے کیا تعلیمات ہیں ؟
کیا تمام مسالک اس اتحاد کیلئے تیار ہیں؟
کیا اس اتحاد سے مراد ایک نیا مذہب تشکیل دینا ہے یا انسان کے اور مسلمان کے مفاد کیلئے متفق و متحد ہو کر کوشش کرنا ہے؟
اس اتحاد میں ثالث کا کردار کون ادا کرے گا؟
کیا اتحاد کے داعی اس کام میں مخلص ہیں یا بغل میں چھر ی منہ میں رام رام؟
وہ کون سے مشترکہ امو ر ہیں جن پر اتحاد کی عمارت قائم ہو سکتی ہے؟
ان تمام سوالات کے جوابات ہم اس تحریر کے مختلف گوشوں میں بیان کرنے کی کوشش کریں گے
قرآن کی نظر میں اتحاد کی اہمیت :
اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے۔ اس دین میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنا تعارف بطور رب العلمین کے کرایا کہ وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافۃ اللنا س اور رحمۃ للعلمین کے خوبصورب خطاب سے نواز ا کہ آپکی رسالت و نبوت اور رحمت کل کائنات کیلئے ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ یہ ھدی للعلمین یعنی پوری کائنات کیلئے ہدایت ہے۔ لہذا اسلام کی تعلیمات زمان و مکان، رنگ و نسل ، فرقہ و مذہب ہر قسم کی حد بندیوں سے بالا تر ہیں ۔
غور طلب بات ہے کہ آج اتحاد بین المسلمین کی اشد ضرورت ہے اور امت کے نیک ظرف لوگ قطع نظر اس بات سے کہ انکا اپنا تعلق بھی کسی خاص مکتبہ فکر سے ہو امت کی وحدت اور اتحاد و یگانگت کی عظیم سوچ رکھتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف نظر آتے ہیں ۔
قرآن نے تو انسان کی دنیا میں امن کیلئے اس سے بھی دو قدم آگے کی بات کی ہے ارشاد ہوا۔
قل یا اهل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا وبینکم ان لانعبد الا لله ولا نشرک به شیاء۔
صرف اور صرف اسلام ہی وہ واحد نظام ہے جو تمام زخموں کا تیاق اپنے دامن میں رکھتا ہے۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ اطہر پر نازل ہونے والی کتاب عظیم اور آپ کی زبان پاک سے وارد ہونے والی احادیث مبارکہ ایسا ابر کرم ہے جو خطہ وحد ود سے ماورا ہو کر برستا ہے اسلام کسی ایک فرقے یا گروہ کے مذہبی خیالات کا نام نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کیلئے رشد و ہدایت اور کامیابی کو کامرانی کا ضامن ہے ،یہی وہ مذہب ہے جو تمام لوگو ں مخاطب کر کے یہ پیغام حق سناتا ہے۔
ایها الناس قولو الااله الا الله تفلحوا(بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی )
یہ پیغام اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام ادیان کی دنیا میں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ دین پیغام الہی کو خطہ وحد ود کی قیود سے نکال کر پورے عالم میں پھیلانے کیلئے آیا ہے چہ جائیکہ اسے مذہب کو کسی خاص گروہ یا فرقے سے نتھی کیا جائے اور کسی خاص خطے کو لوگوں کا نشان قرار دیا جائے۔
قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
کنتم خیر امة (آل عمران 110)
اس آیت میں لفظ امۃ غور طلب ہے خصوصا ان لوگوں کیلئے جو اپنے آپ کو امت سے نکال کر ایک چھوٹے گروہ میں داخل کرنے پر اپنی خیرو عافیت سمجھتے ہیں۔ اگر اپنے آپ کو بہترین امت کہلوانا پسند یدہ ہے تو امت میں میں داخل ہو ناپسندیدہ کیوں؟
اسی طرح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرائض بعثت کی بات کی تو اسے بھی محدود نہیں رکھا بلکہ فرمایا ’’وما ارسلنک الا کافة للناس(القرآن سبا، ۱۱۲۸)‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :قل یا ایها الناس انی رسو ل الله الیکم جمیعا(الاعراف، ۱۵۸)
قرآن میں یا ایها الذین امنوا ۲۶۱ بار آیا ہے۔
جب اہل کتاب کو قرآن مجید میں اتحاد کی دعوت دی گئی ہے اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں میں کہا گیا کہ تعالوا الی کلمة سوا ء بیننا وبینکم ۔ یعنی جو چیز مشترک ہے اس پر جمع ہو جاتے ہیں ۔ تو جب اہل کتاب کو مشترک امور پر اتحاد کی دعوت دینا قرآن کا منشور ہے تو اہل قرآن کو اتحاد کی دعوت دینا بھی قرآن کی تعلیمات کی ہی پیروی ہے۔
کلمۃ کے بارے میں امام بغوی نے لکھا ہے کہ جس قصہ کی کچھ تفصیل ہو عرب اس کو کلمہ کہ دیتے ہیں اسی لیے قصیدہ کہ کلمہ کہا جاتا ہے ۔
سوا بینا و بینکم سے مراد وہ اصول جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک اورمسلمہ ہیں اور اتفاق ماۂ فی الماۂ ہے۔
میں اپنی بات کو اپنے خیالات کا اجلا لباس پہناتے ہوئے اس راہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں کہ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاری دونوں ہی ہوسکتے ہیں گو کہ اصلاً یہاں اشارہ نصرانیوں کی جانب ہی ہے جس طرح تورات و انجیل نے توحید کا درس دیا، شرک سے منع کیا قرآن نے بھی اسی پیغام کوعامۃ النسا تک پہنچایا ۔
مگر آج کے اس دور میں اس آیت سے روشنی و راہنمائی حاصل کرتے ہوئے تمام مکاتب فکر کو ایسے کلمے پر جمع کر دینا جو سب کے نزدیک قابل قبول ہو اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے جتنا انتہائے لیل کے بعد فجر کا پھوٹنا ضروری ہوتا ہے۔
نہایت ہی عجیب بات اور مجھے یہ بات سوچ کر انتہائی مسرت بھی ہوتی ہے کہ مکاتب فکر کی تعداد کثیر ہے۔ مگر سب کے پاس قرآن ایک ہے صرف ایک قرآن ہی اتحاد بین المسلمین قائم کر دینے کیلئے کافی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی نسخاء کیمیا ء نہیں ہے۔ قرآن کا ایک ایک لفظ، ایک ایک سطراورایک ایک نقطہ اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے کہ دین اسلام کی اصل قائم ہے اور اس نے تاقیام قیامت قائم رہنا ہے۔ قیامت تک کیلئے ہدایت کا سامان موجود و محفوظ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے ہم اس ہدایت کے حصول کیطرف متوجہ ہوں اور یہی توجہ اتحاد کی وجہ بن جائے گی۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
واعتصمو ابحبل الله جمیعا ولا تفرقوا
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا حکم خداوندی ہے اور نجات کا پیغام ہے اس شخص کیلئے جس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔
جمعیا کا لفط بھی غور طلب ہے کہ اگر اکھٹے ہو کرحبل اللہ کو تھامو گے تو یقیناًگمراہ نہیں ہو گے۔ اور ایسے مضبوط ہو جاؤ گے کہ دنیا کی کوئی قوم تمہیں شکست نہ دے سکے گی۔
اور اگر جمیعا کو چھوڑ کر تفرقو میں پناہ لینے کی کوشش کرو گے۔ یہ فقط الفاظ ہی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ حبل اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرو گے تو جمیعاً ہو جاؤ گے۔ ایک قوم کے نام سے پہچانے جاؤ گے۔ جیسا کہ امی لقب نے فرمایا الاسلام ملۃ واحدۃ اور اگر اس سے دور ہو کر تفرقو میں پڑو تو یقیناًلا ہو کر رہ جاؤ گے۔ کیونکہ لاتفرقو اللہ عزوجل کا حکم اور اگر اس سے روگردانی ہو گی اور لا کو چھوڑ کر تفرقو ا ہو گا پھر پہچان ’’لا‘‘ہو جائے گی۔
قرآن میں جب بھی امت محمدیہ کو پکارا گیا تو یاایھا الذین امنو کہہ کر پکارا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان کی صفت سے نواز کر احسان فرمایا اور اس لقب سے پکار کر عزت بخشی تو ہم کیوں نہ اپنے آپ کو مومن کہلوانے پر فخر محسوس کریں ۔ ہم کیوں نہ پسند کریں کہ بریلوی، اہل حدیث، شیعہ اور دیوبندی کی بجائے مسلمان اور مومن ہی ہماری پہچان رہے۔ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا شخص اپنے آپ کو مومن کہے گا ، شیعہ اپنے آپ کو مومن کہے گا، دیو بندی اپنے آپ کو مومن کہے گا، یعنی مومن کی اصطلاح سب کیلئے قابل قبول ہے مگر بریلوی دیو بندی ، شیعہ وغیرہ کی اصطلاحات سب کیلئے قابل قبول نہیں ہیں۔ تو آیئے مومن ہونے پر اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی نام سے پکارا ہے۔
شرق تا غرب تمام مسلمانوں کے پاس ایک قرآن ، پوری دنیا میں قرآن ایک زیر زبر یا پیش میں میں مختلف نہیں تو اس کتاب کے پڑھنے والے ، اس کتاب کو حق ماننے والے ، اس کتا ب کو ھدی اللعلمین ،ھدی الناس اور ھدی للمتقین ماننے والے اتنے گروپوں میں کیسے تقسیم ہوتے جا رہے ہیں وجہ صرف ایک ہی نظر آتی ہے کہ جب تک قرآن کو اپنی خواہش کے مطابق پڑھا جائے گا یعنی اپنے مسلک کو حق ثابت کرنے کیلئے چند آیات کا سہارا لیا جائے اور باقی چھوڑ دیا جائے تو یہ قرآن کو اپنے مسلک کے تابع کرنے کے مترادف ہے حالانکہ بات اس سے بالکل مختلف ہے۔ قرآن کسی خاص مسلک کے تابع نہیں ۔ آج بھی اتحاد میں حائل تمام روکاوٹیں ختم ہو سکتی ہیں اگر ہم اپنے مسالک قرآن کے تابع کردیں قرآن کی پیروی کرنے والا کبھی گمراہ نہ ہو گا ۔ آؤ اسے پسند کر لیں جسے اللہ نے ہمارے لیے پسند کیا فرمایا’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘
اسکے بعد اب کوئی اگر بہت اکرام کا طالب ہے تو فرمایا ان اکرمکم عند الله اتقکم (القرآن)
لااکراہ فی الدین کے عظیم قول کو سمجھا جائے اور نرمی کے وصف کو اپنی زندگیوں میں اسطرح شامل کیا جائے کہ معاملات طے پانے تک جائیں کہ غصہ کسی مسئلے کا حل نہیں ۔
انما المومنون اخوۃ فاصلحو بین اخویکم۔
اتحاد بین المسلمین احادیث کی روشنی میں :
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی عمر مبارک کے پینتیسویں برس میں تھے۔ سیلاب کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کچھ متاثر ہوئی ۔ قریش نے جب اس کی نئے سرے سے تعمیر کا فیصلہ کیا تو ہر قبیلے کو ایک ایک دیوار کے حصے بانٹ کر دینے لگے لیکن حجر اسود کو اپنی مخصوص جگہ پر رکھنے کا وقت آیا تو قبائل عرب کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا اور آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاکم بنایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور فرمایا ہر قبیلہ کپڑے کے ایک ایک کنارے کو پکڑے اور پھر سارے ملکر اسے بلند کریں انہوں نے ایسا ہی کیا جب حجر اسود مقررہ جگہ پر پہنچا تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اسے نصب فرمادیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک طویل خانہ جنگی کا کس خوش اسلوبی سے سد باب فرما دیا۔ اصل جھگڑالو تو کون تھے یہ تو معلوم نہ ہو سکا مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی صلح جو کی حیثیت سے قیامت تک کیلئے اسوۂ کامل ہے۔
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جھگڑے کس طرح ختم کیے جا سکتے ہیں اتحاد کس طرح قائم ہو سکتا ہے۔ کعبہ کو محترم جاننے والوں کو اسکی تعمیر میں جائز حصہ ملا تو جھگڑا ختم اسی طرح حجر اسود کی تنصیب میں سب کو شامل کیا گیا تو کسی تنازع نے جنم نہیں لیا۔ اسلام کے تمام گروپوں کو تعمیر اسلام میں شامل کیا جائے اور علم اسلام کی پوری دنیا میں تنصیب کے معاملے میں جائز حصہ دیا جائے تو اتحاد یقیناًقائم ہو سکتا ہے عمل مصطفےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی درس ملتا ہے۔
قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری لکھتے ہیں۔
’’نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے پہنچ کر ہجرت کے پہلے ہی سال یہ مناسب خیال فرمایا کہ تمام اقوام سے ایک معاہدہ بین الاقوامی اصول پر کر لیا جائے تا کہ نسل و مذہب کے اختلاف میں بھی قومیت کی وحدت قائم رہے سب کو تہذیب و تمدن میں ایک دوسرے سے مدد ملتی رہے۔(ڈاکٹر حمید اللہ، رسول اللہ کی سیاسی زندگی۔ ج ۷۱‘‘)
اس معاہدے کے الفاظ اسلام کے آفاقی مزاج کی گواہی دیتے ہیں۔ ’’ھذا کتاب من محمد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بین المومنین و المسلمین من قریشی و یثرب من تیبھم فلحق بھم و جاھد معھم انھم امۃ واحدۃ۔‘‘(الطبری)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اخوت،محبت اور اتحاد کی تعلیم دی ہے۔اور امت کے اتحاد میں ہی فلاح و کامیابی ہے کیونکہ جس کلمے پر جس بات پر امت متفق و متحد ہو جائے گی وہ گمراہی کی راہ نہیں ہو گی بلکہ صراط مستقیم ہو گا کہ امی لقب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا إن اﷲَ لَا یجمع أمتي (اوْ قال امة محمد) علی ضلَالة، وید اﷲ مع الجماعة، ومن شذ شذ إلی النار(ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ رقم الحدیث: ۲۱۶۷)
تو پھر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ کلمہ جس پر امت جمع ہو سکتی ہے وہی راہ حق ہے اس کے سوا سب گمراہی ہے کیونکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما دیا ہے کہ جس پر میری امت جمع نہ ہو وہ گمراہی ہے
ایک اور مقام پر اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا لا تحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا یبع بعضکم علی بیعِ بعض، وکونوا عباد اﷲ إخوانا، المسلم اخو المسلم لا یظلمه و لا یخذله و لا یحقره، التقوی هاهنا (و یشیر إلی صدره ثلاث مرات) بحسب امریء من الشران یحقر اخاہ المسلم، کل المسلم علی المسلم حرام دمه و ماله وعرضه( مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفھم وتعاضدھم، رقم الحدیث: ۲۵۸۶)
’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور ایک دوسرے سے بُغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے رُخ نہ موڑو، اور تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے۔ اے اللہ تعالیٰ کے بندو! باہم بھائی بھائی ہو جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر نہ تو ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے، اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری یہاں ہے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینۂ اقدس کی طرف اشارہ کیا)۔ کسی مسلمان کے لئے اتنی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ایک مسلمان پر دوسرے کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت (و آبرو پامال کرنا) حرام ہے۔‘‘
اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت:
آج عالم اسلام میں بیداری کی تحریک کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، ہمیں پاکستان میں موجود شرپسند عناصر کے ایجنڈے کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس ملک میں کبھی شیعہ سنی کا مسئلہ ہوا اور نہ انشاء اللہ کبھی ہو گا، لیکن چند شرپسند عناصر جو غلط کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے حوالے سے حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہیں، ہمیں سال بعد اکٹھا نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ سلسلہ سالہا سال جاری رہنا چاہئے، علماء کیساتھ میڈیا کو بھی اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،
جو اتحاد بین المسلمین کی طرف نہیں آنا چاہتا وہ مسلمان نہیں ہے، جب ہمارا اللہ، کلمہ اور کعبہ ایک ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم ایک نہیں ہو رہے؟
منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پا ک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
ایک معصوم اور تقدس مآب تمّنا جو ہر مسلمان کے سینے میں مچل رہی ہے وہ اسلام کا اتحاد ہے اسلامی برادری کارکن اور فرد ہونے کی حیثیت سے ہر مسلمان اس امن افزااورسکون آفریں تدبیر کا دِل سے قائل ہے اور شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ہو جو یہ نہ چاہتا ہو کہ دنیا سے کالے گورے کی تمیز ختم ہو جائے اور ملّتِ اسلامیہ قیود و حدود اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ” مسلم امہ ” کی صورت میں متحد اور یکجا ہو کر انسانی خدمت کے لئے مصروفِ کار ہوجائے۔
اس میں شک نہیں کہ ” اتحاد بین المسلمین ” ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر دْنیا معروف اور نیکی ، احسان اور صداقت کے پھولوں سے سج سکتی ہے اور اسی کے وسیلہ سے پائے حیات میں چبھے کانٹے نکالے جا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کا اتحاد اور اتفاق وقت کی ضرورت بھی ہے اور خداوندِ قدوس کا ایک حکم بھی ، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری بھی کوشش اور دعوت یہی ہے کہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑا جائے۔ اختلاف و افتراق سے کلیتہً اجتناب برتا جائے اور اس بات کی سعیِ بلیغ کی جائے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں میں محبّت و مروت اور مودت و اخوت کی ایک لہر دوڑ جائے۔
تحریر کے اختتام پر بھی مقدمہ کے کچھ سوالات کا جواب نہ مل سکا ۔وہ کون سے سوالات ہیں ،تحریر کے مقدمے میں درج ہیں جوابات کے لئے میں بھی مسلم قائدین کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہوں۔
وماتوفیقی الا باللہ
مآخذ ومراجع
1۔القرآن
2۔ صحیح بخاری
3۔ صحیح مسلم
4۔ جامع ترمذی
5۔ سنن نسائی
6۔ الطبری
7۔رسول اللہ کی سیاسی زندگی (ڈاکٹر حمید اللہ)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں