صدر جماعت اہل حرم پاکستان 26

ابو بکراعوان ایڈوکیٹ (صدر جماعت اہل حرم پاکستان) خطاب خاتون جنت کانفرنس

ابو بکراعوان ایڈوکیٹ
(صدر جماعت اہل حرم پاکستان)
آج کے دور میں اگر کوئی شخص صاحب اقتدار بن جاتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اہل حق کو دبا ء دیا ہے۔ اہل حق کی آواز کو میں نے پست کر دیا ہے وہ یہ نہ سمجھے کہ میں نے ان پر غلبہ پا لیا ہے بات یہ ہے اللہ رب العٰلمین نے اس کو ڈھیل دی ہوئی ہے۔
اب اس ترازو میں سیدہ مخدومہ کائنات با با جان کی بارگاہ میں حاضر ہوتی ہیں، آکر عرض کرتی ہیں کہ مولا علی کی خواہش ہے کہ کچھ کنیزیں دے دی جائیں خادم دے دیا جائے تو سیدہ کائنات کے بابا جان نے فرمایاکہ اس سے بہتر چیز میں تمہیں دے کر جا رہا ہوں جس کا تعلق دنیا کے ساتھ نہیں ہے بلکہ آخرت کے ساتھ ہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑا کیا تعلق مل سکتا ہے کہ بیٹی کو کہا جاتا ہے کہ اے میری بیٹی انت سیدۃ نساء العٰلمین اور بیٹوں کے بارے میں کہا جاتا ہے الحسن والحسین سیدا شباب اھل الجنۃ فرمایا میں تمہیں دنیا نہیں دے رہا بلکہ آخرت دے رہا ہوں اور آخرت بھی اس انداز کی دے رہا ہوں کہ اے فاطمہ! جتنی بھی خواتین جنت میں آئیں گی وہ تمام تیری کنیزیں بن کر آئیں گی اور جتنے بھی نو جوان جنت میں جائیں گے وہ تیرے شہزادوں کے غلام بن کر جنت میں جائیں گے
حضرات گرامی قدر! آخری بات میں عرض کرتا ہوں کہ ابھی ایک تجویز صاحبزادہ ڈاکٹر نور الحققادری صاحب کوپیش کی گئی تو یہ بہت بڑی بات ہے۔یہ با ت میرے ذہن میں بھی تھی چونکہ وہ بات ہو چکی تو میں اس سے ہٹ کر ایک اور پریکٹیکل بات کرنا چاہتا ہوں کہ بچپن سے ہم ایک حدیث سنتے آئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جب بھی سیدہ مخدومہ کائنات تشریف لایا کرتی تھیں۔آپ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا کرتے تھے۔ اب میری اور آپ کی ایک ریاست ہے اور وہ ریاست گھر کی چار دیواری ہے اور ا س چار دیواری کے اندر ہم نے اپنی بیٹیوں کی تربیت کرنی ہے۔ تربیت بہت بعد کی بات ہے ہم پہلے ایک سنت پر عمل کر لیں اور وہ سنت کونسی ہے؟ جسے ہم آج تک صرف سنتے اور سناتے ہیں۔سبحان اللہ کی چھل آتی ہے اور اس کے بعد وہ آواز بند ہو جاتی ہے میں اور آپ ذرا تھوڑی دیر کے لیے سیدہ خاتون جنت کانفرنس میں بیٹھے ہوئے سوچ لیں کہ ہم میں سے آج تک کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی بیٹی کا کھڑے ہو کر استقبال کیا ہے میری آپ سے گزارش ہے کہ یہ سنت نبوی ہے نبی کریم ؐنے ہمیشہ سیدہ مخدومہ کائنات کا استقبال کیا اب اگر میرے اور آپ کے آقا کھڑے ہو سکتے ہیں اپنی بیٹی کے استقبال کے لیے تو میں اور آپ بیٹی کے استقبال کے لیے کھڑے کیوں نہیں ہو سکتے؟
حضرات گرامی قد ر! بات یہ ہے کہ آج آپ اپنی بیٹی کی عزت افزائی کریں گے۔دنیا توآپ کے مخالف ہو سکتی ہے لیکن آپ کی بیٹی آپ کی عزت کو داغ دار نہیں ہونے دے گی اگر مثال دیکھنی ہے تو اس دور سے بھی دیکھ لیجیے میری اور آپ کی سیدہ کائنات کی عمر مبارک صرف سات سال تھی جب بابا جان کے ساتھ شعب ابی طالب میں جا کر وقت گزارہ تھا اور جا کر بتایا تھا کہ میری عمرتو کم ہے لیکن میرا سکوت تھوڑا نہیں ہے اگر پورے مکہ نے آپکا معاشرتی مقاطع کر دیا ہے تو کوئی بات نہیں میں آپ کی بیٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہوں اور وہ تربیت کا اثر تھا میرے آقانے جوعزت اپنی بیٹی کو دی تھی اس کا اثر تھا کہ کہیں سیدہ شعب ابی طالب میں اپنے والد کا ساتھ دیتی ہیں اور کہیں ان کا شہزادہ حسین کربلا کے میدان کے اندر جناب علی اکبر کو ذبح کروا دیتے ہیں۔جناب قاسم کو شہید کروا دیتے ہیں اور آواز یہ آتی ہے کہ حسین اتنی قبربانیاں کیوں دے رہا ہے تو حسین یہی کہتے ہیں کہ جس دین کی ناموس کا پاس میری ماں نے رکھا تھا اسی دین کی ناموس کا پاس میں حسین اپنے پورے خاندان کی قربانی دے کر رکھ رہا ہوں۔ حضرات گرامی قدر بس اتناسبق لے لیجیے اپنی بیٹیوں کو مان دینا سیکھ لیجیے رشتے وراثت میں حصہ دینا تو بعد کی بات ہے پہلے بیٹیوں کو عزت دیجیے آج اگر آپ بیٹیوں کو عزت دیں گے تو آپ ایک صحیح معنوں میں باپ بنیں گے اللہ کریم ہمیں ان باپ بیٹی کا فیض کریم حاصل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔امین

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں